Topics

دبلی ہوں ڈرپوک ہوں

سوال:  میں بچپن سے ڈرپوک ہوں۔ موت سے بیماری سے اس قدر خوفزدہ ہو جاتی ہوں کہ ساری رات نیند نہیں آتی۔ 8ماہ پہلے والد کا انتقال ہوا۔ والدہ کے انتقال سے پہلے ایک قریبی پڑوسن کا انتقال ہوا۔ ان دنوں مجھ پر اس قدر خوف طاری ہوا کہ بیان سے باہر ہے۔ ہر چیز میں اداسی محسوس ہوتی ہے۔ دل خوف سے تیز تیز دھڑکتا ہے میں کسی بھی شخص کا بیماری کا حال سن لوں یا موت کی خبر سن لوں یا کسی خطرناک بیماری کا پڑھ لوں تو میری حالت غیر ہو جاتی ہے۔ اسی وجہ سے میں بچپن سے بہت دبلی ہوں ایک رات کو میں سورہی تھی کہ اچانک دل کی دھڑکن بہت بڑھ گئی۔ نیند اڑ گئی اس وقت رات کے 2بجے تھے۔ اس قدر خوف محسوس ہوا۔ اس دن سے آج تک میری حالت بہت خراب ہے سیدھی طرف کمر کی ہڈی میں شدید درد رہتا ہے۔ شدید قبض اور گیس رہتی ہے۔ اکثر چکر آتے ہیں۔ ڈاکٹروں اور حکیموں سے بہت علاج کرایا ۔ کہتے ہیں تمہیں کوئی بیماری نہیں بس سوچنا اور ڈرنا چھوڑ دو۔ گھر والے بھی یہی سمجھاتے ہیں۔

جواب: حیرت کی بات ہے کہ ڈاکٹر حکیم نے یہ کس طرح کہہ دیا ہے کہ آپ کو کوئی بیماری نہیں ہے۔ گیس اور قبض جس کی آپ نے از خود نشاندہی کی ہے۔ دونوں بڑی بیماریاں ہیں۔ آپ کا ماہانہ نظام بھی درست ہے ساری بات یہ ہے کہ قبض کا علاج ہو جانے سے آپ کی ساری تکلیفوں کا ازالہ ہو جائے گا۔ کسی لیڈی ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور علاج میں دواؤں کی بہ نسبت غذاؤں سے علاج کریں۔

Topics


Khawateen Ke Masil

خواجہ شمس الدین عظیمی


حضرت خواجہ الشیخ عظیمی صاحب کو لوگوں کے مسائل اور مشکلات سے متعلق ہر ماہ تقریباً 15ہزار خطوط موصول ہوتے ہیں۔ جن کا جواب بلا معاوضہ دیا جاتا ہے۔ روزنامہ جنگ میں ایک کالم “روحانی ڈاک” کے نام سے مرشد کریم نے 25سال سے زیادہ عرصہ لکھا اور یہ کتاب اسی روحانی ڈاک سے تیار کی گئی ہے۔ میرے مرشد کریم اس وقت 32سے زائد کتابوں اور 72سے زائد کتابچوں کے مصنف ہیں۔میرے مرشد کریم سلسلہ عظیمیہ کے خانوادہ ہیں۔ اور 21بزرگان دین سے بطریق اویسیہ اور براہ راست آپ کو فیض منتقل ہوا ہے۔ اس کی تفصیل آپ میری کتاب “میں اور میرا مرشد” میں پڑھیں گے۔میرے مرشد کریم فرماتے ہیں کہ جتنے مسائل و مشکلات اور بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ ان کا تعلق عقیدہ کی کمزوری سے ہے اور عقیدہ کی کمزوری مادہ پرستی سے ہوتی ہے۔ ہر شخص اس بات کو جانتا ہے کہ آج کے دور میں مادیت انسان کی اتنی بڑی کمزوری بن گئی ہے کہ ہر انسان مادی کشمکش میں مبتلا ہو کر اپنی روح سے دور ہو گیا ہے۔ اور جیسے جیسے روح سے دوری واقع ہوئی اسی مناسبت سے انسان شک اور وسوسوں کی آماجگاہ بن گیا۔ اب سے 70سال پہلے انسان کے اندر جو یقین تھا وہ اب نظر نہیں آتا۔ پہلے انسان جس سکون سے آشنا تھا۔ وہ اب کہیں نظر نہیں آتا۔ انسان نے جس قدر سائنسی ترقی کی ہے اسی قدر وہ مذہب سے دور ہو گیا ہے۔ اور اس کا عقیدہ کمزور ہو گیا ہے۔ س