Topics

گھر میدان جنگ بنا رہتا ہے

سوال: عرض ہے کہ گھر میں ہم پانچ افراد رہتے ہیں۔ میں خود، میری چھوٹی بہن، نانا، نانی اور والدہ۔ ہمارے والد گھر والوں سے ناراض ہو کر بیرون ملک چلے گئے ہیں۔ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے گھر والوں کو لڑتے جھگڑتے دیکھا ہے۔ ہمارے بزرگ غصہ کے بہت تیز ہیں۔ کسی کی عزت نہیں کرتے، محلے والوں سے اپنے کام تو کروا لیتے ہیں لیکن اگر میں یا میری بہن کسی کا کام کر دیں تو بہت ناراض ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی کا کام مت کرو۔ تم ان کے نوکر تو نہیں ہو۔ ہر ایک رشتہ دار اور پڑوسی وغیرہ سے ایسی باتیں کر دیتے ہیں کہ لوگ ناراض ہو جاتے ہیں اور ہمیں ان لوگوں سے معافیاں مانگنی پڑتی ہیں۔ مہمانوں کی خاطر تواضع نہیں کرنے دیتے۔ کہتے ہیں کہ ہمارے مہمان ہیں۔ تمہیں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ گھر میں کوئی آئے کوئی جائے۔ آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔ کوئی بھی کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔ اگر ہم منع کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہمارا گھر ہے۔ ہم بول سکتے ہیں۔

ہم لوگ بہت امیر نہ سہی لیکن بہت غریب بھی نہیں ہیں۔ لیکن ہمارے سر پرست ہر وقت ناشکری کرتے رہتے ہیں۔ کسی کو تحفہ دینے کا وقت آئے تو یہ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ ہماری اتنی استطاعت نہیں ہے۔ ذرا سی پریشانی پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم سے زیادہ پریشان دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ گھر کے لئے کوئی خرچہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ نہ ہم لوگوں کے کپڑے بناتے ہیں۔ ہماری امی کا مزاج بھی بہت خراب ہے۔ وہ بھی ہر وقت لڑتی رہتی ہیں۔ گالیاں تک دیتی ہیں۔ گالیاں دینے کی عادت تو سبھی کو ہے۔

اب ہمارے گھر کی حالت یہ ہے کہ گھر میں سب بیمار ہیں۔ نانا کو ہائی بلڈ پریشر ہے اور ان کے دل کا والو لیک کرتا ہے۔ اب انہیں اعصابی مرض ہو گیا ہے۔ سیدھا ہاتھ گٹے تک اور سیدھا پاؤں ٹخنے تک مفلوج ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر نے آپریشن تجویز کیا تھا لیکن صحت کی خرابی کی وجہ سے آپریشن کرانے سے منع کر دیا اور یہ بھی کہا کہ ایلوپیتھک میں آپریشن کے علاوہ کوئی علاج نہیں ہے۔ اس لئے دوائیں بھی نہیں دیں۔ اب ہم نے حکیم کا علاج شروع کیا ہے۔ امید ہے کہ فائدہ ہو گا۔ دوسری طرف امی کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی۔ ان کا ایمرجنسی میں آپریشن ہوا۔ ان کٹھن حالات میں ہم دونوں بہنوں نے گھر کو سنبھالا۔ باہر کے کام بھی کئے۔ اپنی پڑھائی پر بھی توجہ دی۔ ٹیوشن بھی جاری رکھی۔ گھر میں سب بیمار ہیں۔ پھر بھی لڑائی جھگڑوں میں کمی نہیں آئی۔ بلکہ روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان حالات کی وجہ سے ہم دونوں بہنوں کا مزاج بھی خراب ہو گیا ہے۔ خاص طور پر مجھے بہت غصہ آتا ہے اور ہم بھی اپنے بڑوں سے لڑتے ہیں۔ گھر میدان جنگ بنا رہتا ہے اور محلے والے تماشہ دیکھتے رہتے ہیں۔

ہم لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے گھر کے جھگڑے ختم ہو جائیں۔ سب ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ بزرگوں کا احترام ہو اور چھوٹوں کو ان کا صحیح مقام ملے۔ سب ایک دوسرے سے بحث نہ کریں۔ اور باہر والے بھی ہمارے گھر والوں کا احترام کریں۔

جواب: صبح بہت سویرے بیدار ہو کر فجر کی نماز قائم کریں خوب دعائیں مانگیں۔ اس کے بعد لکڑی لے کر سلگاکر ان کے اوپر لوبان ڈال دیں۔ تا کہ گھر میں اچھی طرح دھواں ہو جائے پھر ایک بار یا ودود پڑھ کر پانی پر دم کر کے خود بھی پئیں اور گھر والوں کو بھی پلائیں۔ جب تک حالات صحیح  نہ ہوں اور گھر کی فضا پُر سکون  نہ ہو ں یہ عمل جاری رکھیں۔ 


Topics


Roohani Daak (4)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔