Topics

روحوں کے سر نظر آتے ہیں

سوال: آپ کی مصروفیت اور قیمتی وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن میرے تین چار مہینے پہلے لکھے ہوئے خط کا جواب نہیں آیا۔ 

اس لئے مجبوراً لکھ رہا ہوں اور اس مجبوری میں ماں کی مامتا بھی شامل ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کو میرا خط نہ ملا ہو۔

میری والدہ صاحبہ کو جلدی بیماری ہو گئی ہے۔ سارے بدن پر سرخ چکتے اور سوجن ہے۔ سیدھا پنجہ سوکھ گیا ہے۔ انگلیوں کا گوشت جھڑ گیا ہے۔ کافی نامور ڈاکٹروں سے علاج کرایا ہے جنہوں نے کافی مقدار میں گولیاں کھلائیں اور اب کہتے ہیں کہ لا علاج ہے اور عمر کا تقاضا ہے۔ میری والدہ قریب 82سال کی ہیں۔

اب کچھ دنوں سے انہیں رات دن بدارواح کے سر دکھائی دیتے ہیں۔ آنکھیں بند کر لیتی ہیں تو وہی چہرے ڈراؤنے ہو جاتے ہیں۔ 

رات میں کچھ زیادہ تکلیف رہتی ہے۔ کسی جانکار نے بتلایا ہے کہ تمہارے شوہر اور بزرگوں کی ارواحیں ہیں۔ ماں کا شک ہے کہ قریبی رشتہ داروں میں سے کسی نے کچھ کھلا پلا دیا ہے یا سفلی جادو ہے۔

بابا میری ماں کی بیماری کی تشخیص کر دیں۔ اب میں ریٹائر ہو گیا ہوں۔ اب چاہتا ہوں کہ ماں کی جی جان سے سیوا کروں۔ ماں نے Will Powerکھو دی ہے۔ خود سے چل نہیں سکتیں۔ باقی بینائی کمزور ہے اور مندرجہ بالا شکایت سے میری بے چینی اور ماں کی تکلیف کو دیکھتے ہوئے اگر جواب سے جلد از جلد نوازیں تو بندہ تا عمر ممنون رہے گا۔ محفل مراقبہ میں دعا کا خواستگار ہوں۔

جواب: ایک بڑے موٹے اور چکنے کاغذ پر سیدھی سیدھی سطروں میں 9کا ہندسہ کالی چمکدار روشنائی سے لکھیں۔ 9کا ہندسہ آپ ہندی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔ اس لکھے ہوئے کاغذ کو ماں جی کے سر سے پیر تک تین مرتبہ ملیں اور کاغذ کو جلا دیں۔ روزانہ اس عمل کو 21روز تک کریں۔ کھانوں میں نمک اور لال مرچ اور کھٹاس اچار وغیرہ بالکل نہ دیں۔ رات سوتے وقت دو چمچی شہد کھلا دیا کریں۔ محفل مراقبہ میں دعا کرا دی گئی ہے۔ اللہ کی ذات سے یقین ہے ماں جی کی طبیعت ٹھیک ہو جائے گی۔ ایک کام یہ کرنا ہے کہ ہر بدھوار کو روٹی پر شہد یا مکھن چپڑ کر شام کے وقت کتے کو کھلا دیا کریں اور یہ عمل پانچ بدھوار تک جاری رکھیں۔ سرگباش پتا جی کے لئے خیرات کریں اور غریب لوگوں کو کھانا کھلا دیا کریں۔


Topics


Roohani Daak (4)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔