Topics

مور کے پر ۔ آسیب


عبدالرافع (لاہور) :چھوٹی بہن ایک مرتبہ رات کو چھت پر گئی تو اندھیرے میں کسی کو ٹہلتے ہوئے دیکھ کر ڈر گئی اور آسیب سمجھ کر بے ہوش ہوگئی جسے ٹہلتے ہوئے دیکھا، وہ بڑی بہن تھیں۔ ہوش میں آنے کے بعد چھوٹی بہن کو بتایا کہ چھت پرآسیب نہیں باجی تھیں لیکن وہ کہتی ہے کہ ہم اسے بہلانے کے لئے ایسا کہہ رہے ہیں کیوں کہ باجی رات کو چھت پر جانے سے گریز کرتی ہیں۔بہن انتہائی خوف اور وہم میں مبتلا ہوگئی ہے۔ سر اور پیٹ میں درد کی شکایت کرتی ہے۔ رات کو ہلکی آہٹ پر چہرے کا رنگ بدل جاتا ہے۔صرف اس کمرے میں بیٹھتی ہے جہاں سب موجود ہوتے ہیں۔ بہن بھوت اور چڑیل کی کہانیوں کی وجہ سے پہلے بھی اندھیرے سے ڈرتی تھی۔ اب وہ بضد ہے کہ گھر تبدیل کیا جائے۔ ڈر ہے کہ وہ آسیب کے خوف سے ذہنی توازن نہ کھو بیٹھے۔


جواب: مور کے نقش و نگار سے مزین بہت سارے پرجمع کرکے ان پروں میں سے ہڈی الگ کیجئے۔ جو پر رہ جائیں، ان سے لکھئے۔

”اللہ کے دوستوں کو خوف اورغم نہیں ہوتا“

طریقہ : کسی خوش نویس سے چکنے سفید کاغذ پرموٹےقلم سے لکھوائیے۔ خط واضح اور کھلا ہو تاکہ مور کے پر اس پر آسانی سے چپک جائیں۔ کاغذ کو سیاہ مخمل پر رکھ کر فریم کروالیجئے ۔ بہن صبح ، دوپہر ، شام اور رات کو الارم لگا کر تین تین منٹ اس کو نظر جماکر دیکھے۔ بہن کے کھانے میں پھیکی اورمیٹھی چیزوں کا استعمال بڑھا دیجئے۔ دو ہفتے تک کوئی نمکین اورکھٹی چیز نہ کھائے۔ رات کودودھ میں تین کھجوریں بھگو کر صبح ناشتے میں دیجئے اور مغرب ہوتے ہی ایک چمچ خالص شہد کھلائیے۔ پریشانی دور ہوجائے گی، انشاءاﷲ۔



’’ماہنامہ قلندر شعور‘‘ (مارچ 2023ء) 

Topics


Parapsychology se masil ka hal

خواجہ شمس الدین عظیمی


معاشرے میں افراتفری کی وجہ یہ ہے کہ فرد اپنی اصل سے دور ہوگیا ہے۔ سبب خود فرد کی نفسیات ہے اور نفسیات ماحول سے منسلک ہے جس میں وہ رہتا ہے۔ ہر چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کام تخلیق ہے، تخلیق کا محرک خیال ہے اور خیال کا خالق رحمٰن و رحیم اللہ احسن الخالقین ہے۔