Topics

مجمع البحرین

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ اس ملاقات کا ہے جو ان کے اور ایک صاحب باطن کے درمیان ہوئی، 

نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے کہ:

’’ایک روز حضرت موسیٰ علیہ السلام تبلیغ کر رہے تھے کہ ایک شخص نے سوال کیا اس زمانے میں سب سے بڑا عالم کون ہے؟ 

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ نے مجھے سب سے زیادہ علم عطا کیا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کو یہ بات اچھی نہیں لگی فرمایا:

’’اے موسیٰ! جہاں وہ سمندر (مجمع البحرین) ملتے ہیں وہاں ہمارا ایک بندہ ہے جو بعض امور میں تم سے زیادہ عالم و دانا ہے۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:

’’پروردگار اس بندے تک پہنچنے کا کیا طریقہ ہے؟‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’مچھلی اپنے توشہ دان میں رکھ لو جس مقام پر مچھلی گم ہو جائے اسی جگہ وہ شخص ملے گا۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی کو توشہ دان میں رکھا اپنے خلیفہ حضرت یوشع نونؑ کو لے کر مرد صالح کی تلاش میں روانہ ہو گئے، چلتے چلتے تھک گئے تو ایک مقام پر سر کے نیچے پتھر رکھ کر سو گئے، مچھلی زندہ ہوئی اور توشہ دان میں سے نکل کر سمندر میں چلی گئی مچھلی تیرتی ہوئی جہاں تک گئی وہاں پانی برف کی طرح جمع کر ایک لکیر بن گیا۔ یہ واقعہ حضرت یوشع نے دیکھ لیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بیدار ہوئے تو ان سے ذکر کرنا بھول گئے۔ دونوں نے اپنا سفر دوبارہ شروع کر دیا۔ چلتے چلتے بہت آگے نکل آئے دونوں کو تھکن محسوس ہونے لگی تو ایک مقام پر رک گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یوشع سے کہا۔ ’’بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ 

حضرت یوشع نے بتایا کہ جب ہم پتھر کی چٹان پر سور ہے تھے تو میری آنکھ کھل گئی ۔ ایک عجیب واقعہ پیش آیا، میں نے دیکھا مچھلی توشہ دان میں سے نکل کر سمندر میں چلی گئی میں آپ کو یہ بات بتانا بھول گیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:

’’جس مقام کو ہم تلاش کر رہے تھے وہی مقام تھا۔ دونوں واپس پتھر کی چٹان پر پہنچ گئے۔ وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے سلام کیا اور بتایا کہ میرا نام موسیٰ ہے۔ اس شخص نے پوچھا، موسیٰ بنی اسرائیل؟ حضرت موسیٰ نے کہا۔ 

’’ہاں۔‘‘ پھر بولے میں آپ سے علم حاصل کرنے آیا ہوں، جو خدا نے آپ کو بخشا ہے۔ اس بندے نے جن کو خضر کہا جاتا ہے، کہا:

’’موسیٰ! تم میرے ساتھ رہ کر ان معاملات پر صبر نہیں کر سکو گے۔‘‘

حضرت موسیٰ نے کہا:

’’انشاء اللہ مجھ کو آپ صابر پائیں گے۔‘‘

سوال نہ کیا جائے

حضرت خضر نے کہا:

’’تو پھر شرط یہ ہے کہ جب تک آپ میرے ساتھ رہیں کسی معاملے میں مجھ سے سوال نہ کریں۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے منظور کر لیا۔ دونوں چل پڑے سمندر کے کنارے پہنچے حضرت خضر نے ملاحوں سے کرایہ پوچھا، وہ حضرت خضر کو پہچانتے تھے اس لئے کرایہ لینے سے انکار کر دیا اور اصرار کر کے دونوں کو کشتی میں سوار کر لیا، ابھی کشتی کو چلتے ہوئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی، حضرت خضر نے ایک تختہ اکھاڑ کر کشتی میں سوراخ کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ضبط نہ ہو سکا، کہا۔

’’کشتی والوں نے یہ احسان کیا کہ مفت میں سوار کر لیا اور آپ نے اس کا یہ بدلہ دیا کہ کشتی میں سوراخ کر دیا۔‘‘

حضرت خضر نے کہا:

’’میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ آپ میری باتوں پر صبر نہیں کر سکیں گے۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا:

’’میں بھول گیا تھا، آپ درگزر کر دیں۔‘‘

کشتی کنارے لگی تو دونوں اتر کر ایک جانب روانہ ہو گئے۔ ایک میدان میں پہنچے کچھ بچے کھیل رہے تھے۔ حضرت خضر آگے بڑھے اور ان میں سے ایک بچہ کو قتل کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے برداشت نہ ہو سکا۔ کہا:

’’ناحق آپ نے ایک معصوم کی جان لے لی۔ یہ تو بہت برا ہوا۔‘‘

حضرت خضر نے کہا:

’’میں نے آپ سے شروع میں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر و ضبط سے کام نہیں لیں گے۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا:

’’اس مرتبہ اور نظر انداز کر دیجئے اس کے بعد کوئی عذر نہیں رہے گا اور آپ مجھ سے علیحدہ ہو جائیں گے۔‘‘

دونوں چلتے رہے۔ چلتے چلتے ایک بستی میں پہنچ گئے، یہاں کے لوگ بہت مالدار تھے مگر دونوں کو مسافر رکھنے سے انکار کر دیا، بستی میں سے گزر رہے تھے کہ دیکھا ایک مکان کی دیوارجھکی ہوئی ہے جس کے گر جانے کا اندیشہ ہے۔ حضرت خضر آگے بڑھے اور دیوار کو درست کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا:

’’بستی والوں نے نہ ہماری مہمانداری کی اور نہ ہمیں ٹھہرنے کی جگہ دی، آپ نے بغیر اجرت کے دیوار بنا دی۔‘‘

حضرت خضرؑ نے کہا:

’’اس سفر میں میرا اور آپ کا ساتھ سفر ہوا۔ جو کچھ آپ نے دیکھا وہ منجانب اللہ تھا۔‘‘

پھر انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان تینوں واقعات کے حقائق بتائے۔

سورہ کہف میں اس واقعہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:

’’بس اب مجھ میں اور تم میں جدائی کا وقت آ گیا ہے، ہاں جن باتوں پر تم سے صبر نہ ہو سکا ان کی حقیقت تم کو بتلا دوں۔‘‘

(سورہ کہف: ۷۸۔۷۹)

۱۔ سب سے پہلے کشتی کا معاملہ پیش آیا وہ چند مسکینوں کی تھی جو سمندر میں محنت مزدوری کرتے تھے، وہ جہاں جا رہے تھے، وہاں کا بادشاہ ظالم تھا، کسی اچھی کشتی کو دیکھتا تو چھین لیتا تھا میں نے کشتی میں عیب کر دیا تا کہ وہ کشتی پر قبضہ نہ کرے۔ 

۲۔ لڑکے کے ماں باپ مومن تھے میں نے دیکھا کہ جوان ہو کر ان کا بیٹا سرکشی اور کفر کر کے اپنے ماں باپ کو اذیت پہنچائے گا اس لئے میں نے اس کو قتل کر دیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کے والدین کو دین دار، پرہیز گار اور محبت کرنے والا بیٹا عنایت فرمائے۔

۳۔ اور دیوار کا معاملہ ہے کہ یہ گھر یتیم لڑکوں کا تھا، دیوار کے نیچے ان کے لئے خزانہ دفن تھا، تمہارے رب نے چاہا کہ دونوں لڑکے جوان ہو کر اپنا محفوظ خزانہ نکال لیں، یہ ان لڑکوں کے حال پر پروردگار کی ایک مہربانی تھی جو اس طرح عمل میں آئی۔ یاد رکھو میں نے جو کچھ کیا اپنے اختیار سے نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے کیا۔


Topics


Mohammad Rasool Allah (3)

خواجہ شمس الدین عظیمی

قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس میں کوئی سورہ، کوئی آیت اور کوئی نقطہ مفہوم و معانی سے خالی نہیں ہے۔ اﷲ کے علوم لامتناہی ہیں۔ اﷲ کا منشاء یہ ہے کہ ہم لوگوں کو آگے بڑھتا دیکھ کر خود بھی قدم بڑھائیں اور اﷲ کی نعمتوں کے معمور خزانوں سے فائدہ اٹھائیں۔ قرآن پاک میں انبیاء سے متعلق جتنے واقعات بیان ہوئے ہیں ان میں ہمارے لئے اور تمام نوع انسانی کیلئے ہدایت اور روشنی ہے۔ کتاب محمد رسول اﷲ۔ جلد سوئم میں عظیمی صاحب نے مختلف انبیاء کرام کے واقعات میں روحانی نقطۂ نظر سے اﷲ تعالیٰ کی حکمت بیان فرمائی ہے۔