Topics

فرشتوں کی فوج

حضرت الیسع  نے بارہا بادشاہ اسرائیل کی معجزات سے مدد کی۔

دمشق اور اسرائیل کی جنگ میں آپ شاہ اسرائیل کو شاہِ ارام (دمشق) کے عسکری منصوبہ بندی سے آگاہ کرتے تھے۔ اسرائیلی افواج آپ کی ہدایت اور رہنمائی سے فتحیاب ہو جاتی تھیں۔ جب ایسا متعدد بار ہونے لگا تو شاہِ ارام کے دل میں خدشہ لاحق ہوا کہ اس کی فوج میں شاہ اسرائیل کا جاسوس موجود ہے۔ اس نے امراء اور عمائدین کو بلا کر اپنے خدشے کا اظہار کیا۔ ان میں سے کسی نے کہا!

’’نہیں میرے مالک! اے بادشاہ! بلکہ الیسع جو اسرائیل میں نبی ہے تیری ان باتوں کو جو تو اپنی خلوت گاہ میں کہتا ہے شاہ اسرائیل کو بتا دیتا ہے۔‘‘

شاہ ارام نے آپ کے قتل کا منصوبہ بنایا اور ایک عظیم الشان لشکر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے روانہ کیا۔ لشکر نے راتوں رات شہر کا محاصرہ کر لیا۔ حضرت الیسع علیہ السلام کا دوست جب صبح اٹھ کر باہر نکلا تو شہر کے اطراف ارامی لشکر کو دیکھ کر پریشانی کے عالم میں حضرت الیسع علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا! 

’’خوف نہ کر کیونکہ ہمارے ساتھ والے ان کے ساتھ والوں سے زیادہ ہیں۔‘‘

(۲۔ سلاطین)

یہ کہہ کر آپ نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی!

’’اے خداوند اس کی آنکھیں کھول دے تا کہ وہ دیکھ سکے۔‘‘

(۲۔سلاطین)

دعا قبول ہوئی اور دوست کی باطنی نظر کھل گئی۔ اس نے دیکھا کہ حضرت الیسع علیہ السلام کے ارد گرد فرشتوں کی فوج گھوڑوں اور رتھوں میں سوار ہے۔ ارامی لشکر جب حضرت الیسع علیہ السلام کی طرف بڑھا تو آپ نے فرمایا! ’’اندھے ہو جاؤ۔‘‘ ارامی فوج اندھی ہو گئی۔ آپ اندھی فوج کو لئے سامریہ چلے آئے اور وہاں دعا کی اور ارامی فوج کی بینائی واپس آ گئی۔ شاہ اسرائیل نے حضرت الیسع علیہ السلام سے ارامی فوج پر حملے کی اجازت چاہی۔ لیکن آپ نے کمال مہربانی اور شفقت سے اس کو منع کر دیا اور فرمایا! 

’’تو ان کو نہ مار۔ تو ان کو مار دیتا ہے جو تیرے اسیر ہو جاتے ہیں؟ تو ان کے آگے روٹی اور پانی رکھ تا کہ وہ کھائیں پئیں اور اپنے آقا کے پاس واپس جائیں۔‘‘

(۲۔سلاطین)

شاہ اسرائیل نے حسب ارشاد عمل کیا اور ارامی فوج کو کھلا پلا کر واپس جانے کی اجازت دے دی۔

اس واقعہ کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد بادشاہ بن ہددؔ (شاہ ارام) نے اپنی تمام تر عسکری قوت مجتمع کر کے سامریہ کا محاصرہ کر لیا۔ 

محاصرہ اس قدر طویل اور سخت تھا کہ سامریہ میں قحط پڑ گیا۔

چاندی کے اسی سکے

 توراۃ کے مطابق قحط کے اس دور میں گدھے کا سر چاندی کے اسی سکوں میں بکنے لگا۔ یہاں تک کہ بھوک کی شدت نے لوگوں کو آدم خوری پر مجبور کر دیا۔ کتاب ۲۔سلاطین باب ۶ میں قحط کے اس دور کا ایک واقعہ مذکور ہے۔

’’اور جب شاہ اسرائیل دیدار پر جا رہا تھا تو ایک عورت نے اس کی دہائی دی اور کہا کہ اے میرے مالک! اے بادشاہ مدد کر۔ بادشاہ نے کہا کہ اگر خداوند ہی تیری مدد نہ کرے تو میں کہاں سے تیری مدد کروں؟‘‘

پھر بادشاہ نے اس سے کہا تجھے کیا ہوا؟ اس نے جواب دیا۔ اس عورت نے مجھ سے کہا کہ اپنا بیٹا دے دے تا کہ ہم آج کے دن اسے کھائیں اور جو میرا بیٹا ہے اسے ہم کل کھائیں گے۔ سو میرے بیٹے کو اس نے پکایا اور اسے کھا لیا اور دوسرے دن میں نے اس سے کہا اپنا بیٹا لا تا کہ ہم اسے کھائیں لیکن اس نے اپنا بیٹا چھپا دیا۔

بادشاہ نے عورت کی دلدوز باتیں سن کر اپنے کپڑے پھاڑ دیئے۔ اس نے یہ سوچ کر ایک نبی کے ہوتے ہوئے لوگ آدم خوری پر مجبور ہو جائیں شدت دیوانگی میں کہا!

’’اگر آج ساقط کے بیٹے الیسع کا سر اس کے تن پر رہ جائے تو خدا مجھ سے ایسا یا اس سے زیادہ کرے۔‘‘

(۲۔سلاطین)

بادشاہ نے ایک قاصد حضرت الیسع علیہ السلام کے پاس روانہ کیا۔ آپ اس وقت اپنے گھر میں چند لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس سے پہلے کہ قاصد آپ کے پاس آتا آپ نے لوگوں سے فرمایا!

’’تم دیکھتے ہو کہ اس قاتل زادہ نے میرا سر اڑا دینے کو ایک آدمی بھیجا ہے؟ سو دیکھو جب وہ قاصد آئے تو دروازہ بند کر لینا اور مضبوطی سے دروازے کو اس کے مقابل پکڑے رہنا۔ کیا اس کے پیچھے پیچھے اس کے آقا کے پاؤں کی آہٹ نہیں؟‘‘

ابھی وہ یہ گفتگو کر ہی رہے تھے کہ قاصد آپ کے پاس آ پہنچا۔ حضرت الیسع علیہ السلام نے قاصد کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا! 

’’تم خداوند کی بات سنو۔ خداوند یوں فرماتا ہے کہ کل اسی وقت سامریہ کے پھاٹک پر ایک مشقال میں ایک پیمانہ میدہ اور ایک ہی مشقال میں دو پیمانے جو (Barley) بکے گا۔‘‘

قاصد کو آپ کی باتوں پر یقین نہیں آیا اور اس نے بے یقینی سے کہا!

’’اگر خداوند آسمان میں کھڑکیاں بھی لگا دے تو بھی یہ بات پوری نہیں ہو سکتی۔‘‘

آپ نے فرمایا!

’’سن! تو اسے اپنی آنکھوں سے دیکھے گا پر اس میں سے کچھ کھانے نہ پائے گا۔‘‘

دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے ارامی لشکر کو غیب سے ایک بڑی فوج کی آواز سنوائی۔ ارامی لشکر یہ سمجھے کہ شاہ اسرائیل کی مدد کے لئے حتی اور مصری فوج آ گئی ہے لہٰذا ارامی لشکر جیسے تیسے کر کے چھاؤنی چھوڑ کر بھاگ گیا۔ میدان جنگ کی طرف سے چار کوڑھیوں کا گزر ہوا تو وہ اندر گھس گئے اور خوب کھایا پیا۔ کھانے پینے کے بعد انہیں خیال آیا کہ اس کی اطلاع بادشاہ کو دینی چاہئے۔ انہوں نے بادشاہ تک یہ خبر پہنچا دی۔ بادشاہ نے تصدیق کے لئے ہرکارے بھیجے۔ انہوں نے واپس آ کر تصدیق کی۔ بادشاہ نے اسی قاصد کو جسے حضرت الیسع علیہ السلام کے پاس بھیجا تھا شہر کے پھاٹک پر مقرر کیا اور ہدایت کی کہ لوگوں کو ارامی لشکر گاہ کی طرف قطار بنا کر جانے دیا جائے۔ لیکن ایک عرصے سے بھوک اور افلاس میں مبتلا لوگ قطار توڑ کر لشکر گاہ کی طرف چڑھ دوڑے۔ اس دھکم پیل میں قاصد زمین پر گر گیا اور لوگوں کے پیروں تلے کچل کر مر گیا۔ حضرت الیسع علیہ السلام کی پیشن گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی اور اس قاصد نے ایک مشقال میں ایک پیمانہ میدہ اور ایک مشقال میں دو پیمانے جو بکتے ہوئے دیکھا لیکن وہ کچھ نہ کھا سکا اور بھوک سے مر گیا۔

دعا کی درخواست

اسرائیلی بادشاہ یو آس (جیہوش) نے آپ سے اپنی حکومت کی سلامتی اور دشمنوں (ارامیوں) پر فتح اور غلبہ حاصل کرنے کے لئے دعا کی درخواست کی۔ آپ نے یو آس کو ہدایت کی کہ وہ مشرق کی سمت تیر چلائے۔ یو آس نے حسب حکم عمل کیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تیر، ارام پر فتح پانے کا ہے۔ پھر آپ نے یو آس کو حکم دیا کہ تیروں کو زمین پر مار۔ یو آس تین بار زمین پر تیر مار کر رک گیا آپ نے یو آس سے فرمایا!

’’تجھے پانچ یا چھ بار مارنا چاہئے تھا۔ تب تو ارامیوں کو اتنا مارتا کہ ان کو نابود کر دیتا لیکن اب تو ارامیوں کو تین بار شکست دے گا۔‘‘

توحید کے پرچار کے سلسلے میں حضرت الیسع مسلسل کوشش و محنت کے باوجود اور حضرت الیسع علیہ السلام کی ذات سے صادر ہونے والے بے شمار معجزات کے مشاہدے کے بعد بھی جب آپ کی قوم راہ راست پر نہ آئی اور نافرمانی اور سرکشی پر بضد رہی تو آپ نے بارگاہ الٰہی میں استدعا کی کہ میں اب اس قوم کے درمیان رہنا نہیں چاہتا۔ اے اللہ! مجھے دائمی حضوری فرما۔ دعا قبول ہوئی اور آپ عالم بقا میں تشریف لے گئے۔ حضرت الیسع علیہ السلام اپنے آبائی گاؤں ایبل محولہ میں مدفون ہیں۔

آپ کے وصال  کے کچھ عرصے بعد لوگوں نے ایک مردہ آپؑ کی قبر میں دفن کرنا چاہا۔ جب اس مردے کا جسم آپؑ کے جسدِ اطہر سےمس ہوا تو وہ زندہ ہوکر بیٹھ گیا۔


Topics


Mohammad Rasool Allah (3)

خواجہ شمس الدین عظیمی

قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس میں کوئی سورہ، کوئی آیت اور کوئی نقطہ مفہوم و معانی سے خالی نہیں ہے۔ اﷲ کے علوم لامتناہی ہیں۔ اﷲ کا منشاء یہ ہے کہ ہم لوگوں کو آگے بڑھتا دیکھ کر خود بھی قدم بڑھائیں اور اﷲ کی نعمتوں کے معمور خزانوں سے فائدہ اٹھائیں۔ قرآن پاک میں انبیاء سے متعلق جتنے واقعات بیان ہوئے ہیں ان میں ہمارے لئے اور تمام نوع انسانی کیلئے ہدایت اور روشنی ہے۔ کتاب محمد رسول اﷲ۔ جلد سوئم میں عظیمی صاحب نے مختلف انبیاء کرام کے واقعات میں روحانی نقطۂ نظر سے اﷲ تعالیٰ کی حکمت بیان فرمائی ہے۔