Topics
خواب ایسی ایجنسی ہے جس
کی معرفت انسان کو غیب کا کشف حاصل ہوتا ہے۔ خواب کا علم انسان کو ماورائی اطلاعات
فراہم کرتا ہے۔ یہ علم بتاتا ہے کہ روح ہمہ وقت حرکت میں رہتی ہے۔ جس طرح بیداری
کا پورا وقفہ کسی نہ کسی طرح حرکت سے عبارت ہے اسی طرح خواب کی زندگی بھی حرکت کے
تابع ہے۔ انسان بیداری میں جسمانی حرکات سے اس لئے واقف رہتا ہے کہ بیداری میں
شعوری حرکت قائم رہتی ہے۔ جب ہم بیدار ہوتے ہیں تو حواس بیرونی ماحول سے رشتہ قائم
کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ ہمہ وقت کوئی نہ کوئی اسطباعیہ نقش اعصاب کو حرکت
دیتا رہتا ہے اور اس کے اشارے پر ہمارا جسم متحرک رہتا ہے۔ جب ہم سو جاتے ہیں تو
جسمانی حرکات پر سکوت طاری ہو جاتا ہے لیکن انا یا نفس کا فعال کردار ختم نہیں
ہوتا۔ خواب میں اگرچہ فرد کا جسم معطل ہوتا ہے لیکن وہ تمام حرکات و سکنات کو اپنے
سامنے اسی طرح دیکھتا ہے جس طرح بیداری میں دیکھتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ وقت اور فاصلے
کی رائج پابندیاں قائم نہیں رہتیں۔
خواب میں خاکی حواس مغلوب
ہوتے ہیں لیکن روح جن واردات و حوادث سے گزرتی ہے انہیں ہمارا ذہن اس حد تک سمجھتا
ہے جس حد تک اس کی دلچسپی ان سے وابستہ رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم خواب کے ان حصوں
کو بیان کر سکتے ہیں جن پر دلچسپی کی بناء پر ہماری توجہ مرکوز ہو جاتی ہے اور جن
واقعات پر ہماری توجہ نہیں ہوتی۔ ان واقعات کی کڑیاں ملانے سے ہمارا شعور عاجز
رہتا ہے۔
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ
شعور روح کی واردات کو مربوط حالت میں دیکھ لیتا ہے اور روح کی حرکت شعور میں اس
طرح سما جاتی ہے کہ اس میں معنی پہنانا ذرا بھی مشکل نہیں ہوتا۔ اس ہی حالت کو سچا
خواب کہتے ہیں اور یہی کیفیت ترقی کر کے کشف و الہام بن جاتی ہے۔
نفس یا انا کی ایک صلاحیت
جو بیداری اور خواب دونوں میں متحرک رہتی ہے۔ قوت حافظہ ہے۔ انسان زندگی کے ہر قدم
پر اس قوت سے کام لیتا ہے لیکن اس پر غور نہیں کرتا کہ بچپن کے زمانے کا تصور کیا
جائے تو ایک لمحہ میں ذہن بچپن کے واقعات کا احاطہ کر لیتا ہے۔ اگرچہ ہم سالوں کا
وقفہ گزار چکے ہیں اور ہزار ہا تبدیلیوں سے گزر چکے ہیں لیکن ذہن جب ماضی کی طرف
سفر کرتا ہے تو سالوں پر محیط عرصہ کو سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں طے کر کے بچپن کے
زمانے میں پہنچ جاتا ہے۔ ہم ماضی کے واقعات کو نہ صرف محسوس کر لیتے ہیں بلکہ یہ
واقعات اس طرح نظر آتے ہیں جیسے آدمی کوئی فلم دیکھ رہا ہے۔
کبھی کبھی احساسات اتنے
گہرے ہو جاتے ہیں کہ شعور ان کا ادراک کر لیتا ہے۔ اگر کسی کام میں بہت زیادہ
یکسوئی ہو جائے اور شعوری واردات ایک مرکز پر ٹھہر جائے تو یہ بات تجرباتی مشاہدہ
بن جاتی ہے۔
انسان محض گوشت پوست کے
جسم کا نام نہیں ہے۔ مادی جسم کے ساتھ ایک نورانی جسم ہے جس کا نام روح ہے۔ روح ہی
جسم کی اصل ہے انسان کی روح جسم کے بغیر حرکت کرتی ہے لیکن مادی جسم روح کے بغیر
حرکت نہیں کرتا۔ انسان اگر اپنی روح سے واقف ہو جائے تو وہ جسم کے بغیر بھی سفر کر
سکتا ہے۔
جیسے ہی شعوری حواس پر
سکوت طاری ہوتا ہے بیداری کے حواس پر خواب کے حواس کا غلاف چڑھ جاتا ہے اس حالت
میں آدمی اپنے ارادے سے ان تمام قوتوں اور صلاحیتوں کو استعمال کر سکتا ہے جو خواب
میں کام کرتی ہیں۔ ماضی، مستقبل، دوری، نزدیکی بے معنی ہو جاتی ہے۔ آدمی خاکی جسم
کی تمام قیود سے آزاد ہو کر سفر کرتا ہے۔
روحانی صلاحیت ترقی کر کے
ایک ایسے مقام تک پہنچ جاتی ہے جہاں خواب اور بیداری کے حواس Parrallelہو
جاتے ہیں اور انسانی شعور جس طرح بیداری کے معاملات سے واقف ہے اسی طرح خواب کی
کیفیات و حرکات سے بھی مطلع رہتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت
یوسفؑ کو خواب کی تعبیر کا علم عطا کیا تھا یعنی انہیں لاشعوری حواس کا پورا پورا
علم تھا۔ لاشعوری حواس کے علوم انسان کو ٹائم اسپیس کی حد بندیوں سے آزاد کر دیتے
ہیں اور خواب کے علوم جاننے والے پر غیب کی دنیا روشن ہو جاتی ہے۔
قرآن حکیم نے حضرت یوسفؑ
کے قصہ کو بیان کر کے ہماری توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے کہ خواب صرف خیالات نہیں
ہیں۔
انسان
کی نصف زندگی خواب ہے اور نصف زندگی بیداری ہے۔
قانون یہ ہے کہ بیداری
میں جن باتوں یا جن خیالات پر ہماری توجہ مبذول رہتی ہے وہ باتیں ہم سمجھ لیتے ہیں
اور وہ ہمیں یاد رہتی ہیں۔ اس طرح اگر ہم خواب میں دیکھے ہوئے واقعات میں اپنی توجہ
قائم کر لیں تو خواب یاد رہتے ہیں اور ہم ان کے اندر معنی پہنا لیتے ہیں۔ بیداری
ہماری شعوری زندگی اور خواب ہماری لاشعوری زندگی ہے۔
ایک روز بادشاہ نے کہا!
میں نے خواب میں دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں
اور اناج کی سات بالیں ہری ہیں اور دوسری سات سوکھی۔ اے اہل دربار! مجھے اس خواب
کی تعبیر بتاؤ اگر تم خوابوں کا مطلب سمجھتے ہو۔ لوگوں نے کہا! یہ تو پریشان
خوابوں کی باتیں ہیں اور ہم اس طرح کے خوابوں کا مطلب نہیں جانتے۔
ان دو قیدیوں میں سے جو
شخص بچ گیا تھا اور اسے ایک مدت دراز کے بعد اب بات یاد آئی، اس نے کہا! میں آپ
حضرات کو اس کی تاویل بتاتا ہوں، مجھے ذرا (قید خانے میں یوسف کے پاس) بھیج دیجئے۔
اس نے جا کر کہا، یوسف!
اے سراپا راستی! مجھے اس خواب کا مطلب بتا کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی
گائیں کھا رہی ہیں اور اناج کی سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی۔ شاید کہ میں ان
لوگوں کے پاس واپس جاؤں اور شاید کے وہ جان لیں۔
یوسف نے کہا!
’’سات برس تک لگاتار تم
لوگ کھیتی باڑی کرتے رہو گے۔ اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو ان میں سے بس تھوڑا سا
حصہ جو تمہاری خوراک کے کام آئے نکالو اور باقی کو اس کی بالیوں ہی میں رہنے دو۔
پھر سات برس بہت سخت آئیں گے۔ اس زمانے میں وہ سب غلہ کھا لیا جائے گا جو تم اس
وقت کے لئے جمع کرو گے اگر کچھ بچے گا تو وہی جو تم نے محفوظ کر رکھا ہو۔ اس کے
بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میں باران رحمت سے لوگوں کی فریاد رسی کی جائے گی
اور وہ رس نچوڑینگے۔‘‘
(سورۃ یوسف: ۴۳۔۴۹)
ایسا ہی ہوا جیسے خواب کی
تعبیر دی گئی تھی۔ سات سال تک کھیتی باڑی خوب ہوئی اور سات سال تک ملک و قوم کو
قحط سالی کا سامنا کرنا پڑا۔
حضرت یوسفؑ نے سات سال تک
غلہ محفوظ رکھنے کے لئے گودام تعمیر کروائے۔ ان گوداموں کے بارے میں تاریخ انکشاف
کرتی ہے کہ:
خواجہ شمس الدین عظیمی
قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس میں کوئی سورہ، کوئی آیت اور کوئی نقطہ مفہوم و معانی سے خالی نہیں ہے۔ اﷲ کے علوم لامتناہی ہیں۔ اﷲ کا منشاء یہ ہے کہ ہم لوگوں کو آگے بڑھتا دیکھ کر خود بھی قدم بڑھائیں اور اﷲ کی نعمتوں کے معمور خزانوں سے فائدہ اٹھائیں۔ قرآن پاک میں انبیاء سے متعلق جتنے واقعات بیان ہوئے ہیں ان میں ہمارے لئے اور تمام نوع انسانی کیلئے ہدایت اور روشنی ہے۔ کتاب محمد رسول اﷲ۔ جلد سوئم میں عظیمی صاحب نے مختلف انبیاء کرام کے واقعات میں روحانی نقطۂ نظر سے اﷲ تعالیٰ کی حکمت بیان فرمائی ہے۔