Topics
’’اور اے محمدﷺ! یہ لوگ
تم سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں ان سے کہو میں اس کا کچھ حال تم کو سناتا
ہوں۔ ہم نے اسے زمین میں اقتدار عطا کر رکھا تھا اور اسے ہر قسم کے اسباب و وسائل
بخشے تھے، اس نے پہلے (مغرب کی طرف ایک مہم کا)سروسامان کیا، حتیٰ کہ جب وہ غروب
آفتاب کی حد تک پہنچ گیا تو اس نے سورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا اور وہاں
اسے ایک قوم ملی ہم نے کہا اے ذوالقرنین! تجھے یہ قدرت بھی حاصل ہے کہ تو ان کو
تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ ان کے ساتھ نیک رویہ اختیار کرے۔ اس نے کہا جو ان میں
سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے، پھر وہ اپنے رب کی طرف پلٹایا جائے گا اور وہ
اسے اور زیادہ سخت عذاب دے گا اور جو اِن میں سے ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا
اس کے لئے اچھی جزا ہے اور ہم اس کو نرم احکام دیں گے۔ پھر اس نے (ایک دوسری مہم
کی) تیاری کی یہاں تک کہ طلوع آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج
ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کے لئے دھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں
کیا ہے یہ حال تھا ان کا اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اسے ہم جانتے تھے پھر اس
نے (ایک اور مہم کا) سامان کیا یہاں تک کہ جب دو پہاڑیوں کے درمیان پہنچا تو اسے
ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی۔ ان لوگوں نے کہا کہ اے
ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج اس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں تو کیا ہم تجھے کوئی
ٹیکس اس کام کے لئے دیں کہ تو ان کے اور ہمارے درمیان ایک بند تعمیر کر دے۔ اس نے
کہا جو کچھ میرے رب نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے تم بس محنت سے میری مدد کرو، میں
تمہارے اور ان کے درمیان بند بنا دیتا ہوں مجھے لوہے کی چادریں لا دو آخر جب دونوں
پہاڑوں کے درمیان وادی کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا کہ اب آگ دہکاؤ حتیٰ کہ
جب (یہ آہنی دیوار) بالکل آگ کی طرح سرخ ہو گئی تو اس نے کہا لاؤ اب میں اس پر
پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں گا (یہ بند ایسا تھا کہ )یاجوج ماجوج اس پر چڑھ کر بھی نہ
آسکتے تھے اور اس میں نقب لگانا ان کے لئے اور بھی مشکل تھا۔ ذوالقرنین نے کہا یہ
میرے رب کی رحمت ہے مگر جب میرے رب کے وعدہ کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوند خاک
کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ برحق ہے۔ اور اس روز ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ
(سمندر کی موجوں کی طرح) ایک دوسرے سے
گھتم گتھا ہونگے اور صور پھونکا جائے گا اور ہم ان سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع
کریں گے اور وہ دن ہو گا جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے، ان کافروں کے
سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سننے کیلئے تیار ہی نہ
تھے تو کیا یہ لوگ جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے یہ خیال کرتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر
میرے بندوں کو اپنا کارساز بنا لیں۔ ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لئے جہنم تیار
رکھی ہے۔
اے محمدﷺ! ان سے کہو کہ
ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال سے سب سے زیادہ ناکام اور نامراد لوگ کون ہیں۔ وہ
کہ جن کی دنیا کی زندگی کی ساری جدوجہد راہ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے
کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے
سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اس لئے ان کے سارے اعمال ضائع
ہو گئے۔ قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن (تول) نہ دیں گے ان کی جزا جہنم ہے اس کے
بدلے جو انہوں نے کیا اور اس مذاق کی پاداش میں جو میری آیات اور میرے رسولوں کے
ساتھ کرتے تھے۔ البتہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ان کی
میزبانی کیلئے فردوس کے باغ ہونگے جن میں وہ ہمیشہ رہینگے اور کبھی اس جگہ سے نکل
کر کہیں جانے کو ان کا جی نہ چاہے گا۔
اے محمدﷺ! کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لئے روشنائی بن جائے تو وہ
ختم ہو جائے گا مگر میرے رب کی باتیں ختم نہ ہوں بلکہ اگر اتنی ہی روشنائی ہم اور
لے آئیں تو وہ بھی کم پڑ جائے۔
اے محمدﷺ! کہو کہ میں تو
ایک انسان ہوں تم ہی جیسا میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا ا للہ بس ایک ہی اللہ ہے۔ پس جو کوئی
اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہوا اسے چاہئے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب
کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔‘‘
(سورۃ کہف: -۸۳-۱۱۰)
ذوالقرنین کے لفظی معنی
ہیں ’’دو سینگوں والا‘‘ مفسرین ذوالقرنین کے نام کی کئی طرح تشریح کرتے ہیں۔
۱۔ ذوالقرنین اس لئے کہا
گیا کہ وہ دو مملکتوں روم اور فارس کا حکمران تھا اور ’’قرن‘‘ جس کے معنی ’’سینگ‘‘
کے ہیں بطور استعارہ کےطاقت و حکومت کے
معنی میں استعمال ہوا ہے۔
۲۔ وہ فتوحات کرتا ہوا
اقصائے مشرق و مغرب تک پہنچا اور دونوں خطوں پر بہت سے ممالک پر قابض و مسلط ہوا۔
(امام زہری)
۳۔ اس کے سر میں دونوں
جانب سینگ کے مشابہ تانبے کے سےغدود ابھرے
ہوئے تھے۔ (وہب بن منبہ)
۴۔ اس کی زلفیں دراز تھیں
اور وہ بالوں کو دو حصے کر تا اور ان کی
چوٹیاں گوندھ کر دونوں کاندھوں پر ڈالے
رکھتا تھا ۔ (حسن بصری)
۵۔ اس نے ایک جابر بادشاہ
اور اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی بادشاہ
نے غضب ناک ہو کر اس کے سر کے ایک جانب سخت چوٹ لگائی جس سے وہ مر گیا اس کے بعد
دوبارہ زندہ ہو کر تبلیغ کا فرض انجام دیا پھر قوم نے دوسری طرف چوٹ مار کر شہید
کر دیا اس ضرب کی وجہ سے اس کے سر پر دو نشان بن گئے جس کی وجہ سے ذوالقرنین کا
لقب دیا گیا۔ (حضرت علیؓ)
۶۔ وہ نجیب الطرفین تھا
اس لئے والدین کی نجابت کو قرنین کے ساتھ تشبیہ دی گئی۔
۷۔ اس نے اس قدر طویل عمر
پائی کہ انسانی دنیا کے دو قرن (صدیوں) تک زندہ رہا۔
سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام نے جب نبوت کا اعلان کیا تو یہودیوں نے آپ کو آزمانے کیلئے سیدنا حضور
علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پاس تین سوالات بھیجے یہودی یہ جاننا چاہتے تھے کہ اگر
حضرت محمدﷺ اللہ کے سچے پیغمبر ہیں تو ’’اُمّی‘‘ ہونے کے باوجود وحی الٰہی کے
ذریعے اس شخص کے واقعات بتا دیں گے۔
ذوالقرنین نے بنی اسرائیل
کو بابل کی غلامی سے نجات دلائی اور ان کے مقدس مقام یروشلم (بیت المقدس) کو
دوبارہ آباد کیا ان امور کی بناء پر یہودی ذوالقرنین کو نجات دہندہ، مسیح اللہ اور
’’خدا کا چرواہا‘‘ کہتے ہیں۔ یہود نے کہا ہم کو اس نبی کا حال بتایئے جس کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے تورات میں صرف ایک ہی جگہ کیا ہے نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا ’’وہ کون
ہے؟‘‘ یہود نے جواب دیا ’’ذوالقرنین‘‘۔
قرآن کریم میں ہے:
’’اور اے محمدﷺ یہ لوگ تم
سے ’’ذوالقرنین‘‘کے بارے میں پوچھتے ہیں ان سے کہو کہ میں اس کا کچھ حال تم کو
سناتا ہوں۔ ہم نے اسے زمین میں اقتدار عطا کر رکھا تھا اور اسے ہر قسم کے اسباب و وسائل
بخشے تھے، اس نے پہلے (مغرب کی طرف ایک مہم کا) سروسامان کیا، حتیٰ کہ جب وہ غروب
آفتاب کی حد تک پہنچ گیا تو اس نے سورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا۔‘‘
(سورہ کہف: ۸۳۔۸۶)
خورس (ذوالقرنین) اگرچہ
ایشیا کوچک فتح کرتا چلا گیا لیکن عوام پر ظلم نہیں کیا اور نہ ہی ان کو وطن بدر
کیا۔ خورس کے حسن سلوک اور عدل و انصاف کی وجہ سے لوگوں کو یہ محسوس ہی نہیں ہوا
کہ یہاں کوئی انقلاب آیا ہے۔
خورس نے اپنی فوج کو حکم
دے دیا کہ دشمن کی فوج کے سوا اور کسی انسان پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے اور دشمن کی
فوج میں سے جو کوئی نیزہ جھکا دے اسے قتل نہ کیا جائے۔
سائرس کا عقیدہ تھا کہ
’’زر و جواہرات‘‘ بادشاہوں کے ذاتی عیش و آرام کے لئے نہیں ہیں بلکہ یہ خزانے اس
لئے ہیں کہ بادشاہ رفاہ عام کے کام کرے اور ما تحت ساتھیوں کو فائدہ پہنچائے۔ مشرق بعید کی ریاست
باختر(بیکٹریا) میں وحشی اور صحرانشین قبائل آباد تھے، یہ قوم اخلاقی اقدار سے بے
بہرہ اور متمدن زندگی سے غیر مانوس تھی، طلوع آفتاب کے ساتھ جوں جوں دھوپ پھیلتی
وحشی قوم میں توانائی آ جاتی تھی اور آفتاب کے ڈھلنے کے ساتھ وہ کمزور اور لاغر ہو
جاتے تھے، سورج غروب ہو جانے کے بعد ایسا لگتا تھا کہ ان کے جسم کی جان نکل گئی
ہے۔ قرآن کریم میں ہے:
’’پھر اس نے (ایک دوسری
مہم کی) تیاری کی یہاں تک کہ طلوع آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ
سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کیلئے دھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے
نہیں کیا ہے یہ حال تھا ان کا۔‘‘
(سورہ کہف۔ ۹۰)
یاجوج، ماجوج کے بارے میں
طرح طرح کی قیاسی کہانیاں مشہور ہیں ۔ایک
روایت یہ ہے کہ جہاں زمین کی حد ختم ہوتی ہے وہاں پہاڑوں کی ایک جانب یاجوج، ماجوج
کی قوم آباد ہے اور دوسری جانب ایک عابد و زاہد قوم آباد ہے اس قوم میں بڑے دانا
اور حکیم بھی موجود ہیں، یہ پہاڑ اتنے بلند تھے کہ ان کو عبور کرنا مشکل تھا۔
پہاڑیوں کے درمیان کچھ
حصہ میدانی تھا اس راستے سے یاجوج، ماجوج آ کر نیک لوگوں پر حملہ آور ہوتے رہتے
تھے اور لوٹ مار کر کے واپس چلے جاتے تھے۔ سکندرذوالقرنین نے بستی کے نیک لوگوں کو
نصیحت کی اور انہیں اللہ کے احکامات سنائے، ان لوگوں نے بادشاہ کی خدمت میں حاضر
ہو کر یاجوج، ماجوج کے ظلم و ستم کی شکایت کی اور بادشاہ سے مدد کے خواستگار ہوئے۔
بادشاہ نے یاجوج، ماجوج کے بارے میں دریافت کیا تو اسے بتایا ایک پہاڑ پر یاجوج
اور اس کی اولاد، دوسرے پہاڑ پر ماجوج اور اس کی اولاد رہتے ہیں۔ان دونوں کی
اولادیں اس کثرت سے ہوئیں کہ ایک بڑی قوم
بن گئیں۔یاجوج، ماجوج یافث بن نوح کی
اولاد میں سے ہیں یہ دونوں اور ان کے اہل خانہ طوفان نوح کے بعد بچ گئے تھے۔
یاجوج، ماجوج کے بارے میں من گھڑت باتوں میں ایک ناقابل قبول بات یہ ہے کہ اس قوم
کے بعض افراد دراز قد ہیں، بعض افراد کے قد تین فٹ اور بعض افراد کے قد ایک بالشت
(بالشتئے) کے برابر ہیں بعض افراد کے کان اتنے بڑے ہیں کہ زمین پر لٹکے رہتے ہیں،
جب سوتے ہیں تو یہ اپنا ایک کان زمین پر بچھا لیتے ہیں اور دوسرا کان اوڑھ لیتے
ہیں۔یہ قوم تہذیب و تمدن اور اخلاقی اقدار سے نا آشنا ہے، رہن سہن جانوروں کی طرح
ہے۔ ان کے کھیتوں میں صرف تل کی کاشت ہوتی ہے دوسری کوئی چیز نہیں اُگتی تل ہی ان
کی غذا ہے وہ لوگ Uncivilized ہیں، خدا کو نہ جانتے ہیں نہ مانتے ہیں۔یاجوج،
ماجوج کے بارے میں ظلم و ستم کی داستان سن کر سکندر ذوالقرنین نے ان دو پہاڑوں کے
درمیان دیوار بنانے کے احکامات جاری کر دیئے چنانچہ لوہے کی بڑی بڑی شیٹیں جوڑ کر
ایک دوسرے کے اوپر رکھ کر انہیں دونوں پہاڑوں کی Valleyمیں
رکھ دیا گیا اور لوہے کی چادروں کو آگ سے سرخ کر کے ان پر سیسہ پگھلا کر ڈال دیا یوں
ایک عظیم الشان دیوار جسے سد سکندری کا نام دیا گیا تیار ہو گئی۔
’’پھر اس نے (ایک اور مہم
کا) سامان کیا یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو اسے ان کے پاس ایک قوم
ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی۔ ان لوگوں نے کہا کہ اے ذوالقرنین! یاجوج
اور ماجوج اس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں کیا ہم تجھے کوئی ٹیکس اس کام کے لئے
دیں کہ تو ان کے اور ہمارے درمیان ایک بند تعمیر کر دے۔ اس نے کہا جو کچھ میرے رب
نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے تم بس محنت سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے
درمیان بند بنا دیتا ہوں، مجھے لوہے کی چادریں لا دو۔ آخر جب دونوں پہاڑوں کے
درمیان وادی (ویلی) کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا کہ اب آگ دہکاؤ حتیٰ کہ جب
(یہ آہنی دیوار) بالکل آگ کی طرح سرخ ہو گئی تو اس نے کہا، لاؤ اب میں پگھلا ہوا
تانبا انڈیلوں گا۔‘‘
(سورہ کہف: ۹۲۔۹۶)
سکندر ذوالقرنین سے پچاس
برس قبل بابل میں بخت نصر حکومت کرتا تھا۔ بابلی قوم بتوں کی پوجا کرتی تھی، بخت
نصر کو سب سے بڑا دیوتا سمجھا جاتا تھا اس لیے اس کا اسے حق تھا کہ وہ جس حکومت کو
چاہے قہر و غضب کا شکار بنا کر اس کے باشندوں کو عذاب میں مبتلا کر دے۔ بخت نصر نے
اپنے دور حکومت میں یروشلم پر تین مرتبہ
حملہ کیا اور فلسطین کو تباہ و برباد کر کے رعایا کو مویشیوں کی طرح ہنکا کر بابل
لے گیا۔
بابل کی حکومت آشوری
حکومت کی تباہی کے بعد اور بھی زیادہ مضبوط سلطنت ہو گئی، قرب و جوار کی طاقتوں
میں کسی کو بھی یہ جرأت نہیں تھی کہ وہ س جابر حکومت کے قہر و جبر کا مقابلہ کر
سکے۔ بیت المقدس فتح ہونے کے کچھ عرصہ بعد بخت نصر مر گیا۔ نا یونی دس، بخت نصر کا
جانشین مقرر ہوا لیکن اس نے ایک شخص بیل شاہ زار کو امور سلطنت سونپ دیئے۔ بیل شاہ
زار ایک عیاش اور ظالم آدمی تھا، بخت نصر کی طرح بہادر اور جری نہیں تھا۔ بنی
اسرائیل کے قیدیوں میں سے حضرت دانیالؑ نے اپنی حکیمانہ فراست سے بابلی دربار کو
اس درجہ مسخر کر لیا تھا کہ وہ حکومت کے مشیر خاص سمجھے جاتے تھے۔ حضرت دانیالؑ نے
بیل شاہ زار کو بار بار اس کے مظالم اور پر عیش زندگی کے خلاف تنبیہہ کی مگر اس پر
کوئی اثر نہیں ہوا آخر کار انہوں نے حکومت کے معاملات سے کنارہ کشی کر لی۔
بیل شاہ زار نے اپنی ملکہ
کے اکسانے پر حکم دیا کہ یروشلم سے جو ہیکل کے مقدس ظروف بنوکدزار لوٹ کر لایا تھا
وہ لائے جائیں اور ان میں شراب پلائی جائے، یہ جشن جاری تھا کہ کسی غیبی ہاتھ نے
بادشاہ کے سامنے دیوار پر ایک نوشتہ لکھ دیا۔
بادشاہ نے دیکھا تو بادشاہ اس
کا چہرہ وحشت ناک ہوگیا دیوار پر لکھا تھا ’’منے منے ثقیل او فیرسین‘‘ بادشاہ نے نجومیوں
کو بلا کر اس تحریر کا مطلب پوچھا لیکن کوئی مطلب نہ بتا سکا، ملکہ کے مشورہ سے
حضرت دانیالؑ کو بلوایا گیا۔ حضرت دانیالؑ نے نوشتہ کا مطلب بتایا کہ
’’خدا نے تیری مملکت کا
حساب پورا کیا اور اسے ختم کر دیا، تو ترازو میں تولا گیا اور کم نکلا، تیری مملکت
پارہ پارہ ہوئی اور مایوں اور فارسیوں کو دے دی گئی۔‘‘
اہل بابل عرصہ سے بیل شاہ
زار کے مظالم سے چھٹکارا پانے کی تجویزیں سوچ رہے تھے، بعض سرداروں نے مشورہ کیا
کہ قریب کی زبردست طاقت ایران سے مدد حاصل کی جائے اور ایران کے عادل فرماں روا سے
یہ عرض کیا جائے کہ وہ ہم کو بیل زار کے مظالم سے نجات دلائے اور اس کو یہ اطمینان
دلایا جائے کہ اہل بابل ہر طرح اس کی مدد کریں گے۔ مشرقی مہم میں مصروف خورس کے
پاس بابلی سرداروں کا ایک وفد پہنچا خورس نے ان کا خیر مقدم کیا اور ان کو اطمینان
دلایا کہ وہ اپنی اس مہم سے فارغ ہو کر بابل ضرور آئے گا اور ان کو بیل شاہ زار کے
مظالم سے نجات دلائے گا۔ خورس جب اپنی مہم سے فارغ ہو گیا تو حسب وعدہ اس نے بابل
پر حملہ کر دیا۔
اس عہد میں بابل سے زیادہ
ناقابل تسخیر کوئی مقام نہیں تھا۔ شہر پناہ اس درجہ تہہ در تہہ موٹی اور مضبوط تھی
کہ کوئی فاتح اس کی تسخیر کی جرأت نہیں کرتا تھا لیکن بابل کی رعایا خورس کی
گرویدہ تھی جب خورس بابل میں داخل ہوا تو بابل کا گورنر گوب ریاس اس کے ہمراہ تھا،
گوب ریاس نے دریا میں نہر کاٹ کر اس کا بہاؤ دوسری جانب کر دیا اور دریا کی جانب
سے فوج شہر میں داخل ہو گئی اور خورس کے وہاں پہنچتے ہی شہر فتح ہو گیا اور بیل
شاہ زار مارا گیا۔
دارا نے اپنے دور حکومت
میں اہم تاریخی کام یہ کیا کہ پہاڑوں کی مضبوط چٹانوں پر کتبے نقش کرا دیئے جو اس
کے اور خورس کے عہد زریں کو ظاہر کرتے ہیں ان کتبوں پر ایسی تفصیلات دی گئی ہیں جن
سے دارا کے مذہب و عقیدہ اور طریق حکومت پر روشنی پڑتی ہے۔
’’خدائے برتر اہور رموزدہ
ہے۔ اسی نے زمین پیدا کی، اسی نے آسمان بنایا، اسی نے انسان کی سعادت بنائی اور
وہی ہے جس نے دارا کو بہتوں کا تنہا حکمراں اور آئین ساز بنایا۔‘‘
’’اے انسان! اہور رموزدہ کا تیرے لئے حکم ہے کہ برائی کا
دھیان نہ کر، صراط مستقیم کو نہ چھوڑ، گناہ سے بچتا رہ۔‘‘
ان تاریخی کتبوں سے یہ بخوبی واضح ہوتا ہے کہ دارا اور اس کے
پیشتر و خورس کا مذہب ایران کے قدیم مذہب’موگوش‘ (مجوسی مذہب) سے مختلف تھا دارا جس ہستی کو اہور
موزدہ کہہ کر پکارتا ہے اور جو اس کے اوصاف بیان کرتا ہے اس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ
دارا اور اس کا پیشرو (ذوالقرنین) ’’دین حق‘‘ پر تھے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں
’’ذوالقرنین نہ نبی تھے
اور نہ فرشتہ وہ ایک انسان تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کو محبوب رکھا پس اللہ تعالیٰ
نے بھی ان کو محبوب رکھا۔‘‘
حضرت عبداللہ بن عباسؓ
فرماتے ہیں۔
’’ذوالقرنین نیک اور صالح
بادشاہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو پسند فرمایا اور اپنی کتاب میں اس کی
تعریف فرمائی وہ فاتح اور کامیاب بادشاہ تھا۔‘‘
سکندر ذوالقرنین ایک عظیم
فاتح تھا۔ توحید اور آخرت پر ایمان رکھتا تھا۔ عدل و انصاف کرنے والا فیاض حکمران
تھا۔ ذوالقرنین ایرانی فرماں روا تھا اس کا عروج ۵۳۵ قبل مسیح کے قریب شروع ہوا۔
اس نے چند سالوں میں میڈیا(لجبال) اور لیڈیا(ایشیائے کوچک) کی سلطنتوں کو فتح کرنے
کے بعد ۵۳۹ ق م میں بابل کو بھی فتح کر لیا جس کے بعد کوئی طاقت اس کے راستے میں
مزاحم نہیں رہی اس کی فتوحات کا سلسلہ سندھ اور صغد(موجودہ ترکستان) سے لے کر ایک
طرف مصر اور لیبیا تک اور دوسری طرف تھریس اور مقدونیہ تک وسیع ہو گیا اور شمال
میں اس کی سلطنت قفقاز(کاکیشیا) اور خوارزم تک پھیل گئی۔ اس وقت کی پوری مہذب دنیا
پر اس کی حکمرانی تھی۔
ذوالقرنین کی فتوحات مغرب
میں ایشیائے کوچک اور شام کے تمام ساحل اور مشرق میں باختر (بلخ) تک وسیع ہوئیں۔
یاجوج، ماجوج کا کیشیا کے پہاڑی علاقوں کے قبائل ہیں، کاکیشیا بحر خزر(کیسپئن) اور
بحر اسود کے درمیان واقع ہے۔
سکندر ذوالقرنین مختلف
ممالک فتح کرتا ہوا مشرق کی جانب ایسے علاقے میں پہنچ گیا جہاں مہذب دنیا کی سرحد
ختم ہوگئی تھی اور آگے ایسی وحشی قوموں کا علاقہ تھا جو عمارت بنانا تو درکنار
خیمے بنانا بھی نہیں جانتی تھی، سخت وحشی ہونے کے سبب نہ کوئی ان کی زبان سمجھتا
تھا اور نہ وہ کسی اور کی زبان سے واقف تھے۔
ذوالقرنین کے عدل کی
تعریف اس کے دشمنوں نے بھی کی۔ بائبل اس بات پر شاہد ہے کہ وہ ایک خدا پرست اور
خدا ترس بادشاہ تھا جس نے بنی اسرائیل کو ان کی خدا پرستی ہی کی بناء پر بابل کی
اسیری سے رہا کروایا اور اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کے لئے بیت المقدس میں دوبارہ
ہیکل سلیمان کی تعمیر کا حکم دیا یاجوج ماجوج کے شر سے بچنے کے لئے دیوار تعمیر
ہونے کے بعد ذوالقرنین نے کہا!
’’اگرچہ میں نے اپنی بساط
کے مطابق دیوار کو نہایت مضبوط بنا دیا ہے مگر یہ لازوال نہیں ہے جب تک اللہ چاہے
گا یہ قائم رہے گی اور جب اس کی عمر ختم ہو جائے گی تو اس کو پارہ پارہ ہونے سے
کوئی نہیں بچا سکتا۔ اللہ کے علاوہ ہر چیز کے لئے فنا ہے۔‘‘
اس واقعہ میں بھی بتایا
گیا ہے کہ ذوالقرنین جس کی عظمت کا حال سنایا گیا ہے۔ محض ایک فاتح نہیں تھا بلکہ
توحید اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ عدل و انصاف اور فیاضی کے اصولوں کا حامل تھا ،
ذوالقرنین اپنی رعایا کا ہمدرد اور ان کی دیکھ بھال کرنے والا بادشاہ تھا اس میں
دوسرے بادشاہوں کی طرح کبر و نخوت اور غرور نہیں تھا۔
حضرات!
اہل تکوین قوموں کو عروج
بخشنے کیلئے اور ذلت و رسوائی سے بچنے کے لئے اللہ کے دیئے ہوئے اختیارات سے
ترغیبی پروگرام بناتے ہیں۔ یہ پروگرام ملائکہ ارضی انسپائر کرتے رہتے ہیں۔
جنوری ۱۹۶۰ ء میں ایک مجلس میں حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے
فرمایا:
’’چینی قوم کے لئے فرشتے
ایک لاکھ ترغیبی پروگرام انسپائر کرتے ہیں یہ ایک ایسی محب الوطن قوم ہے کہ ایک
پروگرام بھی رد نہیں کرتی سب کا سب انسپائریشن قبول کر لیتی ہے۔‘‘
چین کے قبائل یاجوج،
ماجوج کی ذریت ہیں ایک وقت آئے گا کہ چین پوری دنیا پر حکمراں ہو جائے گاٹیکنالوجی
اور اقتصادی نرمی کی بناء پر اقوام عالم چین کے زیر تصرف آجائے گی۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس میں کوئی سورہ، کوئی آیت اور کوئی نقطہ مفہوم و معانی سے خالی نہیں ہے۔ اﷲ کے علوم لامتناہی ہیں۔ اﷲ کا منشاء یہ ہے کہ ہم لوگوں کو آگے بڑھتا دیکھ کر خود بھی قدم بڑھائیں اور اﷲ کی نعمتوں کے معمور خزانوں سے فائدہ اٹھائیں۔ قرآن پاک میں انبیاء سے متعلق جتنے واقعات بیان ہوئے ہیں ان میں ہمارے لئے اور تمام نوع انسانی کیلئے ہدایت اور روشنی ہے۔ کتاب محمد رسول اﷲ۔ جلد سوئم میں عظیمی صاحب نے مختلف انبیاء کرام کے واقعات میں روحانی نقطۂ نظر سے اﷲ تعالیٰ کی حکمت بیان فرمائی ہے۔