Topics

آواز کی فریکوئنسی

 


قرآن میں حضرت یوشع علیہ السلام کا نام مذکور نہیں ہے البتہ قرآن پاک میں دو جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ایک نوجوان رفیق سفر کا تذکرہ موجود ہے۔ حدیث شریف کے مطابق  حضرت ابی بن   کعب  سے منقول  ہے کہ اس نوجوان رفیق سفر کا نام ’’یوشع‘‘ ہے۔ اہل کتاب کا ان کے نبی ہونے پر اتفاق ہے، حضرت یوشع علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کی نسل میں سے تھے، قبیلے کے سردار تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ان کے خلیفہ اور جانشین ہوئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی زندگی میں اہم ترین خدمات ان کے سپرد کر دی تھیں، کنعان میں ظلم و ستم روا رکھنے والے جابر، سفاک اور مشرک اقوام کے حالات معلوم کرنے کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے سرداروں کو بھیجا تو حضرت یوشع علیہ السلام اور ان کے ساتھی حضرت کالب اس وفد کے رکن تھے اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو مشرکوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا تو بنی اسرائیل نے خوف زدہ ہو کر انکار کر دیا، حضرت یوشع علیہ السلام نے اس وقت بنی اسرائیل کو ہمت دلائی اور جرأت و جواں مردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جہاد کرنے کی تلقین کی۔

’’کہا دو مردوں نے! ڈرنے والوں میں سے، خدا کی نوازش تھی ان دو پر داخل ہو جاؤ ان پر حملہ کر کے دروازے میں اور جب تم اس میں داخل ہو گئے تو تم غالب اور فتح مند ہو گے اور اللہ ہی پر بھروسہ کرو اگر یقین رکھتے ہو۔‘‘

سورۃ مائدہ۔ ۲۳)

حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت خضر سے ملاقات کے لئے جب مجمع البحرین تشریف لے گئے تھے اس وقت بھی حضرت یوشع علیہ السلام ان کے ساتھ تھے۔ قرآن حکیم میں اس سفر کا احوال تفصیلاً بیان ہوا ہے۔

’’اور جب کہا موسیٰ نے اپنے جوان کو میں نہ ہٹوں گا جب تک نہ پہنچوں دو دریا کے ملاپ تک، یا چلتا جاؤں قرنوں، پھر جب پہنچے دونوں دو دریا کے ملاپ تک بھول گئے اپنی مچھلی پھر اس نے اپنی راہ لی دریا میں سرنگ بنا کر پھر جب آگے چلے کہا۔ موسیٰ نے اپنے جوان کو، لا ہمارے پاس ہمارا کھانا ہم نے پائی ہے اپنے اس سفر میں تکلیف۔ بولا، وہ دیکھا تو نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی اور مجھ کو بھلایا شیطان ہی نے کہ اس کا ذکر ہو اور وہ کر گئی اپنی راہ دریا میں، عجب طرح کہا یہی ہے جو ہم چاہتے تھے، پھر وہ الٹے پھرے اپنے پیر پہچانتے پھر پایا ایک بندہ ہمارے بندوں میں سے جس کو دی تھی ہم نے مہر  اپنے پاس سے اور سکھایا تھا اپنے پاس سے ایک علم۔ علم لدنی۔‘‘

(سورۃ کہف: ۶۰۔۶۵)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہدایت و راہنمائی کے لئے حضرت یوشع علیہ السلام کا انتخاب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیات ہی میں ہو گیا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حضرت یوشع علیہ السلام کی نبوت کی بشارت دے دی گئی تھی۔ کتاب گیتی باب ۲۷ میں ہے:

’’خداوند نے موسیٰ سے کہا! یوشع پر اپنا ہاتھ رکھ کیونکہ اس شخص میں روح ہے اور الیعزر کاہن (حضرت ہارون کے فرزند) اور ساری جماعت کے آگے کھڑا کر کے ان کی آنکھوں کے سامنے اسے وصیت کر اور اپنے رعب و داب سے اسے بہرہ ور کر دے تا کہ بنی اسرائیل کی ساری جماعت اس کی فرمانبرداری کرے۔‘‘

عمالقہ کی شکست

جب بنی اسرائیل سینا کے بیابان میں مقیم تھے اور عمالقہ کے طاقت ور اور زور آور لوگوں سے پہلی بار مقابلہ ہوا تو حضرت موسیٰ نے آپ ہی کو بنی اسرائیل کا سردار اور سپہ سالار مقرر کر کے بھیجا اور خود حضرت ہارونؑ کو لے کر پہاڑ کی چوٹی پر اپنا عصا ہاتھ میں اٹھا کر کھڑے ہو گئے تھے، اس جنگ میں حضرت یوشع علیہ السلام نے عمالقہ کو شکست سے دوچار کر دیا، وفات سے کچھ عرصہ پیشتر حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ حضرت یوشع علیہ السلام کے ہمراہ خیمہ اجتماع میں آ جائیں اس وقت تجلی الٰہی نمودار ہوئی اور بنی اسرائیل کے مستقبل کی پیشن گوئی کی گئی اور تعلیمات موسوی کی آخری ہدایات دی گئیں۔ تورات کے مطابق ہدایت کے آخر میں حضرت یوشع علیہ السلام سے براہ راست خطاب ہوا۔

’’ندن کے بیٹے یوشع کو ہدایت کی اور کہا تو مضبوط ہو جا اور حوصلہ رکھ کیونکہ تو بنی اسرائیل کو اس ملک میں لے جائے گاجس کی قسم میں نے ان سے کھائی تھی اور میں تیرے ساتھ رہوں گا۔‘‘

(استثناء، باب ۳۱)

یہ وہ دور تھا جب مشرک اور ظالم سفاک قومیں ارض مقدس کو پامال کرتی رہتی تھیں اب بنی اسرائیل کی سزا کی مدت گزر چکی تھی۔

مشیت الٰہی تھی کہ بنی اسرائیل کی جلاوطنی ختم کر کے ارض مقدس میں انہیں داخل کر دیا جائے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کا لشکر تیار کیا مگر جنگ سے پہلے ہی ان کا انتقال ہو گیا، حضرت یوشع علیہ السلام پر وحی نازل ہوئی۔

’’میرا بندہ موسیٰ مر گیا سو اب تو اٹھ اور ان سب لوگوں کو ساتھ لے کر اس یرون کے پار اس ملک میں جا جسے میں بنی اسرائیل کو دیتا ہوں۔‘‘

(کتاب یشوع۔ باب ۱۰)

حضرت یوشع علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو خدا کا پیغام سنایا اور بنی اسرائیل کا لشکر سینا سے نکل کر ارض مقدس کی طرف بڑھا۔ کنعان اور بیت المقدس فتح کر لیا۔

’’عہد کا صندوق‘‘ تابوت سکینہ اس جنگ میں بنی اسرائیل کے ساتھ تھا۔

’’اور کہا ان کو ان کے نبی نے، نشان اس کی سلطنت کا یہ ہے کہ آوے تم کو صندوق جس میں ہے دل جمعی تمہارے رب کی طرف سے اور کچھ بچی چیزیں جو چھوڑ گئے۔ موسیٰ اور ہارون کی اولاد اٹھا لاویں اس کو فرشتے اس میں نشانی پوری ہے تم کو، اگر یقین رکھتے ہو۔‘‘

(البقر۔ ۲۴۸)

یہ صندوق کیکر کی لکڑی کا بنا ہوا تھا اس کی لمبائی ڈھائی ہاتھ اور چوڑائی و اونچائی ڈیڑھ ڈیڑھ ہاتھ تھی، اس کے اندر اور باہر سونے کے پترے لگے ہوئے تھے اور صندوق اٹھانے کے لئے سونے کے چار کنڈے لگے ہوئے تھے، صندق میں زریں جزدان میں لپٹی ہوئی تو رات رکھی ہوئی تھی، بنی اسرائیل پر جب من و سلویٰ نازل ہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یادگار کے لئے ایک مرتبان میں من بھروا کر اس صندوق میں رکھوا دیا تھا۔ حضرت ہارونؑ کی وفات کے بعد ان کا پیرہن اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کا عصا اور چند دوسرے تبرکات اس صندوق میں رکھ دیئے گئے تھے۔

آواز کی فریکوئنسی

حضرت یوشع علیہ السلام کو حکم ہوا کہ سات دن تک اس عہد کے صندوق کے ساتھ فصیل کے گرد روزانہ چکر لگائیں اور گشت کے دوران مینڈھے کے سینگوں کے ساتھ نرسنگھے بجائے جائیں ساتویں روز جب گشت مکمل ہونے پر نرسنگھے بجائے گئے اور لشکر نے با آواز بلند نعرہ لگایا تو فصیل گر گئی اور لشکر شہر میں داخل ہو گیا۔

فتح سے قبل بنی اسرائیل کو ہدایت کی گئی تھی کہ شہر میں توبہ استغفار کرتے ہوئے داخل ہوں مگر انہوں نے روگردانی کی اور فاتحانہ نعروں اور متکبرانہ آوازیں نکالتے ہوئے شہر میں داخل ہوئے اللہ تعالیٰ کے قانون نے انہیں پکڑ لیا اور عذاب نازل ہوا۔

(تورات کتاب خروج باب ۲۵)

’’اور جب انہیں حکم ہوا کہ بسو اس شہر میں اور کھاؤ اس میں جہاں سے چاہو اور کہو کہ ہم گناہوں کی مغفرت چاہتے ہیں اور داخل ہو دروازے میں سجدہ کرتے تو بخشیں ہم تمہاری تقصیریں آگے اور بہت دینگے نیکی والوں کو سو بدل لیا بے انصافوں نے ان میں سے اور لفظ سوا اس کے جو کہہ دیا تھا پھر بھیجا ہم نے ان پر عذاب آسمانوں سے بدلہ ان کے ظلم کا۔‘‘

(سورۃ اعراف: ۱۶۱۔۱۶۲)

پتھروں کی بارش

بنی اسرائیل مسلسل فتوحات حاصل کرتے ہوئے جب جبعون کی ریاست میں داخل ہوئے تو یروشلم کے حکمران نے چار دوسری ریاستوں کے ساتھ مل کر متحدہ فوج تشکیل دی اور جبعون کا محاصرہ کر لیا تا کہ بنی اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا قلع قمع کیا جا سکے شدید خون ریزی کے بعد متحدہ فوج کو شکست ہوئی، شکست خوردہ فوج جب میدان چھوڑ کر بھاگی تو آسمان سے اولوں اور پتھروں کی بارش ہوئی جس سے باقی ماندہ فوج بھی ہلاک ہو گئی۔ حضرت یوشع علیہ السلام نے فرمایا:

’’اے سورج! تو جبعون پر، اور اے چاند! وادی ابالون میں جاٹھہر اور سورج ٹھہر گیا اور چاند تھم گیا یہاں تک کہ انتقام پورا ہو گیا۔‘‘

(تورات کتاب باب۔۱۰)

کفر و الحاد کی فوجوں سے برسر پیکار رہتے ہوئے حضرت یوشع علیہ السلام نے اکتیس(۳۱) حکمرانوں کو شکست دی، حکم الٰہی کے تحت حضرت یوشع علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے قبائل میں فلسطین کی علاقائی تقسیم کی اور انتظامی امور کے لئے ہزار ہزار سو اور دس دس پر ایک ایک سردار اور منصب دار مقرر کیا اور بنی اسرائیل کے مقدمات کے فیصلوں اور اختلافات کے حل کے لئے قاضیوں کو مقرر کیا۔

خطبہ

وفات سے قبل آپ نے سکم (Shechem) کے مقام پر بنی اسرائیل کو جمع کیا اور آپ نے انہیں مخاطب کر کے فرمایا:

’’قدیم ایام میں تمہارے آباؤ اجداد حضرت ابراہیم علیہ السلام، مخور اور تارح دریائے فرات کے پار کیدیوں کے دور میں دور دراز ملک میں رہتے تھے، جہاں شرک اور بت پرستی عام تھی، اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی رہبری کی ان کو کنعان کے ملک میں لایا اور ان کی نسل پھولی، پھلی پھر جب بنی اسرائیل مصر میں غلامی کی ذلت آمیز زندگی بسر کر رہے تھے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام مبعوث ہوئے اور تمہیں غلامی سے نجات ملی، فلسطین کے حکمرانوں سے تمہارا مقابلہ ہوا اور اللہ نے تمہیں طاقتور قوموں پر فتح عنایت کی اور وہ ملک جس پر تم نے محنت نہیں کی وہ شہر جن کو تم نے بنایا نہیں تم کو عنایت کئے تم ان میں بستے ہو اور ان کے باغوں کے پھل کھاتے ہو جن کو تم نے نہیں لگایا پس اب تم نیک نیتی اور صداقت سے اللہ کی پرستش کرو اور ان باطل دیوتاؤں کو رد کر دو جن کی پرستش تمہارے باپ، دادا دریا کے پار اور مصر میں کرتے تھے اور اپنے دلوں کو پیغمبرانہ طرز فکر کے مطابق اللہ کی عبادت میں مشغول رکھو۔‘‘

لوگوں نے حضرت یوشع علیہ السلام سے اللہ وحدہ لاشریک کی پرستش کا وعدہ کیا اور حضرت یوشع علیہ السلام نے ان کیلئے سکم میں آئین اور قانون بنایا۔ حضرت یوشع علیہ السلام ایک سو دس برس (۱۱۰) اس دنیا میں رہے۔

 (انا للہ و انا الیہ راجعون)

Topics


Mohammad Rasool Allah (3)

خواجہ شمس الدین عظیمی

قرآن کریم میں اﷲ تعالیٰ نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے اس میں کوئی سورہ، کوئی آیت اور کوئی نقطہ مفہوم و معانی سے خالی نہیں ہے۔ اﷲ کے علوم لامتناہی ہیں۔ اﷲ کا منشاء یہ ہے کہ ہم لوگوں کو آگے بڑھتا دیکھ کر خود بھی قدم بڑھائیں اور اﷲ کی نعمتوں کے معمور خزانوں سے فائدہ اٹھائیں۔ قرآن پاک میں انبیاء سے متعلق جتنے واقعات بیان ہوئے ہیں ان میں ہمارے لئے اور تمام نوع انسانی کیلئے ہدایت اور روشنی ہے۔ کتاب محمد رسول اﷲ۔ جلد سوئم میں عظیمی صاحب نے مختلف انبیاء کرام کے واقعات میں روحانی نقطۂ نظر سے اﷲ تعالیٰ کی حکمت بیان فرمائی ہے۔