Topics

لکنت


سوال: شروع ہی سے میرے بولنے میں روانی نہیں۔ بات کرتی ہوں تو الفاظ ٹھیک طریقے سے ادا نہیں ہوتے کہنا کچھ چاہتی ہوں اور کہہ کچھ اور دیتی ہوں۔ کسی سے ڈھنگ سے بات نہیں کر سکتی۔ کسی سوال کا جواب دیتے وقت زبان ساتھ نہیں دیتی اور گھبراہٹ ہوتی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میری گفتگو میں تسلسل پیدا ہو جائے اور میں ہر موضوع پر روانی سے بول سکوں بعض اوقات بے اختیار مضحکہ خیز بات کہہ دیتی ہوں جس پر بعد میں بے حد شرمندگی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ مجھ میں قوت ارادی کا فقدان ہے۔ کوئی کام شروع کروں تو میں اسے پورا نہیں کرتی۔ دل جلد اکتا جاتا ہے کسی کام میں دل نہیں لگتا۔ میں چاہتی ہوں کہ عقلمند ہو جاؤں بات سوچ سمجھ کر کروں اور مجھ میں فہم و فراست پیدا ہو جائے۔

جواب: رات کو سونے سے پہلے بستر پر پشت کے بل لیٹ کر یہ تصور کریں کہ دل سے ایک شعاع نکل کر دماغ میں جذب ہو رہی ہے۔ گویا دل دماغ کو فیڈ کر رہا ہے دس منٹ تک تصور کرنے کے بعد سو جائیں۔ ایک ماہ کے اس عمل سے انشاء اللہ آپ اپنی جملہ خامیوں سے نجات حاصل کر لیں گے۔

Topics


Roohani Daak (1)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔