Topics

ضدی بچہ


سوال: میرا بچہ محمد کامران جس کی عمر 3سال ہے۔ انتہائی ضدی ہے۔ ہم اس کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنی ہر خواہش کے لئے انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس کی دو عادتیں جنون کی حد تک پہنچی ہیں ایک یہ کہ وہ ہر وقت باہر جانا چاہتا ہے۔ گھر کا کوئی فرد اس کے سامنے گھر سے نکلنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ حد یہ کہ کوئی غیر بھی باہر جانا چاہے تو ضد کرتا ہے کہ ’’میں بھی جاؤں گا”درجنوں کھلونے اس وقت اس کی خواہش کے سامنے ہیچ ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جو چیز اس کو اچھی لگ جائے اس کو اپنی بنا ڈالتا ہے، کہتا ہے یہ چیز میری ہے۔ اپنے سامنے کسی کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ صبح لازمی طور پر روتا ہوا اٹھتا ہے۔ مختلف فرمائشیں کرتا ہے ایک کی تکمیل ہوتی ہے تو دوسری تیار ہوا کرتی ہے۔ اس کی ضدوں نے اسے انتہائی چڑچڑا بنا دیا ہے ۔

اسی بناء پر انتہائی کمزور ہے۔ ہمیں اس کی ضدوں سے نہیں اس کی کمزوری سے تشویش ہے۔ واضح رہے کہ موصوف ہر قسم کی دوا انتہائی آرام سے کھا جاتے ہیں۔

جواب: آپ اپنے بچہ کے ساتھ دوستی نہیں، دشمنی کر رہے ہیں۔ آپ نے اس کی ہر خواہش کو پورا کر کے ضدی بنا دیا ہے۔ اگر آپ کی یہ روش نہ بدلی تو وہ ذہنی مریض بن جائے گا۔ اولاد کی تربیت والدین کے اوپر فرض ہے۔ بے جا ضدیں اور جا بے جا تمام خواہشیں پوری کرنا فرائض میں داخل نہیں ہے۔ بچہ شعوری طور پر وہی سیکھتا ہے جو اسے ماں باپ سکھا دیتے ہیں۔ انسان کا شعور دو اکائیوں میں بنا ہوا ہوتا ہے۔ اس کا نصف شعور ماں باپ اور قریبی اہل محلہ کے اعمال و حرکات اور طرز فکر سے بنتا ہے اور نصف پر ماحول کا اثر غالب رہتا ہے، کتنی عجیب بات ہے کہ آپ کہتے ہیں’’ہمیں اس کی ضدوں سے نہیں کمزوری سے تشویش ہے”یاد رکھئے اگر آپ نے اپنی طرز فکر کا محاسبہ کر کے اس میں اعتدال پیدا نہیں کیا تو آ پ کو ایک بچہ کی غلط تربیت کرنے کا خدا کے ہاں جواب دہ ہونا پڑے گا۔آہستہ آہستہ پیار ومحبت کے ساتھ بچہ کی طبیعت میں تبدیلی لانا آپ کا فرض ہے۔ اس فرض میں ہرگز کوتاہی نہ کیجئے۔ ابھی کچھ نہیں بگڑا، وہ کچی لکڑی ہے آپ اسے بہت آسانی سے سدھار سکتے ہیں۔ روحانی علاج تحریر ہے اس پر عمل کیجئے اور آئندہ اپنی روش فکر کو صحیح خدوخال دیجئے۔بچہ رات کے وقت جب گہری نیند سو جائے تو اس کے قریب کھڑے ہو کر ایک ہفتہ تک عبارت پڑھئے۔ "کامران تم بہت سعادت مند لڑکے ہو۔ ضد نہیں کرتے۔ تمہارا دماغ بہت صحت مند ہے۔ تمام باتیں ہونہار اور ہوشیار بچوں کی طرح سوچتے ہو۔ کھیلتے ہو اور خوش رہتے ہو۔"یہ عبارت پڑھتے وقت اگر بچہ نیند سے بیدار ہو جائے تو اس وقت تک انتظار کیجئے جب تک کہ وہ دوبارہ گہری نیند سو جائے۔

Topics


Roohani Daak (1)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔