Topics

خود ترغیبی


سوال: میں ایک تعلیم یافتہ لڑکی ہوں اور سروس بھی کرتی ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ میرے کسی کام میں کشش نہیں ہے۔ رائٹنگ بھی اتنی خراب ہے کہ مجھے خود شرم آتی ہے۔ اکثر میرا مذاق اڑتا ہے اس کے علاوہ میری بنائی، سلائی میں خواہ میں کتنی ہی محنت سے کروں۔ کوئی خوبصورت نہیں ہوتی ۔ میری شخصیت میں بھی کوئی کشش نہیں ہے۔ ان مسائل کا حل بتا کر مشکور فرمائیں۔

جواب: آپ کی تحریر کا تجزیہ کرنے پر لاشعور نے اس بات کی طرف رہنمائی کی ہے کہ آپ احساس کمتری کے شکار ہیں۔ آپ کے اندر صلاحیتیں تو موجود ہیں لیکن وہ احساس کمتری کے ڈھیر میں دبی ہوئی ہیں۔ احساس کمتری نے آپ کی شخصیت کو مدہم کر دیا ہے۔

آپ اپنے ذہن سے یہ بات نکال دیں کہ آپ کے اندر کشش نہیں ہے اور آپ کا کوئی کام نامکمل ہے۔ صلاحیتوں کو متحرک کرنے کے لئے رات کو سونے سے پہلے پشت کے بل لیٹ کر یہ جملے دل ہی دل میں دہرائیں۔

میری صلاحیتیں جاگ رہی ہیں اور میرے اندر کشش روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ایک ماہ بعد آپ کی جملہ پریشانیوں کا تدارک ہو جائے گا۔ انشاء اللہ

Topics


Roohani Daak (1)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔