Topics

رات بھر روتی ہوں۔پریشانی سے نجات


سوال: یہ دیکھ کر اور پڑھ کر خوشی ہوتی ہے کہ آج بھی دنیا میں کچھ ایسے لوگ باقی ہیں جن کے پاس ایسا علم موجود ہے جو اس مادہ پرستی کے دور میں بھی اولاد آدم کو مسائل سے نجات دلوا سکتے ہیں۔ پریشان ذہنوں کو اگر سکون نہیں ہے تو سکون حاصل کرنے کا طریقہ بتا دیتے ہیں۔ خدا آپ کے علم میں ترقی عطا فرمائے۔ اور پریشان انسانوں کو پریشانیوں سے نجات دے، آمین۔ مسئلہ یہ ہے کہ میں بہت بھٹکی ہوئی ہوں۔ ذہن ہر وقت شدید الجھاؤ میں رہتا ہے۔ ہر بات کا منفی پہلو پہلےسوچتی ہوں، مثبت پہلو پر شاذو نادر ہی نظر پڑتی ہے۔ انتہائی غیر مستقل مزاج ہوں۔ ان تمام برائی کے احساس کے باوجود اپنی عادتوں کو سنوارنے میں ناکام رہتی ہوں۔

ماضی پر نظر ڈالتی ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ بچپن ہی سے ضدی چڑچڑی اور احساس محرومی کا شکار رہی ہوں۔ بچپن میں والدین کو اتنی فرصت نہ مل سکی کہ وہ ان بری عادتوں کی وجہ معلوم کر سکیں البتہ یہ ضرور ہوا کہ مجھے بدتمیز اور لڑاکا کہہ کر باقی بہن بھائیوں کو مجھ سے علیحدہ رہنے کو کہا گیا نہ تم اس کے ساتھ کھیلو گے نہ اس سے لڑائی ہو گی۔ اس طریقے نے مجھ سے تمام بہن بھائیوں کو رفتہ رفتہ دور اور مجھے تنہا کردیا۔ میں سب بہن بھائیوں میں بڑی ہوں۔

جوں جوں ہوش سنبھالتی گئی اسی قدر احساس محرومی بڑھتا گیا اور ذہنی دباؤ کی مستقل مریضہ بنتی گئی۔ تعلیم ساتھ ساتھ جاری رہی گو کہ معاشی مسئلہ شدید رہا۔ مگر خدا کے فضل و کرم سے جیسے تیسے گریجویشن اچھے نمبروں سے کر ہی لیا۔ میری گھریلو شخصیت گھر سے باہر والی شخصیت سے یکسر مختلف ہے۔ گھر میں حد سے زیادہ ذہنی دباؤ رہتا ہے۔ تنہائی پسند ہو گئی ہوں۔ گھر والوں سے رابطہ رہتا ہے اور نہ وہ لوگ مجھ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ طریقہ کار تو بچپن سے ہی ہے۔ البتہ اب میں اگر کوشش بھی کرتی ہوں کہ بچپن کی تلخ محرومی ختم کر کے ان کے ساتھ مل جاؤں مگر ناکام ہوتی  ہوں۔ کیونکہ ان کی طرف سے کوئی اچھا تاثر نہیں ملتا۔ جبکہ گھر سے باہر ایک انتہائی خوش اخلاق اور پرکشش شخصیت کی مالک ہوں۔ میرے ملنے والوں کا حلقہ خاصہ وسیع ہے۔ کچھ عرصہ صحافت سے کامیاب تعلق رہا۔ مختلف سماجی تنظیموں سے وابستہ رہی۔ میرے ملنے والوں میں پڑھے لکھے ہر عمر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔

 جن کے پاس بیٹھ کر آدمی کچھ سیکھ سکتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ میرے ملنے والے ایسے لوگ کافی تعداد میں ہیں اور اپنے بڑے سے بڑے راز اپنی پریشانیاں تک مجھے بتا دیتے ہیں جبکہ خود میں آج تک کبھی کسی کو اپنا دکھ اپنی پریشانی نہیں بتا سکی۔ میرے ملنے والے جو نہ صرف مجھ سے اچھے بلکہ علم میں بہت بڑے ہیں اکثر اپنی پریشانی میں مجھ سے مشورہ مانگتے ہیں۔ لیکن میں خود آج تک نہ اپنے آپ کو کوئی مشورہ دے سکی نہ اپنے مسائل کا حل تلاش کر سکی۔ پچھلے ایک سال سے تو میرا ذہنی الجھاؤ اس قدر بڑھ گیا  ہےکہ سوچ سوچ کر آنکھوں کے گرد حلقے پڑنے لگے ہیں۔ نیند کی گولیاں کھانے کے باوجود نیند نہیں آتی۔ رات بھر روتی رہتی ہوں۔ خداتعالیٰ سے دعا کرتی ہوں کہ پروردگار اس ذہنی کرب سے نجات دے۔ میرے گناہوں کو بخش جس طرح یہ دکھ مجھے ہے کسی لڑکی کو نہ دینا۔ میری کوئی ایسی دوست نہیں جس کو اپنا دکھ سنا سکوں۔ کسی کے ساتھ بیٹھ کر کچھ دیر بات کر سکوں۔

جواب: آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ البتہ آپ خود اپنے مسائل کی دلدل میں اتر گئی ہیں۔ نہایت آسان حل ہے کہ مخلوق کو عزیز کریں اور لوگوں کے کام آئیں۔ وہ کام شروع کر دیں جو اللہ کرتا ہے۔ سامنے کی بات ہے کہ اللہ نہ کھاتا ہے اور نہ اللہ کو پیاس لگتی ہے۔ اللہ کو نیند بھی نہیں آتی۔ مگر اس کے باوجود اللہ اپنی مخلوق کے لئے ہر قسم کے وسائل میسر کرتا ہے۔ اور مخلوق کی کسی بات کی پرواہ نہیں کرتا۔ مخلوق اللہ کے وجود سے انکار کرے۔ مخلوق اللہ کے بتائے ہوئے قانون پر عمل نہ کرے اس کی عبادت کرے یا نہ کرے۔ اللہ کسی کے اوپر زندگی کے وسائل پانی، ہوا اور رزق بند نہیں کرتا اور مخلوق سے کوئی توقع بھی نہیں رکھتا۔ آپ بھی توقع قائم کئے بغیر اپنی استطاعت اور صلاحیت کے مطابق اللہ کی مخلوق کی خدمت کریں۔ زندگی آپ کے سامنے رقص کرے گی اور آپ خوش رہیں گی۔

 

Topics


Roohani Daak (1)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔