Topics

ترتیب و پیشکش

سائنسی تخریبی ترقی کی چکا چوند‘ عدم تحفظ کے احساس‘ بے یقینی اور شک کے طوفان سے پیدا ہونے والی تین سو سے زائد بیماریوں کا علاج اور مسائل کا حل روحانی ڈاک جلد اول میں پیش کیا جا رہا ہے۔

آدمی کسی دور میں بھی چند فی ہزار سے زیادہ صحت مند نہیں رہا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی نے ہمیشہ یقین کی جگہ شک اور وسوسوں میں مبتلا ہو کر زندگی گزاری ہے۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے شک کو دماغ میں جگہ دینے کو منع فرمایا ہے۔ یہ وہی شک ہے جس سے آدم کو باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بالآخر شیطان نے آدم کے دماغ میں شک ڈال دیا اور آدم کو جنت سے نکلنا پڑا۔

روحانی نقطہ نظر سے جتنے مسائل و مشکلات اور جتنی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ان کا تعلق دماغی خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ سے ہے اور دماغی خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ شک اور بے یقینی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔اگر انسان یقین کی زندگی گزارے تو اس کے اوپر سے خوف‘ غم اور عدم تحفظ کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ وہ خوش رہتا ہے۔۔۔۔۔۔پرسکون رہتا ہے۔۔۔۔۔۔صحت مندی کا گراف بڑھ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔اور بیماریوں کا گراف گر جاتا ہے۔

اس قانون کے مطابق روحانی اسکالر مرشد کریم حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی مدظلہٰ نے نوع انسانی کو مصائب و آلام، بیماریوں اور پریشانیوں سے نجات دلانے کے لئے اب سے تیس(30) سال پہلے خدمت خلق کا آغاز کیا تھا۔ دس سال تک گوشہ نشین ہو کر خدمت خلق کے اس مشن کو چلاتے رہے۔۔۔۔۔۔جب رجوع خلائق ہوا تو میڈیا کو استعمال کیا اور 1969ء میں جرائد اور اخبارات کے ذریعے اس کو عام کر دیا۔ محتاط اندازے کے مطابق اخبارات اور روحانی ڈائجسٹ کی معرفت خط و کتابت کے ذریعے اور بالمشافہ ملاقات کر کے عظیمی صاحب قبلہ نے چودہ لاکھ خواتین و حضرات کے مسائل کا حل اور پیچیدہ امراض کا علاج پیش کیا ہے۔ 

اب صورت حال یہ ہے کہ جہاں کہیں پانچ آدمی جمع ہو جاتے ہیں‘ کوئی لاینحل مسئلہ یا کسی لا علاج بیماری کا تذکرہ آ جائے تو کوئی نہ کوئی کہہ دیتا ہے‘ عظیمی صاحب سے رابطہ قائم کر لو‘ مسئلہ حل ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔شفا ہو جائے گی کہ اللہ نے مخلوق کے لئے انہیں مسیحا بنایا ہے۔

بات جب بالمشافہ ملاقات اور خط و کتابت سے بہت زیادہ آگے بڑھ گئی تو مرشد کریم نے شہر شہر اللہ کی مخلوق کے لئے علاج معالجہ کے مراکز قائم کئے۔۔۔۔۔۔اس وقت پاکستان اور بیرون پاکستان برطانیہ، ہالینڈ، امریکہ، ناروے، افریقہ، بھارت، متحدہ عرب امارات وغیرہ میں بیالیس مراکز (Healing Centres) کام کر رہے ہیں۔ جن میں سے مراقبہ ہال (جامعہ عظیمیہ) عظیمیہ روڈ(آہلو) نزد کاہنہ نوفیروز پور روڈ لاہور کا میں خادم ہوں۔

مجھے قدرت نے القاء کیا کہ مرشد کریم کی مسیحائی کو اس طرح عام کر دوں کہ ہر خاص و عام بلا تخصیص مذہب و ملت اس سے فائدہ اٹھائے۔۔۔۔۔۔قدرت جب کچھ چاہتی ہے‘ اس کی تکمیل کے لئے مخلوق میں سے کسی ایک فرد کا انتخاب کر لیتی ہے۔۔۔۔۔۔میں نے قدرت کے اشارے پر قدم آگے بڑھا دیا اور بیس سال میں مسائل کے حل اور علاج معالجہ کے سلسلہ میں جو کچھ اخبارات اور جرائد میں شائع ہو چکا ہے اسے یکجا کر دیا۔۔۔۔۔۔اللہ کے فضل و کرم‘ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت او ر مرشد کریم کے فیض سے روحانی ڈاک کی چار جلدیں مرتب ہو گئیں۔ روحانی ڈاک کی پہلی جلد آپ کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و تندرستی عطا فرمائے اور آپ سکون آشنا زندگی سے مانوس ہو جائیں۔

دعا کیجئے کہ مرشد کریم کا سایہ میرے اوپر قائم رہے اور ان کا فیض میرے اوپر محیط ہو جائے۔ یہاں وہاں‘ دنیا و آخرت‘ ازل تا ابد مجھے ان کی رفاقت نصیب ہو۔ آمین یا رب العالمین

خاکِ پا درِ خواجہ عظیمی

میاں مشتاق احمد عظیمی



Roohani Daak (1)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔