Topics

ایک لاکھ خواہشات

سوال: شادی کو 27سال ہو گئے ہیں۔ یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ اس وقت سے لے کر آج تک ایک دن بھی سکون سے نہیں گزرا۔ شوہر اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اچھی پوسٹ پر فائز ہیں۔ گھر میں خدا کے فضل سے خوشحالی اور فارغ البالی ہے۔ مگر ذہنی آسودگی مفقود ہے۔ ہم میں سے کسی کی صحت ٹھیک نہیں ہے ۔شوہر مستقل بیمار رہتے ہیں۔ خوف اور حزن کا شکار ہیں۔ چار لڑکے ہیں ان کو بھی کچھ نہ کچھ لگا رہتا ہے اور خود میں بھی اعصابی تناؤ اور ڈپریشن کی شکار ہوں۔ روحانی ڈاک کی مستقل قاری ہوں۔ ماورائی علوم پر دسترس اور مسائل حیات پر آپ کی گرفت مجھے تو حیران کئے دیتی ہے۔ میرے مسائل کا بھی کوئی حل نکالئے۔

جواب: انسان کی یہ عادت ہے کہ وہ دوسروں سے توقعات قائم کرتا ہے اور بعض اوقات ایسی امیدیں وابستہ کر لی جاتی ہیں جن کو پورا کرنا ہر انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ جب توقعات پوری نہیں ہوتیں تو بار بار مایوسی ہوتی ہے اور آدمی ڈپریشن کا مریض بن جاتا ہے۔ حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ بندے کو کسی ایسی ذات سے توقعات قائم کرنی چاہئیں جس کے قبضہ قدرت میں یہ بات ہے کہ اس سے اگر روزانہ ایک لاکھ خواہشات بھی وابستہ کر لی جائیں تو اسے ان کو پورا کرنے کی قدرت حاصل ہے۔

سکون آدمی باہر تلاش کرتا ہے جبکہ سکون کا تعلق خارجی چیزوں سے ہرگز نہیں ہے۔ سکون ایک مستقل اور حقیقی کیفیت ہے جب ہم فکشن اور غیر حقیقی وسائل میں سکون تلاش کرتے ہیں تو ہمارا لا شعور بے چین اور مضطرب ہو کر احتجاج کرتا ہے۔ لاشعور کا یہی احتجاج، ڈپریشن اور بے سکونی ہے۔ہمارے اندر ایک حقیقی ایجنسی ہر وقت، ہر لمحہ اور ہر آن مصروف ہے۔ جب اس ایجنسی سے ہمارا رشتہ مستحکم ہو جاتا ہے تو ہمارے اوپر سے حزن و ملال اور بے یقینی کی کیفیت ختم ہو جاتی ہے۔ یہ ایجنسی ہماری روح ہے۔ اور روح اللہ تعالیٰ سے وابستہ ہے۔ اسی لیے جو بندے اللہ تعالیٰ سے قریب ہو جاتے ہیں وہ ہمیشہ پر سکون رہتے ہیں۔ ان کے اوپر پریشانیوں اور بیماریوں کا غلبہ نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ سے قریب ہونے اور اللہ تعالیٰ سے دوستی کرنے کا مؤثر ذریعہ مراقبہ ہے۔ آپ بھی مراقبہ کیا کریں ، انشاء اللہ ساری پریشانیوں سے نجات مل جائے گی۔ رات کو سونے سے پہلے آنکھیں بند کر کے یہ تصور کیا کریں کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے۔



Roohani Daak (1)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔