Topics

ایب نارمل زندگی

سوال: میرا چھوٹا بھائی جس کی عمر دس سال ہے آج سے تقریباً ایک مہینہ پہلے اپنی والدہ کے ساتھ صدر گیا۔ وہاں بس اسٹاپ پر بس کے ہارن سے اس قدر خوفزدہ ہوا کہ ہاتھ پاؤں سن اور حلق خشک ہو گیا، رنگ بھی پیلا پڑ گیا۔ اس کے بعد حال یہ ہوا کہ اس کا حلق خشک رہنے لگا اور وہ ہر وقت پانی پینے لگا۔ بار بار پیشاب کی حاجت ہونے لگی۔ والدہ نے بھائی کو اسی وقت ہسپتال پہنچایا لیکن ڈاکٹروں نے اسے نارمل قرار دے دیا۔ دوسرے تیسرے دن پھر بھائی پر وہی دورا پڑا۔ اور اسی طر ح ہاتھ پاؤں سن ہو گئے، حلق خشک ہو گیا۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ اگر کوئی گانا دورے کے وقت گایا جا رہا ہو تو وہی گانا دوبارہ سننے پر رونے لگتا ہے۔ خاص طور پر صبح کے وقت یہ دورہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ آنکھوں کے پپوٹے بھاری ہو جاتے ہیں اور دورہ شروع ہو جاتا ہے، ہر وقت خوفزدہ رہتا ہے، اسے ایک وہم یہ بھی ہے کہ اس پر اثر ہے، گھٹن کی وجہ سے ہر وقت ٹہلتا رہتا ہے۔ کبھی پیٹ میں درد ، کبھی سینے میں درد اور کبھی سر میں درد کی شکایت کرتا ہے۔ ای سی جی ٹھیک ہے۔ پیشاب اور خون کے ٹیسٹ بھی نارمل ہیں۔ اس کے باوجود بھائی ہر وقت دل پر ہاتھ رکھے دھڑکن چیک کرتا رہتا ہے۔ دل کی دھڑکن اتنی تیز ہو جاتی ہے کہ آواز صاف سنائی دیتی ہے۔ ہم سے اس کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی۔

جواب: بہت سارے مور کے پر جمع کر کے ان پروں میں سے ہڈی الگ کر لی جائے۔ نقش و نگار سے مزین جو پر باقی رہ جائیں۔ ان سے قرآن پاک کی آیت ما کذب الفواد مارای لکھیں۔ طریقہ یہ اختیار کریں کہ کسی خوشنویس سے دوہرے خط میں موٹے قلم سے یہ آیت چکنے کاغذ پر لکھوا لیں۔ یہ دوہرا خط اتنا کھلا ہونا چاہئے کہ اس میں مور کے پر آسانی کے ساتھ چپک جائیں۔ اس سفید کاغذ کو سیاہ مخمل کے کپڑے پر رکھ کر فریم کرا لیں اور صاحبزادے سے کہیں کہ وہ دن رات میں بار بار کچھ وقفہ دے کر اس آیت پر نظر جمائیں۔ کھانوں میں میٹھی چیزوں کا استعمال زیادہ کریں اور خاص طور پر عصر کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ایک چھٹانک گرم جلیبی کھائیں۔ جلیبی ٹھنڈی نہیں ہونی چاہئے۔ اور جلیبی میں شیرہ زیادہ ہونا چاہئے۔ دعا اور دوا کے اصول پر اس علاج سے 40روز میں انشاء اللہ (abnormality) ختم ہو جائے گی۔



Roohani Daak (1)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔