Topics

انسانی وولٹیج

سوال: میں جس کیفیت سے دوچار ہوں وہ کیفیت کچھ یوں ہے کہ جب میں غیر ارادی طور پر آنکھیں بند کر کے دیکھتی ہوں تو مجھے عجیب طرح کی چیزیں نظر آتی ہیں۔ کبھی کوئی عمارت ، کبھی انسانی ہیولا اور اکثر بڑی بڑی اور روشن آنکھیں اور پھر یہ شکلیں غائب ہو جاتی ہیں۔ لیکن میری شدت سے یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ آنکھیں پھر نظر آئیں۔ رات کو جب میں سونے کے لئے لیٹتی ہوں اور آنکھیں بند کرتی ہوں تو نیند نہیں آتی، سر درد کرنے لگتا ہے۔ اسی کیفیت میں اگر نیند آ جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں تنگ اندھیرے غار سے گزر رہی ہوں۔ میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔ نبض تیز چلنے لگتی ہے۔ آنکھیں کھولنا چاہتی ہوں تو تھوڑی سی کھلتی ہیں لیکن میں اس کیفیت میں رہتی ہوں، چیخنا چاہوں تو چیخ نہیں سکتی۔ پوری قوت لگا کر اٹھنا چاہوں توا ٹھ نہیں سکتی۔ مجھے بتایئے کہ ایسا کیوں ہے اور میں اس سے کیسے نجات حاصل کر سکتی ہوں؟

جواب: انسان کے گوشت پوست کے جسم کے اندر روشنیوں اور لہروں سے بنا ہوا ایک اور جسم ہوتا ہے۔ اس جسم میں ایک مخصوص مقدار کی وولٹیج گردش کرتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے برقی رو کا یہ دور تیز ہو جائے تو ایسے حالات بھی پیدا ہونے چاہئیں کہ اس رو کی تیزی شعوری دنیا میں کہیں استعمال ہو۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو اعصاب پر دباؤ پڑتا ہے اور اس کی شکست و ریخت بھی ہو سکتی ہے۔ یہی صورتحال آپ کو درپیش ہے۔ ا س کے تدارک کے لئے روزانہ رات کو 3چھوہارے دودھ میں بھگو دیں۔ بھگونے سے پہلے ان میں سے گھٹلی نکال دیں۔ صبح نہار منہ چھوہارے کھا لیں اور اوپر سے دودھ پی لیں۔ غذا میں تیز نمک اور مصالحہ دار اشیاء سے پرہیز کریں۔ پندرہ دنوں میں آپ کی حالت معمول پر آ جائے گی۔



Roohani Daak (1)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔