Topics

اندرونی بخار

سوال: آج سے چھ سال قبل جب میری عمر گیارہ سال تھی تو مجھے ٹائی فائیڈ ہوا۔ بیماری کے دوران ایک جگہ گیا جہاں کیلے تقسیم کئے گئے جیسے ہی کیلا میرے حلق سے نیچے اترا مجھ پر غشی طاری ہو گئی، کچھ ہوش نہ رہا کہ کیا ہوا۔ جب آنکھ کھلی تو ہسپتال میں تھا، بے ہوشی کی حالت میں مجھ پر کیا بیتی مجھے نہیں معلوم البتہ گھر والے کہتے ہیں کہ آنکھیں چڑھ گئی تھیں اور گردن اکڑ گئی تھی۔ جب ہسپتال سے چھٹی ملی تو ڈاکٹر نے بتایا کہ مجھے دماغ کی ٹی بی ہو گئی ہے۔ دوسرے ڈاکٹروں نے کوئی وضاحت نہیں کی، علاج ہوتا رہا۔ 

ایک دن جب میں سو کر اٹھا تو اچانک چکرا کر گر گیا ، گھر والوں نے اٹھا کر لٹایا اس وقت میرے بائیں حصہ پر فالج کا اثر ہوا۔ علاج سے فالج کا اثر ختم ہو گیا اور اب میں آرام سے چل پھر سکتا ہوں لیکن اب بھی سوتے وقت عجیب حالت ہو جاتی ہے ، دماغ گھومتا ہے، دل گھبراتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بستر ہوا میں اڑ رہا ہو۔ اکثر اس خوف کی وجہ سے نیند کوسوں دور چلی جاتی ہے۔ جب میں رات کو کسی گاڑی میں سفر کرتا ہوں تو یہی حالت ہو جاتی ہے اور کئی گھنٹوں تک حواس قابو میں نہیں آتے سفر کے بعد بھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اب بھی گاڑی میں سفر کر رہا ہوں۔

جواب: یہ ساری علامات اندرونی بخار کی ہیں۔ بخار کے ساتھ بلڈ پریشر کا بھی پتہ چلتا ہے۔ کیلا کھانے سے ٹھنڈ کی وجہ سے بخار دماغ کی طرف چلا گیا اور دماغ کے خلیے متاثر ہو گئے جس کی بناء پر بے ہوشی طاری ہو گئی۔ اب بھی بخار کے اثرات موجود ہیں۔ نہایت توجہ اور پرہیز کے ساتھ مرض کے خاتمہ کے لئے پورا علاج ہونا ضروری ہے ۔ دوا دارو کے علاج کے ساتھ ساتھ روحانی علاج یہ ہے:

جب بھی کوئی مشروب پانی، چائے یا دودھ پئیں ایک بار بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ ھُواللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِئیُ الْمُصَوِّرُلَہٗ الْاَسْمآءُ الْحُسْنٰی پڑھ کر دم کر کے پئیں۔ سمندر جھاگ، نہایت باریک پیس کر کاغذ میں پڑیا بنا کر تکیہ کے نیچے رکھ دیں۔ یہ پڑیا ہر 24گھنٹے کے بعد تبدیل کر دیں۔ ایک پڑیا میں ایک تولہ میدہ کی طرح باریک پسا ہوا سمندر جھاگ کافی ہے۔ چالیس روز کے علاج سے انشاء اللہ بخار سے نجات مل جائے گی۔



Roohani Daak (1)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔