Topics

اسلامی لباس کا تصور

سوال: میں ایک طویل عرصے سے روحانی ڈاک کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ صحیح معنی میں یہ اسلامی تہذیب اور شریعت طریقت کا علمبردار ہے جس کے مطالعہ سے بہت سے لوگوں کی سوچنے کی طرزیں بدل جاتی ہیں۔ بہت سی پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں۔ میں یہاں آپ سے چند سوالات کرنے کی جسارت کر رہا ہوں جو ہماری روزمرہ کی زندگی میں عام طور سے کئے جاتے ہیں لیکن ان کا کوئی مناسب اور قابل قبول جواب نہیں ملتا نتیجتاً سوال ہمیشہ تشنہ رہ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسلامی لباس کسے کہیں گے؟ کیا خالص اسلامی لباس عربی لباس ہے؟ کیا شلوار قمیض اسلامی لباس ہے؟ کیا پینٹ شرٹ اور بلاؤز اور اسکرٹ پہننا اسلامی شریعت کے خلاف ہے؟ کیونکہ وہ بچے جو غیر ممالک میں پرورش پاتے ہیں ان کے لئے مقامی لباس ہی اولیت رکھتا ہے وہ عربی لباس یا شلوار قمیض پہنیں تو انہیں بڑا عجیب لگتا ہے۔

جواب: آپ کا سوال روزمرہ کا مسئلہ ہے جو بعض اوقات بڑی سنگین صورتحال اختیار کر لیتا ہے اس سلسلے میں عرض ہے کہ کسی بھی چیز کا اسلامی تصور اور حیثیت وہی ہے۔ جس کا بیان اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے۔ قرآن پاک میں، میں نے ایسی کوئی آیت نہیں دیکھی جس میں درج ہو کہ عربی لباس یا شلوار قمیض کو ہی اسلامی لباس قرار دیا گیا ہو۔ نہ کوئی ایسی حدیث نظر سے گزری جس سے کسی مخصوص لباس کا اسلامی لباس ہونا ثابت ہوتا ہو۔ البتہ قرآن پاک میں سورہ اعراف کی 36ویں آیت میں انسانوں کے لئے لباس کا جو تصور عطا کیا ہے وہ کچھ اس طرح ہے:

ترجمہ:’’اے اولاد آدم! بے شک اتارا ہم نے تم پر لباس جو ڈھانپتا ہے تمہاری شرم گاہوں کو اور باعث زینت ہے اور پرہیز گاری کا لباس وہ سب سے بہتر ہے۔‘‘

لباس کی جو تعریف مذکورہ بالا آیت میں کی گئی ہے۔ وہ مرد اور عورت دونوں کے لئے یکساں ہے۔ لباس کی تراش و خراش، تہذیب، ملک اور معاشرے سے تعلق رکھتی ہے۔ زمین کے ہر خطے میں موروثی اسباب و عوامل تہذیب اور موسم کی تبدیلی کی وجہ سے طرز معاشرت مختلف ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے اثرات دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ لباس پر بھی پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں ہر علاقے میں مختلف لباس پہنا جاتا ہے۔ عرب کا لباس الگ چینیوں کا لباس الگ، جاپانیوں کا لباس الگ ہے، انگریزوں کا لباس الگ ہے، ہندوستان کا لباس الگ ہے، پاکستانیوں کا لباس الگ ہے۔ علیٰ ہذا القیاس ہر علاقے کے لوگوں کے لباس الگ الگ ہیں۔ لباس کی تراش و خراش انسان کا ایک ہنر ہے اور ہر ہنر کی صلاحیتیں اللہ تعالیٰ کی صفات کی انوار ہیں جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو اس کے حکم اور اجازت کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اگر ہندو یہودی یا عیسائی عربی لباس پہن لے تو وہ مسلم بن جائے گا؟ یا کوئی مسلم، عیسائی یا یہودی، قمیض اور دھوتی پہن لے تو وہ ہندو کہلائے گا؟ اسی طرح کیا اگر کوئی ہندو، یہودی یا مسلم، انگریزی لباس پہن لے تو وہ انگریز ہو جائیں گے؟ وہ لوگ جو انگریزی، ہندوستانی، جاپانی یا چینی ماحول میں جنم لیتے ہیں اور پرورش پانے کی وجہ سے مقامی لباس پہنتے ہیں کیا وہ مسلم کہلانے کے مستحق ہیں؟ علمائے کرام سے التماس ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنے خیالات کا اظہار کریں ہم شکریے کے ساتھ ان کے گرانقدر خیالات کو اپنے روحانی ڈاک کے کالم میں شائع کر دیں گے۔



Roohani Daak (1)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔