Topics

اجمیر شریف کی حاضری

سوال: ایک سوال لے کر حاضر خدمت ہو رہا ہوں۔ درخواست ہے کہ اس کا جواب مرحمت فرمائیں۔ مشہوربزرگ حضرت بابا تاج الدین ناگ پوری کی ایک کرامت یوں درج ہے کہ ایک شخص نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا کہ مجھے اجمیر شریف جانے کی اجازت دی جائے۔ بابا صاحب نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا کہاں جاتے ہو اجمیر یہیں ہے۔ اسی لمحے ا س شخص نے دیکھا کہ وہ اجمیر میں موجود ہے اور وہاں کی سیر کر رہا ہے۔ ازراہ کرم اس بات پر روشنی ڈالیں کہ ایسا کیوں کر ہوا؟

جواب: اس کرامت کے اصول کو سمجھنے کے لئے انسانی ذات اور زمان و مکان پر مختصر روشنی ڈالنا ضروری ہے۔ انسان کی ذات کا ایک حصہ داخلی ہے اور دوسرا خارجی۔ داخلی حصہ وحدت ہے جہاں نہ زمانیت ہے نہ مکانیت۔ احساس کے صرف تین حصے شاہد، مشہود اور مشاہدہ پائے جاتے ہیں۔ ذات کے خارجی حصے میں یہی احساس زمانیت اور مکانیت دونوں کو احاطہ کر کے ٹھوس شکل میں ظاہر کرتا ہے۔ کسی شخص کا باطن جو اس کی اپنی ذات ہے۔ امر ربی یا روح کہلاتا ہے اور روح میں کائنات کے تمام اجزاء اور ا س کی حرکتیں منقوش اور موجود ہیں اس بات کو ایک مثال سے سمجھئے۔

ہم کسی عمارت کی ایک سمت میں کھڑے ہو کر اس عمارت کے ایک زاویہ کو دیکھتے ہیں۔ جب اس عمارت کے دوسرے زاویے کو دیکھنا ہوتا ہے تو چند قدم چل کر اور کچھ فاصلہ طے کر کے ایسی جگہ کھڑے ہو جاتے ہیں جہاں سے عمارت کے دوسرے رخ پر نظر پڑتی ہے۔ نگاہ کا زاویہ تبدیل کرنے میں چند قدم کا فاصلہ طے کرنا پڑتا اور فاصلہ طے کرنے میں تھوڑا سا وقفہ بھی صرف ہوا۔ اس طرح نظر کا ایک زاویہ بنانے کے لئے مکانیت اور زمانیت دونوں وقوع میں آئیں۔ ذرا وضاحت سے اسی بات کو ہم یوں بیان کر سکتے ہیں کہ جب ایک شخص لندن ٹاور کو دیکھنا چاہے تو کراچی سے سفر کر کے اسے لندن جانا پڑے گا۔ ایسا کرنے میں اسے ہزاروں میل کی مکانیت اور کئی دنوں کا زمانہ لگانا پڑے گا۔ اب نگاہ کا وہ زاویہ بنا جس سے لندن ٹاور دیکھا جا سکتا ہے۔ مقصد صرف نگاہ کا وہ زاویہ بنانا تھا جس سے لندن ٹاور کو دیکھا جا سکے۔ یہ انسانی ذات کے خارجی حصے کا زاویہ نگاہ ہے اگر ذات کے داخلی زاویہ نگاہ سے کام لینا ہو تو ہم اپنی جگہ بیٹھے بیٹھے ذہن میں لندن ٹاور کا تصور کر سکتے ہیں۔ تصور کرنے میں جو نگاہ استعمال ہوتی ہے وہ اپنی ناتوانی کی وجہ سے ایک دھندلا سا خاکہ دکھاتی ہے لیکن وہ زاویہ ضرور بنا دیتی ہے جو ایک طویل سفر کر کے لندن ٹاور پہنچنے کے بعد ٹاور کو دیکھنے میں بنتا ہے اگر کسی طرح نگاہ کی ناتوانی دور ہو جائے تو زاویہ نگاہ کا دھند لا خاکہ روشن اور واضح نظارے کی حیثیت اختیار کر سکتا ہے اور دیکھنے کا مقصد بالکل اسی طرح پورا ہو جائے گا جو سفر کے بعد پورا ہوتا ہے۔ اصلی چیز زاویہ نگاہ کا حصول ہے جس طرح بھی ممکن ہو۔

بابا تاج الدین ناگپوری نے اپنی قوت تصرف سے سائل کے اندر ایک مخصوص زاویہ نگاہ پیدا کر کے ذہنی نظارے کو جلا بخش دی۔ اس طرح سائل نے اجمیر کو بالکل اسی طرح دیکھا جس طرح ایک طویل سفر کے بعد وہ اجمیر پہنچ کر وہاں کے مناظر دیکھتا ہے۔



Roohani Daak (1)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔