Topics

آوازیں آتی ہیں

سوال: سات سال پہلے میری بہن کے کانوں میں آوازیں آنا شروع ہوئیں۔ پہلے پہل تو ہمیں کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اصل بات کیا ہے ۔ وہ کہتی تھیں کہ کوئی ٹیلی پیتھی کے ذریعے مجھ سے بات کرتا ہے۔ایک دو روز تک یونہی عام ڈاکٹروں کے پاس لے کر گئے۔ مگر ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ تیسرے چوتھے روز سے انہیں نفسیاتی معالج کے پاس لے کر گئے۔ علاج کروانے سے آوازیں آنا تو بند ہو گئیں مگر آہستہ آہستہ ان کا غصہ بڑھتا گیا۔ پہلے انہیں غصہ نہیں آتا تھا۔ بیماری کے بعد کبھی کبھار بڑوں سے بدتمیزی سے بات کر لیتی تھیں تو ہمیں وہ بھی بڑا برا اور عجیب سا لگتا تھا۔ مگر بیماری سمجھ کے چپ رہتے تھے پھر وہ بدزبانی اور گالیوں پر آگئیں۔ اور اب حالت یہ ہے کہ بات بات پر مار پیٹ کرنے لگتی ہیں۔ بلاوجہ ہی الجھتی ہیں۔ سات سال سے باقاعدہ علاج جاری ہے۔ کئی دفعہ ہاسپٹل میں بھی ایڈمٹ کروا چکے ہیں۔ بجلی وغیرہ بھی لگتی رہتی ہے مگر صرف چند روز سکون سے گزرتے ہیں کہ پھر وہی حالت ہو جاتی ہے۔ ذہن میں گندے خیالات آتے ہیں۔ گندی باتیں بھی کرنے لگتیں ہیں، بڑوں کا کوئی لحاظ نہیں ہے۔ انہیں بھی مارنے سے گریز نہیں کرتیں۔ گالیاں دینا تو ان کے لئے عام بات ہے کوئی مہمان اگر آ جائے تو چند منٹ تو ٹھیک رہتی ہیں پھر مہمان کی بھی خیر نہیں ہوتی۔

اس وجہ سے اب ہمارے گھر میں رشتہ دار کم آتے ہیں۔ آپ کو کیا بتاؤں بہت برے حالات ہیں۔ ہر وقت لڑائی جھگڑے کی وجہ سے پڑھائی بھی ٹھیک طرح سے نہیں ہو سکتی۔ علاج تو باقاعدہ ہو رہا ہے اور آج کل پھر ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہیں۔ وہاں بھی لڑائی جھگڑا کرتی ہیں۔ نرسوں وغیرہ کو بھی مارنے لگتی ہیں۔ ایڈمٹ کروانے سے پہلے یہ حالت تھی کہ نیند بہت کم آتی تھی۔ رات رات بھر جاگتی تھیں۔ سکون اور نیند کی گولیوں کے باوجود نیند نہیں آتی تھی۔ جو لوگ سو رہے ہوتے تھے بار بار انہیں جا جا کر دیکھتی تھیں کبھی مار بھی دیتی تھیں۔

جواب: تین عدد سفید رنگ کی چینی کی پلیٹوں پر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اور اَلرَّضَاعَتْ عَمَانَوِیْلُ۔ عرق گلاب سے لکھ کر نیلی شعاعوں کے پانی 2,2اونس سے دھو کر صبح شام پلائیں۔ نفسیاتی علاج جاری رکھیں۔ ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ کی بڑی بہن کو صحت عطا کریں۔ آمین



Roohani Daak (1)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔