Spiritual Healing

لاعلاج مرض کا علاج

س: میں انگلینڈ میں آپ سے بذریعہ ٹیلی فون دو تین دفعہ ملاقات کر چکا ہوں جبکہ اس وقت حالات مختلف تھے اور میرے بیوی بچے بھی پاکستان میں تھے۔ اب گذشتہ جون سے بیوی بچے یہاں انگلینڈ میرے پاس آ چکے ہیں۔

جیسا کہ پہلے میں اپنے بچے کی بیماری کے بارے میں عرض کر چکا ہوں تو جناب نے روحانی علاج بتایا تھا۔ اس وقت بچہ یہاں انگلینڈ میں نہیں تھا۔ اب وہ میرے پاس ہے۔ بچے کا نام محمد اقبال خاں، والدہ کا نام زبیدہ خاتون ہے۔ عمر گیارہ سال، کسی موذی مرض کا شکار ہے۔ دن بدن اپاہج ہوتا جا رہا ہے۔ اب تو زیادہ چل پھر بھی نہیں سکتا۔ کمزوری انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ اٹھنا بیٹھنا دشوار ہے۔ طاقت جیسے ختم ہو رہی ہے۔ جسمانی طور پر صحت ٹھیک نظر آتی ہے۔ کھاتا پیتا بھی ٹھیک ہے لیکن کمزوری کا یہ عالم ہے کہ پیشاب بھی کنٹرول نہیں ہو سکتا۔ یہاں ڈاکٹروں نے لا علاج مرض قرار دیا ہے۔ پاکستان میں ڈاکٹروں اور ہومیوپیتھک ماہرین نے بھی علاج کیا۔ 

ان لوگوں نے اس مرض کا نام Duchenne Muscular Dystrophy بتایا ہے اور پاکستان میں معالجین نے بتایا تھا کہ بچے کے حرام مغز میں خرابی ہے اور اس مرض کا کوئی علاج نہیں ہے۔ بحیثیت ایک مسلمان کلمہ گو کے ہم سب کا یہ ایمان ہے کہ اللہ تبارت و تعالیٰ غفور الرحیم نے ہر بیماری کا اور ہر تکلیف کا علاج بھی پیدا کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ حالات ابھی تک انسانی دسترس سے باہر ہیں۔ ازراہ کرم آپ کوئی علاج تجویز فرمائیں۔

ج: زعفران سے روشنائی بنا کر مندرجہ ذیل تعویذ چاندی کے پتروں پر لکھ کر پانی سے دھو کر صبح شام بچے کو پلائیں، علاج کی مدت تین ماہ ہے۔



Topics


Roohani Daak (3)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔


انتساب

ہر انسان کے اوپر روشنیوں کا ایک اور جسم ہے جو مادی گوشت پوست کے جسم کو متحرک رکھتا ہے۔ اگریہ روشنیوں کا جسم نہ ہو تو آدمی مر جاتا ہے اور مادی جسم مٹی کے ذرات میں تبدیل ہو کر مٹی بن جاتا ہے۔

جتنی بیماریاں، پریشانیاں اس دنیا میں موجود ہیں وہ سب روشنیوں کے اس جسم کے بیمار ہونے سے ہوتی ہیں۔ یہ جسم صحت مند ہوتا ہے آدمی بھی صحت مند رہتا ہے۔ اس جسم کی صحت مندی کے لئے بہترین نسخہ اللہ کا ذکر ہے۔

*****