Topics

لنگڑا بیساکھی چھوڑ بھاگا

 ایک لنگڑا نوجوان شفاخانے میں آکر ٹھہر گیا۔ یہ شفا خانہ بھی مسجد اور مدرسہ کی طرح پھونس کی جھونپڑیوں پر مشتمل تھا۔ لنگڑا صبح کھا پی کرشفاخانے سے چلتااور نانا تاج الدینؒ کے سامنے آبیٹھتا۔ سلام کر کے لنگڑی ٹانگ پھیلاکر اپنا ہاتھ پھیرنے لگتا۔ اور ایسے منہ بناتا جیسے بڑی تکلیف میں ہے۔ نانا ہوں کہہ کر چپ ہوجاتے ۔ اسی طرح دو مہینے گزر گئے۔ لنگڑا تھا بڑا اڑیل ۔ اپنے معمول پر قائم رہا۔ ایک روز میں بھراہوا آیااور نانا کی طرف دیکھ کر بڑبڑانے لگا۔ خدا نے مجھے لنگڑا کر دیا ہے جن کی ٹانگیں ہیں ان کو کچھ احساس نہیں ۔ سنا تھا کہ خدا کے یہاں انصاف ہے ، انصاف کو بھی جھنجھوڑ کر دیکھ لیا۔ سب ڈھونگ ہے۔ لوگ خدا خدا پکارتے ہیں اور خدا بہرہ ہو گیاہے۔ کچھ نہیں سنتا۔ خداوالوں کو بھی دیکھ لیا۔ یہ بھی سب گونگے بہرے ہیں۔ خدا اور خدا والوں سے تو میری بیساکھی اچھی ہے۔ سہارا تو دیتی ہے۔

نانا اس کی بات سن کر جھنجھلا گئے ۔ چیخ کر بولے۔"جا دفان ہو۔بھلا چنگا ہوکر لنگڑا بنتاہے۔جھوٹا کہیں کا۔" یہ کہہ کر لنگڑے کو مارنے کے لئے دوڑے۔ لنگڑا بیساکھی چھوڑبھاگا۔ اب اس کی لنگڑی ٹانگ بالکل ٹھیک تھی۔

انسان علی شاہ نانا کے فیض یافتہ تھے۔ ان کو روحانی علوم پر عبور تھا اور سوچنے کی طرزیں بھی نانا سے ملتی تھیں۔ انہوں نے نانا کی حیات میں ترکِ وطن کرکے شکردرہ میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ ایک دن بیٹھے بیٹھے لنگڑے کا یہ واقعہ زیرِ بحث آگیا۔ انسان علی شاہ کہنے لگے۔ اس واقعہ کی توجیح مشکل نہیں ۔ یہ سمجھنا کہ کائنات ارتقائی مراحل طے کر رہی ہے غلط ہے۔ یہاں ہر چیز صدوری طور پر ہوتی ہے۔ وقت صرف انسان کی اندرونی واردات ہے۔ اﷲتعالیٰ کی ذات کے علاوہ کوئی شئے اندرونی واردات کی حد سے باہر نہیں۔ تغیراور ارتقاء کے مرحلے اندرونی واردات ہی کے اجزاء ہیں ۔ یہ واردات ہی نوعی سراپا کی نقلیں افراد کی شکل وصورت میں چھاپتی ہیں۔ چھپائی کی رفتار معین ہے۔ اسی رفتا ر کا نام وقت ہے۔ اگر اس رفتار میں کمی بیشی ہوجائے تو لنگڑا، لولہ، اندھا چھپنے لگتاہے۔ حوادث اسی طرح رونما ہوتے ہیں۔ جب عارف کا ذہن ایک آن کے لئے ایک صدوری کیفیت میں داخل ہوجاتاہے تو یہ بے اعتدالیاں دور ہوجاتی ہیں۔

Topics


Tazkirah Baba Tajuddeen Aulia

خواجہ شمس الدین عظیمی

عارف باﷲخاتون

مریم اماں

کے نام

جن کے لئے شہنشاہ ہفت اقلیم حضرت بابا تاج الدین ؒ

کا ارشاد ہے:

"میرے پاس آنے سے پہلے مریم اماں کی خدمت میں حاضری دی جائے۔"