Topics

سہ پہر کے وقت گھروں سے باہر نکلنے کی خواہش میں حکمت


                میں انہیں سوچوں میں غلطاں واپڈا ٹریننگ سنٹر کی طرف نکل گیا۔ نیاز صاحب آج کل وہاں پہ بطور ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات تھے۔ اس سنٹر میں محکمہ برقیات کی برقی تاروں کی دیکھ بھال اور ان کے کھمبے بچھانے سے لے کر ان کو گرڈ اسٹیشن سے ملانا تک سیکھنے والے کارکنوں کو تربیت بھی دی جاتی ہے۔ ایک وسیع قطعہ اراضی کے گرداگرد عمارت بنائی گئی ہے۔ پوری عمارت دو منزلہ تھی۔ ایک طرف دیوار، ایک طرف سنٹر کے کارکنوں کے رہائشی مکان۔ سنٹر میں داخلہ اسی رہائشی حصے کی طرف سے تھا اور دائیں طرف والی عمارت میں کلاس اور پرنسپل کے دفتر کے لئے کمرے تھے۔ اس کے پہلو کی عمارت ہوسٹل تھی۔ جہاں تین چار بلاک بنے ہوئے تھے۔ آج کل وہاں کوئی طالب علم رہائش پذیر نہ تھا۔ اس عمارت کے درمیانی کھلے حصہ میں کھمبے، ٹرانسفارمر، تاروں کے دیوہیکل بنڈل اور چند ایک ٹرک وغیرہ کھڑے تھے۔ یہ سنٹر بیک وقت سٹور ہاؤس بھی تھا۔

                مرشد کریم کی طرف سے چائے کا بلاوا سن کر ہی طبیعت میں چستی سی دوڑ گئی۔ صرف یہ کہہ دیا جاتا کہ آ کر چائے پی لیں تو ایک بات ہوتی۔ جا کر چائے پینے میں نہ کوئی ندرت ہوتی اور نہ ہی کوئی خاص بات۔

                ’’بابا جی! آپ کو چائے کے اندر بلا رہے ہیں۔‘‘

                سن کر چستی آنے کا تعلق چائے کی بجائے اس خیال کے سبب تھا کہ مرشد کریم نے ہمیں یاد فرمایا تھا۔ تعلق کس کس طرح سے اظہار میں آتا ہے اور محسوس ہوتا ہے، یہ بات بھی بیان سے زیادہ محسوسات سے ہی تعلق رکھتی ہے۔

                چائے کے دوران سہ پہر کے وقت گھروں سے باہر نکلنے کی خواہش کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا:

                ’’آپ دیکھیں کہ اس وقت گھروں اور کمروں میں دم گھٹنے لگتا ہے۔ کمرے میں ہوں تو باہر صحن میں نکلنے کو جی چاہتا ہے۔ گھر میں ہوں تو گھر سے باہر جانا اچھا لگتا ہے۔ آپ دیکھیں اس وقت لوگ گلیوں اور بازاروں میں نکل آتے ہیں۔‘‘

                پھر اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

                ’’دراصل اس وقت شعور لاشعور میں ڈھلتا ہے اور انسان کو گھبراہٹ ہوتی ہے۔ دن کے حواس رات کے حواس میں ڈھل رہے ہوتے ہیں تو انسان ہی کیا پرندے، جانور اور کیڑے مکوڑے تک اس تبدیلی کی زد میں ہوتے ہیں۔ وہ بھی باہر نکلتے ہیں۔‘‘

                انداز بیان میں اتنی تاثیر کہ ہم چشم تصور سے شام کے وقت بھرے ہوئے بازاروں کو دیکھتے رہے۔ ذہن میں انہی اوقات میں عصر، مغرب اور عشاء کے اوقات الصلوٰۃ کی اہمیت کا بھی خیال آیا۔ اچھا تو یہ بات ہے، مرید کو جیسے کسی دیرینہ سوال کا جواب خود بخود ہی مل گیا۔

                سحر خیزی اور اوقات تہجد کی اہمیت کو واضح کرنے کو اشارہ فرمایا:

                ’’اور تو اور یہ درخت بھی مراقبہ کرتے ہیں۔ رات دو ڈھائی بجے یہ سب چیزیں نیند سے بیدار ہوتی ہیں اور پھر دوبارہ مراقب ہو جاتی ہیں اور سحر ہونے تک مراقبے میں رہتی ہیں۔‘‘

                ایک عورت کی بابت بتایا کہ وہ ملنے آئی اور بے چینی اور بے سکونی کی شکایت کر کے علاج کا کہنے لگیں۔ میں نے پوچھا کیا گھر نہیں؟ کہا کہ پورے ہزار گز پر کوٹھی ہے۔ پوچھا، کیا گاڑی نہیں ہے۔ کہا ایک چھوڑ دو دو گاڑیاں۔ پوچھا کہ اولاد نہیں ہے تو اس پر کہا اولاد بھی ہے۔ بچے خیر سے سکول اور کالج جا رہے ہیں۔ پڑھ لکھ رہے ہیں۔ پوچھا، کیا خاوند کے روزگار کا کوئی مسئلہ ہے۔ بتایا کہ خاوند کا اپنا کاروبار ہے اور خوب اچھا چل رہا ہے۔ فرمایا:

                ’’بظاہر انہیں کوئی بیماری بھی نہ تھی اب آپ اندازہ کریں کہ ایسی عورت کو بھلا کیا پریشانی ہو سکتی ہے؟‘‘

                پھر خود ہی ارشاد فرمایا:

                ’’دراصل لوگوں کو خوش رہنا ہی نہیں آتا۔‘‘

                جب دیکھا کہ ہمارے ذہن میں بات اس طرح سے نہیں آ رہی جس طرح سے آپ سمجھانا چاہ رہے ہیں تو کہا:

                ’’کسان کھیت میں دانہ ڈالتا ہے۔ وہ دانہ مٹی ہو جاتا ہے تو ایک نیا پودا نکلتا ہے۔ اب اس پودے پر جو دانے لگتے ہیں، آپ ان کو شمار کر کے دیکھیں گندم کی بالیں، چاول کے دانے یا بیری کے بیر گن کر دیکھیں۔ اللہ ایک دانہ مٹی میں پھینکے کے عمل کو کتنا بڑھا دیتا ہے۔‘‘

                کچھ دیر خاموشی رہی۔ سب کے ذہنوں سے اللہ تعالیٰ کے افزودنی عطا کرنے کے نظام کا نظارہ گزرتا چلا گیا۔ اس افزائش کے عمل کا تعلق کہیں استغنا سے ہی تو نہیں جڑا ہوا۔ یہ سوچ کر میں نے سوال پوچھا:

                ’’کیا دانے کو مٹی میں پھینکنے کے عمل کو استغناء کہہ سکتے ہیں؟‘‘

                فرمایا۔’’جی نہیں۔ یہ توکل ہوا۔ آپ نے دانہ مٹی میں اس بھروسے پر پھینکا کہ اللہ اس میں اضافہ کر کے لوٹائے گا۔‘‘

                پوچھا کہ حضور تو پھر توکل اور استغناء میں کیا فرق ہے؟

                فرمایا:’’توکل یہ ہے کہ اللہ نے چاہا تو کر دے گا اور استغنائ……استغناء یہ ہے کہ اللہ چاہے کرے، چاہے نہ کرے……‘‘۔

                ’’نہ کرے‘‘ کہتے ہوئے ہاتھ بلند کر کے سر سے اونچا اٹھا کر ہلایا۔ اس انداز میں کہ ہاتھ بلندی پر پہنچ کر کہنی اور کلائی تک ساکت رہا صرف انگلیاں اور ہتھیلی گردش کر کے رہ گئیں۔ ذہن میں آیا کہ اپنی مرضی کو اولیت دیتے ہوئے اللہ پر بھروسہ کرنا ایک ادنیٰ درجے کی بات ہے اور لغت میں اس کو توکل کہتے ہیں لیکن اپنی مرضی ختم کر دینا اور اللہ کی مرضی کو اولیت دینا اعلیٰ صفت ہے اور اگر یہ انداز نظر حاصل ہو جائے تو کیا کہنا۔

                فرمایا۔’’آپ قلندر شعور پڑھا کریں۔‘‘

                کچھ لوگ ملنے آگئے۔ انہوں نے نیاز صاحب کی تعریف کی کہ وہ بہت اچھے انسان ہیں۔ نیاز صاحب نے عاجزی سے کہا:

                ’’یہ تو میرے مرشد کی عنایت ہے کہ انہوں نے مجھے ایسا بنا دیا ہے۔‘‘

                 اس پر تبسم ریز لہجے میں فرمایا:

                ’’نیاز صاحب خوش ہیں کہ انہیں مجھ سا مرشد ملا اور میں خوش ہوں کہ مجھے نیاز بھائی جیسا مرید ملا۔ یوں ہم دونوں ہی ایک دوسرے سے خوش ہیں۔‘‘

٭٭٭٭٭

Topics


Ek SAFAR APNE MURAD KE HAMRAH

ڈاکٹر مقصود الحسن عظٰیمی


طرز فکر کی منتقلی میں ذوق و شوق کے علاوہ قربت کا بھی بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ روحانی علوم کے جویا کو اس قرب کی خاطر، اس کا روحانی باپ اپنے قریب کرتا ہے تا کہ وہ اس کے روز و شب کی مصروفیات، اس کے انداز فکر، اس کے طرز استدلال، اس کی سوچوں اور اس کے طرز عمل کا مشاہدہ کر سکے اور اس کو اپنی عملی زندگی میں اس جیسا انداز اپنانے میں سہولت حاصل رہے۔  زیر نظر کتاب میں ایک مرید اپنے مراد کے ہمراہ رہنے کے بعد اس قربت کا حال سنا رہا ہے جو اس کو اس کے مراد نے عطا فرمائی۔ اس احوال سے جہاں مرشد کے انداز تربیت کے دلنشین پہلو سامنے آتے ہیں وہاں اس طرز فکر کا بھی پتہ چلتا ہے جو ایک روحانی شخصیت کو حاصل ہوتی ہے۔ مصنف اس لحاظ سے مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنے مراد کی قربت میں جو موتی سمیٹے وہ انہوں نے راقم الحروف کی فرمائش پر ہم سب کے سامنے رکھ دیئے ہیں۔