Topics

خوش رہنے والے دنیا چھوڑ دیا کرتے ہیں


                یہ ساری تیاری ہی اگلے جہاں کے لئے ہے۔ یہاں کی زندگی میں تو ساری توانائی خوش رہنے اور تکلیفوں سے بچنے کی جدوجہد میں ہی خرچ ہو جاتی ہے۔

                مراد نے مرید کی سوچ کی لہر کے جواب میں کہا:

                ’’خوش رہنے والے دنیا چھوڑ دیا کرتے ہیں۔ ابراہم بن ادھم اور بدھا نے یہی تو کیا۔ جب انہیں پتہ چل گیا کہ خوشی کیا ہے تو انہوں نے بادشاہت چھوڑ دی۔ ادھم نے بادشاہت چھوڑی اور دریا کنارے جھونپڑی ڈال کر بیٹھ گئے۔ بدھا کے بارے میں اس کی پیدائش کے وقت یہ پیشنگوئی کی گئی تھی کہ اگر اس نے ناخوشی دیکھ لی تو وہ دنیا چھوڑ جائے گا۔ اس کے باپ نے یہ انتظام کیا کہ وہ ناخوشی کا کوئی منظر نہ دیکھ سکے لیکن آخر جب اس نے دیکھ لیا تو وہ سچی خوشی کے مفہوم کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ناخوشی جنت سے دوری ہے اور یہ دوری ہی تو اس کو ختم کرنا تھی۔‘‘

                ’’اللہ نے بھی کیا خوب انتظامات کئے۔ پہلے اس کو ناخوشی سے دور رکھا۔ اگر دور نہ رکھتے تو ہو سکتا ہے کہ وہ اس کا عادی ہی ہو جاتا۔ اللہ بہت ہی بڑے ہیں۔ اب یہ دیکھیں کہ موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے ہاں پرورش کروا دیا۔ اس سے ہوا یہ کہ موسیٰ علیہ السلام کے دل سے بادشاہت اور حکومت کا خوف نکل گیا۔ خوف بھی نہ رہا۔ لالچ بھی نہ رہا۔‘‘

Topics


Ek SAFAR APNE MURAD KE HAMRAH

ڈاکٹر مقصود الحسن عظٰیمی


طرز فکر کی منتقلی میں ذوق و شوق کے علاوہ قربت کا بھی بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ روحانی علوم کے جویا کو اس قرب کی خاطر، اس کا روحانی باپ اپنے قریب کرتا ہے تا کہ وہ اس کے روز و شب کی مصروفیات، اس کے انداز فکر، اس کے طرز استدلال، اس کی سوچوں اور اس کے طرز عمل کا مشاہدہ کر سکے اور اس کو اپنی عملی زندگی میں اس جیسا انداز اپنانے میں سہولت حاصل رہے۔  زیر نظر کتاب میں ایک مرید اپنے مراد کے ہمراہ رہنے کے بعد اس قربت کا حال سنا رہا ہے جو اس کو اس کے مراد نے عطا فرمائی۔ اس احوال سے جہاں مرشد کے انداز تربیت کے دلنشین پہلو سامنے آتے ہیں وہاں اس طرز فکر کا بھی پتہ چلتا ہے جو ایک روحانی شخصیت کو حاصل ہوتی ہے۔ مصنف اس لحاظ سے مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اپنے مراد کی قربت میں جو موتی سمیٹے وہ انہوں نے راقم الحروف کی فرمائش پر ہم سب کے سامنے رکھ دیئے ہیں۔