Topics

چلی جا یہاں سے ۔ نفسیاتی مسئلہ

سوال: میرا ایک چھوٹا بھائی جس کی عمر تقریباً 23سال ہے۔ اپنی صحیح حالت میں نہیں ہے۔ جب وہ چھوٹا تھا تو خاموش سا رہتا تھا۔ اس کے بعد جب اس نے ہوش سنبھالا تو وہ اکثر خود اپنے آپ سے ہی محبت کرنے لگا۔ آہستہ آہستہ اس کی یہ عادت بہت بڑھ گئی اب وہ اپنے آپ کو کمرے میں مقید کر لیتا ہے اور باتیں کرتا رہتا ہے۔ میں نے اکثر چھپ کر اس کی باتیں سنی ہیں۔ وہ کسی لڑکی سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ میں نے تجھے منع کیا تھا تو کیوں آئی ہے ، جا یہاں سے چلی جا۔ اور پھر وہ اس کو سخت غصہ میں ڈانٹتا ہے۔ کبھی کبھی تو وہ گالیاں بھی دے دیتا ہے اور بعض اوقات اپنی پرانی باتیں یاد کر کے ہنستا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے جسم کو کوئی حصہ کبھی بھی ننگا نہیں کرتا اور اگر اسے کوئی ہاتھ بھی لگائے تو اس سے لڑ پڑتا ہے۔ ہمیشہ سب سے الگ تھلگ رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ 

میں نے ایک مرتبہ اپنے بھائی سے پوچھا کہ وہ کس سے باتیں کرتا ہے تو اس نے بتایا کہ ایک لڑکی آتی ہے جس کے بال لمبے لمبے اور کھلے ہوئے ہوتے ہیں اور میرے پاس بیٹھ جاتی ہے۔ اس کی شکل آج تک نظر نہیں آئی ہے اور وہ جب بھی آتی ہے تو میں اسے ڈانٹ کر کہتا ہوں کہ جا چلی جا یہاں سے۔ مگر وہ بات کرنے پر مجبور کرتی ہے اس کے علاوہ میرے بھائی میں ایک اور عادت بھی ہے کہ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی عادت میں مبتلا رہتا ہے مثلاً پہلے وہ ہمیشہ اپنی قمیض کا کالر مروڑتا رہتا تھا کافی مشکلوں کے بعد یہ عادت چھڑائی پھر اس کے بعد ہمیشہ اس کے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی اخبار ہوتا تھا جسے وہ مسلتا رہتا تھا۔ یہ عادت چھڑائی اب اس کی دو تین سال سے یہ عادت ہے کہ وہ اپنے ہاتھ میں روپے کا نوٹ لئے پھرتا ہے اور اسے مسلتا رہتا ہے۔ صرف ایک ہاتھ سے۔ چاہے بازار ہو یا گھر ہو یا کوئی محفل ہو اس کا یہ عمل ہمیشہ جاری رہتا ہے اور خاص طور پر جب وہ اکیلے میں بات کر رہا ہوتا ہے تو اس کے مسلنے کی رفتار زیادہ تیز ہو جاتی ہے۔ میرا بھائی نہ جانے کس اذیت میں مبتلا ہے بعض اوقات تو وہ اتنی اچھی باتیں کرتا ہے کہ ہم حیران ہو جاتے ہیں سمجھ میں نہیں آتا کہ اسے کیا بیماری ہے۔ شاید کسی نے جادو وغیرہ کر دیا ہے۔ آپ اس کا علاج رنگ اور روشنی سے تجویز کردیں تا کہ میں آسانی کے ساتھ کر سکوں۔

جواب: یہ خالص نفسیاتی کیس ہے۔ کسی سائیکالوجسٹ کو دکھا کر علاج کرائیں۔ تعجب ہے کہ آپ اپنے بھائی کی حالت بچپن سے دیکھ رہے ہیں اور گھر میں کسی نے اس کے علاج کی طرف توجہ نہیں دی۔ نفسیاتی علاج کے ساتھ رنگ و روشنی سے علاج کے طریقہ پر:

نیلی شعاعوں کا پانی۔ 2اونس صبح و شام

زرد شعاعوں کا پانی۔ 2اونس کھانے سے قبل

سرخ شعاعوں کا پانی۔2اونس کھانے کے بعد پلائیں۔ اور رات کو ایک چمچہ خالص شہد پر ایک بار (اَلرَّضَاعَتْ عَمَا نَوِیْلُ)۔ کھانوں میں نمک اور کھٹاس سے پرہیز کریں۔


Topics


Roohani Daak (2)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔