Topics

مراقبہ اور تصور

سوال: مراقبہ کی مشق تلقین کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ فلاں تصور کیا جائے مثلاً دل کے اندر جھانکنے کو کہا جاتا ہے یا یہ بتایا جاتا ہے کہ آنکھیں بند کر کے روشنی اور نور کا تصور کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ کیا اس تصور سے یہ مراد ہے کہ ہم اپنی بند آنکھوں کے سامنے دل کی تصویر لانے کی کوشش کریں یا روشنی اور نور کی شبیہ دیکھنے کی کوشش کریں یا پھر خود کو ترغیب دیں کہ یہ چیزیں ہماری بند آنکھوں کے سامنے ہیں۔

جواب: تصور کی صحیح تعریف سمجھنے کے لئے دو بنیادی باتوں کا سمجھنا بہت ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ کسی چیز کی معنویت ہمارے اوپر اسی وقت آشکارا ہوتی ہے جب ہم اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔کوئی چیز ہمارے سامنے ہے لیکن ذہنی طور پر ہم اس کی طرف متوجہ نہیں ہیں تو وہ چیز ہمارے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتی مثلاً ہم گھر سے اس خیال سے نکلتے ہیں کہ ہمیں دفتر جا کر اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہیں۔ اگر دفتر پہنچنے کے بعد کوئی ہم سے پوچھے کہ اس نے راستے میں کیا کیا چیزیں دیکھیں تو ہم یہی کہیں گے کہ ہم نے اس کی طرف دھیان نہیں دیا حالانکہ یہ ساری چیزیں ہماری نظروں کے سامنے سے گزری ہیں۔

دوسری اہم بات دلچسپی اور ذوق و شوق ہے۔ ہم کوئی دلچسپ کتاب پڑھتے ہیں تو ہمیں وقت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس کوئی غیر دلچسپ مضمون پڑھ کر ہم چند منٹ میں ہی ذہنی بوجھ اور کوفت محسوس کرنے لگتے ہیں مطلب یہ ہوا کہ ذہنی مرکزیت کے ساتھ ساتھ اگر دلچسپی اور ذوق و شوق بھی ہو تو کام آسان ہو جاتا ہے۔

مراقبہ یا تصور کی مشقوں سے بھرپور فائدہ حاصل کرنے کے لئے  ضروری ہے کہ صاحب مشق جب آنکھیں بند کر کے تصور کرے تو اسے خود سے اور ماحول سے بے نیاز  ہو جانا چاہئے اتنا بے نیاز کہ اس کے اوپر سے بتدریج ٹائم اور اسپیز کی گرفت ٹوٹنے  لگے یعنی اس تصور میں اتنا انہماک ہو جائے کہ وقت گزرنے کا مطلق احسا س نہ رہے۔

تصور کے ضمن میں اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اگر آپ نور کا تصور کر رہے ہیں تو آنکھیں بند کر کے کسی خاص روشنی کو دیکھنے کی کوشش نہ کریں بلکہ صرف نور کی طرف دھیان قائم کریں۔ نور جو کچھ بھی ہے اور جس طرح بھی ہے از خود آپ کے سامنے آ جائے گا۔ اصل مدعا کسی ایک طرف دھیان کر کے ذہنی یکسوئی حاصل کرنا اور منتشر خیالی سے نجات پانا ہے۔ اس کے بعد باطنی علم خود بخود کڑی در کڑی ذہن پر منکشف ہونے لگتا ہے۔ تصور کا مطلب اس بات سے کافی حد تک پورا ہوتا ہے جس کو عرف عام میں بے خیال ہونا کہا جاتا ہے۔

اگر ہم کھلی یا بند آنکھوں سے کسی چیز کا تصور کرتے ہیں اور تصور میں خیالی تصویر بنا کر اس دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ عمل ذہنی یکسوئی کے دائرے میں نہیں آتا۔ ذہنی یکسوئی سے مراد یہ ہے کہ آدمی شعوری طور پر دیکھنے اور سننے کے عمل سے بے خبر ہو جائے۔ قانون یہ ہے کہ آدمی کسی لمحے بھی حواس سے ماورا نہیں ہو سکتا۔ جب ہمارے اوپر شعوری حواس کا غلبہ نہیں رہتا تو لازمی طور پر لاشعوری حواس متحرک ہو جاتے ہیں۔


Topics


Roohani Daak (2)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔