Topics

دماغ چھوٹا ہے

سوال: ہماری بڑی بہن کو ٹی وی دیکھتے دیکھتے چکر آئے۔ سر میں درد ہوا اور وہ بے ہوش ہو گئیں۔ پھر یہ بے ہوشی دوروں کی شکل اختیار کر گئی۔ جس میں ہاتھ اور پاؤں تھرتھرانے اور ٹیڑھے ہونے لگے اور آنکھیں ایک طرف کو چڑھ گئیں اس کے بعد سے اب تک انہیں دورے آتے ہیں۔ کبھی مہینوں طبیعت ٹھیک رہتی ہے اور کبھی مہینوں خراب رہتی ہے۔ کبھی کبھار دورے اتنے سخت ہوتے ہیں کہ منہ سے چیخیں نکل جاتی ہیں اور روتی ہیں۔ بعض اوقات اتنے سخت ہوتے ہیں کہ ہسپتال میں داخل کرانا پڑتا ہے۔ وہاں ڈاکٹران کو آکسیجن اور نیند کی دوائیں کھانے کو دیتے ہیں جس سے وہ سوتی رہتی ہیں۔ مرض ڈاکٹر کی بھی سمجھ میں نہیں آیا۔ حکیموں کو دکھایا تو بعض نے کہا کہ کچھوے کا خون اور آٹے کی گولیاں بنا کر کھلاؤ، سو وہ بھی کیا مگر ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوئی۔

میرا بھانجہ جس کی عمر 12سال ہے۔ جب 2سال کا تھا تو اسے بخار ہوا اور پھر طبیعت قدرے سنبھل گئی۔ مگر چند گھنٹوں کے بعد عجیب قسم کا دورہ پڑا۔ اس کے ہاتھ پاؤں کھنچ گئے۔ آنکھیں الٹی ہو گئیں منہ سے جھاگ کی طرح کوئی چیز نکلنے لگی اور یہاں تک کہ پیشاب بھی نکل گیا۔ یہ دورہ کوئی تین چار منٹ تک رہا۔ پھر طبیعت نارمل ہو گئی۔ اس کے بعد یہ بیماری چند دنوں کے بعد دوبارہ ہوئی اور پھر تو گھنٹوں اور منٹوں کے بعد دورے پڑنے لگے۔ تعویذ اور دم وغیرہ کے علاوہ دوا بھی استعمال کی گئی۔ یہاں تک کہ ہسپتال میں بھی زیر علاج رہا مگر افاقہ نہ ہوا۔ جب سے بیماری شروع ہوئی ہے تب سے آج تک بچہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق بچے کے خود بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ دماغ بڑا نہیں ہوا۔ بلکہ دماغ وہی چھوٹے بچے کا ہے۔ ضدبہت کرتا ہے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کو کاٹنے لگتا ہے جو کپڑا ایک بار پہن لیتا ہے۔ بار بار وہی پہننے کی ضد کرتا ہے۔ ہر چیز کو سونگھ کر کھاتا ہے یعنی اس کی سونگھنے کی حس بہت تیز ہے جو کام اس کے سامنے ایک دفعہ کر دیں کہتا ہے وہی دہراتے رہو۔

جواب: نو انچxبارہ انچ شیشے کے اوپر (شیشے سے مراد وہ شیشہ ہے جو الماریوں اور کھڑکیوں میں لگتا ہے شیشے سے مراد آئینہ نہیں ہے) سرخ رنگ پینٹ کرا لیں اور اس شیشے کو بچہ کو بار بار دکھائیں اور رات میں شیشہ دیکھنے کا وقفہ ڈھائی گھنٹے ہونا چاہئے۔ علاج کی مدت پانچ مہینے ہے۔ ضروری ہے کہ بچے کو قبض نہ ہو۔ بچے کو جب بھی پانی کوئی مشروب پینے کو دیں۔ ایک بار بِسْمِ اللّٰہِ اَلْرَحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ اَلْطَرَّقُ النَّاسُ وَ الُا جِنَّتَہٗ وَالرُّوْحُ اَلْعِبَادُ اَالصَّالِحِیْنَ فِی اَلْکُوْن پڑھ کر دم کر دیا کریں۔ اعراب کے مطابق عربی تحریر صحیح پڑھنے کے لئے کسی عربی دان یا عالم دین سے رجوع کریں۔


Topics


Roohani Daak (2)

خواجہ شمس الدین عظیمی

جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب نے کالم نویسی کاآغاز1969میں روزنامہ حریت سے کیا ۔پہلے طبیعیات کے اوپر مضامین شائع ہوتے رہے پھر نفسیات اور مابعد نفسیات کے مضمون زیر بحث آ گئے۔ روزنامہ حریت کے قارئین نے سائیکالوجی اور پیراسائیکالوجی کے ان مضامین کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اپنے مسائل کے حل کے لئے خطوط لکھنے شروع کر دیئے۔ زیادہ تر خطوط خواب سے متعلق ہوتے تھے۔ شروع کے دنوں میں ہفتہ میں تین یا چار خط موصول ہوتے تھے اور پھر یہ سلسلہ ہر ہفتہ سینکڑوں خطوط پر پھیل گیا۔ حریت کے بعد روزنامہ جسارت، روزنامہ اعلان، روزنامہ مشرق اور پھر روزنامہ جنگ میں روحانی ڈاک کے عنوان پر یہ کالم اتنا زیادہ مقبول ہوا کہ خطوط کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ جب اخبار کا دامن اتنی بڑی ڈاک کا متحمل نہ ہو سکا تو پیارے اور محترم دوستوں کے مشوروں اور تعاون سے روحانی ڈائجسٹ کا اجراء ہوا اور آج بھی روحانی ڈاک کے عنوان سے یہ کالم روحانی ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔

آپ نے ان اخبارات وجرائد میں عوام کے ان گنت معاشی، معاشرتی، نفسیاتی مسائل اورالجھنوں کا حل پیش کیا ہے اورمظاہرقدرت کے پیچیدہ معموں سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے ہیں۔خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کے لائق شاگرد جناب میاں مشتاق احمد عظیمی نے روحانی ڈاک میں شائع شدہ ان خطوط کو یکجا کیا اورترتیب وتدوین کے مراحل سے گزارکر چارجلدوں پر مشتمل کتاب روحانی ڈاک کو عوام الناس کی خدمت کے لئے شائع کردیا۔