Topics

کثافت

 

آدمی  جب زمین پر پہلا قدم رکھتا ہے تووہ پھول کی طرح خوبصورت اور  کلیوں کی طرح معصوم  ہوتا ہے پھول میں  خو شبواس لئے ہوتی ہے کہ پھول لطیف خیالات کو کثیف معنی نہیں پہناتا، آدمی اس لئے بد صورت ہو جاتا ہے کہ لطیف اور پاکیزہ خیالات پر تہہ در تہہ کثافت کے ڈھیر جمع  کر دیتا ہے۔

 

عجزو حیرت

انسان  کی ا بتداءبھی عجزو حیرت ہے اورانتہاء بھی عجزو حیرت ہے۔

 

آدمی

اے محدود شعور میں بند آدمی ! دنیا نہ خوبصورت ہے اور نہ بد صورت ہے تونے خیال میں جیسے معنی پہنا دیئے  ، وہی تیری دنیا ہے تیرے اندر ہی سب کچھ ہے اندر کا انسان جب روٹھ جاتا ہے تو آدمی بد صورت اور گندگی کا ڈھیر بن جاتا ہے۔

 

ریکارڈ

جو آدمی اس دنیا میں آتا ہے نہ کچھ ساتھ لاتا ہے اور نہ کچھ ساتھ لے جاتا ہےدراصل انسانی زندگی خیالات میں خوبصورت یا بد صورت معانی کا ریکارڈ ہے۔

 

ایمان

ایمان اس وقت تک تکمیل پذیر نہیں ہوتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے احکام کو پورے اخلاص سے تسلیم نہ کیا جائے۔


 

توقع

انسان بھی دوسروں سے توقع قائم کرنے کے بجائے زمین کی طرح دوسروں کی مفت خدمت کو اپنا شعار بنالے تو انسانی زندگی مسرت و شادمانی، خوشی اور سکون، راحت و آرام اور مخمور زندگی کا گہوارہ بن جائے گی۔

 

شر کی بنیاد یہ ہے کہ آدم ذاد یہ چاہتا ہے کہ سب اسے چاہیں اور خیر یہ ہے کہ آدم ذاد سب کو چاہتا ہے اور وہ نہیں سوچتا کہ اسے چاہا جا رہا ہے یا نہیں۔

 

تاریکیوں سے نکلنے ،حزن و ملال کے زندگی سے آزاد ہو نے ،اقوام ِ عالم  میں مقتد ر ہونے ،دل و دماغ کوانوارِ الٰہیہ کا نشیمن بنانے ،نظام ربوبیت اور خالقیت کو سمجھنے کے لئے صحیفہ کا ئنات کے ذرے ذرے کا مطا لعہ ضروری ہے۔

 

ارکان

ارکان ظاہری میں اگر تزکیۂ نفس اور تصفیۂ باطن نہ ہو تو دل کی پاکیزگی اور نفس کی صفائی حاصل نہیں ہوتی۔ نفس کی صفائی اور دل کی پاکیزگی ہی معرفت الٰہی اور تقرب ربانی کی راہبر ہے اور یہی عمل روحانی ترقی اور باطنی اصلاح کی معراج ہے۔

 

اے نفس

اے نفس، اس بڑے حاکم کے سامنے جب تو پیش ہو گا، تیرے اعضا تیرے خلاف گواہی دیں گے۔ اس دنیا میں ظاہرا عمل کے پردوں میں تو اپنی بدباطنی کو کتنا ہی چھپا لے لیکن اس بڑے حاکم کے سامنے تیرا ہر مخفی ارادہ اور ہر پوشیدہ عمل ظاہر ہو جائے گا۔ ریا اور تصنع کا پردہ اٹھ جائے گا جہاں اعمال و افعال خود کلام کرینگے اور جب ایسا ہو گا تو اے نفس تیرے ہر عمل کاچاہےوہ عمل خیر ہے یا عمل شرہے ٹھیک ٹھیک صلہ ملے گا۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔