Topics
انعام
یافتہ شخص آلام و مصائب کی زندگی سے ناآشنا ہو جاتا ہے اور یہ دنیا اس کے لیے جنت
کا گہوارہ بن جاتی ہے۔
طرز
کا انتخاب
ازل
میں جو کتاب لکھی گئ ہے اس میں جہاں زحمت اور رحمت کی دو طرزیں متعین ہیں وہاں اس
بات کی وضاحت بھی ہے کہ بندہ اپنا اختیار استعمال کر کے اپنے لیے کسی ایک طرز کا
انتخاب کر سکتا ہے۔
خواہشات
اور تمنائیں
اس
دنیا میں انسان کی خواہشات اور تمنائیں اس کے اعمال و افعال کا محور بنتی ہیں۔
خالق
سے قربت
ایک
طرزفکر بندے کو خالق سے قریب کرتی ہے اور دوسری طرزفکر بندے کو خالق سے دور کرتی
ہے۔قدرت سے انعام یافتہ شخص کو ہی جنت کی آسائش حاصل ہوتی ہے۔
نصب
العین
جب
انسان کسی خواہش کی تکمیل کو اپنا نصب العین بنا لیتا ہے تو درحقیقت وہاں اس کے
تشخص کو اپنے اوپر مسلط کر لیتا ہے۔اگر انسان کا مطمع نظر آتی مفاد ہے تو وہ جسم
خاکی میں مقید ہو جاتا ہے۔جہاں تنگی ہے،گھٹن ہے اندھیرا ہے۔وہ اس تشخص کے طول و
عرض میں بند رہتا ہے،باہر نہیں نکل سکتا۔تیر و تاریک قید خانہ میں بند قیدی کی طرح
اس کا رابطہ وسیع و عریض رنگین دنیا سے باقی نہیں رہتا۔
فعل
و عمل
فعل
و عمل میں اپنی ذات کو اولیت دینے سے انسان کا رشتہ لازمانیت اور لامکانیت سے
منقطع ہو جاتا ہے۔وہ ایک محدود دائرے میں سوچتا،سمجھتا اور محسوس کرتا ہے،اور گھٹ
گھٹ کر مر جاتا ہے۔
اطمینان قلب
جب مٹی کا پتلا اور خواہشات کا خول محل توجہ نہیں رہا،تو
پتلے کے اندر موجود روح الہی آشکار ہوئی اور نظر اس کے جلال و جمال سے خیرہ ہو
گئ۔خفی جلی ہو گیا اور غیب شہود بن گیا۔محدودیت لامحدودیت سے مغلوب ہو گئ اور خوف
و حزن کی جگہ خوشی،سرشاری اور اطمینان قلب نے لےلی۔
مقدس آیات میں تفکر
قرآن سائنسی فارمولوں کی ایک کتاب ہے۔مقدس آیات میں تفکر
کیا جائے تو ہم خلائی تسخیر میں ایک ایسا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے
جہاں سائنسدان کھربوں ڈالر خرچ کر کے بھی نہیں پہنچ سکے ہیں۔
زندگی
زندگی تقاضوں کے دوش پر سفر کر رہی ہے۔
روحانی تقاضے
روحانی تقاضے اور ان کی تکمیل جسمانی تقاضوں سے زیادہ اہم
اور نتیجہ خیز ہوتی ہے۔
دائمی مسرت
ہر وہ چیز جو روح سے متعلق ہے اپنے اندر لافانیت کا پہلو رکھتی ہے۔روحانی تقاضوں کی تکمیل کے نتیجے میں جو روحانی خوشی حاصل ہوتی ہے وہ دائمی مسرت کی ضامن ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔