Topics
جو بندہ دولت کی تحقیر کرتا ہے سرپر رکھنے کے بجائے پیروں
کی خاک سمجھتا ہے دولت اس کے سامنے سر نگوں ہو جاتی ہے۔
امانت
اولیا
ء اللہ کی گفتگو اسرار و رموزاور علم عرفان سے پُر ہو تی ہے اور ان کے الفاظ پر
ذہنی مرکزیت کے ساتھ تفکر کیا جا ئے تو کا ئنات کی ایسی مخفی حقیقتیں منکشف ہو تی
ہیں جن کا انکشاف اور مشاہدہ انسان کو اس امانت سے روشنا س کر دیتا ہے جس کو
سماوات ،ارض اورجبال نے یہ کہہ کر قبول کر نے سے انکار کر دیا کہ ہم اس امانت کے
متحملّ نہیں ہو سکتے۔
روح
کی تلاش
آؤ
اپنی اس میراث کو تا لا ش کر یں جس کے متحمل سماوات اور ارض اور پہاڑبھی نہیں ہو سکے ،وہ میرا ث جس کے
سامنے آسمان ،زمین ،ستارے ، شمس وقمر سب
مسخر ہیں ۔ یہ اس امانت کی امین ہماری روح
ہے۔
ایک
لمحہ
یہ
ساری دنیا ایک لمحہ میں قید ہے ۔اور اس ایک لمحاتی دنیا کے اصول کے مطا بق آدم کو
ایک گھڑی مستعار ملی ہے اگر یہ زندگی محض بے کا ر با توں میں گذرگئی تو ساری دنیا
ہی گذر گئی ہم نہ پیدا ہو ئے ،نہ جئے ،نہ اُٹھے ،نہ بیٹھے ،نہ کچھ کیا ،نہ کچھ
سمجھا ۔گو یا ایسےآئے کہ آئے ہی نہ تھے ۔
تعصب
جو بندہ تعصب، تفرقہ اور خود نمائی کے خول میں بند رہتا ہے۔
شیطان اسے اپنا دوست بنا لیتا ہے۔
ریاکار
ریاکار دھوکے بار اور مطلب پرست شخص کے اندر منافقت پیدا ہو
جاتی ہے اور اس کے اندر وسوسوں کا عفریت داخل ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں آدم ذاد
جو فرشتوں کا مسجود ہے اپنی ذات سے نا آشنا ہو کر دوسروں کا محکوم بن جاتا ہے۔
مستی و قلندری
بندہ کا سانس خالص شراب کے ایک
گھونٹ ہےسوچ کی گہرائی بتاتی ہے کہ ساری
دنیا ہی خالص شراب ہے ۔ شراب کا یہی گھونٹ زندگی میں پنہاں اسرار کو میرے اوپر
منکشف کرتا ہے ۔بندہ چاہے اسے مستی و قلندری میں گزار دے چاہے تو
خود کو گمراہی میں دفن کردے۔
روح
انسان خالصتاً
جب کوئی کام کرتا ہے تو اسے خوشی ہوتی ہے۔
خوشی اس کے اندر سما جاتی ہے اس کی روح کے کونے کونے کو منور کردیتی ہے اس خوشی سے
اس کی روح اتنی ہلکی ہو جاتی ہے کہ انسان اپنے جسم کو لطیف محسوس کرتا ہے۔
خودآ گہی
خودآ گہی اور اپنی ذات کا عرفان ایسی روحانی کامیابی ہے
جس کے ذریعے انسان اپنی دعوت کا سچہ نمونہ بن جاتا ہے
خدمت
اللہ کی مخلوق کی خدمت کا سچااور مخلصانہ جزبہ انسان کے
اندر محبت ،اخوت، مساوات کو جنم دیتا ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔