Topics

قوموں کی حالت

 

جو قومیں اپنی حالت بدلنے کے لئے کوشش کرتی ہیں ان کو ایسے وسائل مل جاتے ہیں جن سے وہ معزز اور محترم بن جاتی ہیں اور جو قومیں اپنی تبدیلی نہیں چاہتیں وہ محروم اور زلیل زندگی گزارتی ہیں۔

 

اللہ کے اختیارات

بندہ اللہ کے دیئے ہوئے اختیارات کو اگر صحیح سمتوں میں استعمال کرتا ہے تو اچھے نتائج مرتب ہوتے ہیں اگر غلط طرزوں میں استعمال کرتا ہے تو منفی نتائج مرتب ہوتے ہیں۔

 

صحیح طرزیں

قومیں اگر صحیح طرزوں میں عملی زندگی بسر کریں گی تو ان کو عروج نصیب ہوگا اور اگر غلط طرزوں میں عملی زندگی بسر کریں گی تو ظلام بنادی جائیں گی۔

 

ظاہری حالت

 ظاہری حالت میں رہتے ہوئے غیب کی دنیامیں بھی جس فردیا قوم کی رسائی  ہوتی ہے دراصل وہی اصلی ترقی عزت اور شان و شوکت ہے۔

 

حقیقت

 حقیقت میں ذہنی انتشار نہیں ہو تا ، حقیقت کے اوپر کبھی خوف اور غم کے سائے نہیں  منڈلاتے، حقیقی دنیا سے متعارف لوگ ہمیشہ پر سکون رہتے  ہیں۔

 


 

استغناء

 استغناء حاصل کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان کی سوچ اور انسان کی طرز فکر اس طرز فکر سے ہم رشتہ ہوجواللہ کی طرز فکر ہے۔

 

اللہ کی طرز فکر

اللہ کی طرز فکر یہ ہے کہ وہ اپنی مخلوق کی خد مت کر تا ہے اور اس  خدمت کا کوئی صلہ نہیں چاہتا بندہ جب اختیاری طور پر اس طرز فکر کو اختیار کرلیتا ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ کی مخلوق کے کام آئے تو اسے قلندر شعور متنقل ہو جاتا ہے۔

 

یقین

 جب تک آدمی کے یقین میں یہ بات رہی ہے کہ چیزوں کا موجود ہونایا چیزوں کا عدم میں چلے جانااللہ  کی طرف سے ہے۔ اس وقت تک ذہن کی مرکزیت قائم رہتی ہے اور جب یہ یقین غیر مستحکم  ہو کر ٹوٹ جاتا ہے توآدمی  ایسے عقیدے اور ایسے وسوسوں میں گر فتار ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ پریشانی  ہوتی ہے، غم اور خوف ہوتا ہے۔

 

وسائل

اللہ نے وسائل اس لئے تخلیق کئے ہیں کہ نوع انسان ان وسائل کے اندر مخفی قوتوں کو تلاش کر کے ان سے کام لے۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔