Topics

کائنات اللہ کی محتاج

 

کائنات میں جو کچھ ہے وہ زمین پرہو ، زمین میں ہو ، آسمانوں میں ہو یا کائنات کے کسی بھی گوشے میں ہو وہ اللہ کی صفت کا مظاہرہ ہے ۔ چونکہ کائنات اللہ کے ذہن کا عکس ہے اس لئے کائنات میں ہر مخلوق ہر ہر قدم پر خالق کائنات اللہ کی محتاج ہے۔

 

روح

جو کچھ باطن میں ہے وہی ظاہر میں ہے ۔ جو چیز باطن میں نہیں ہے وہ ظاہر میں بھی موجود نہیں ہے۔ گویا باطن رخ اصل ہے ۔ اور کسی شخص کا باطنی رخ ہی اس کی اصل اور روح ہے .

 

شکل و صورت

غیب کی دنیا میں لفظ اور معنی کوئی چیز نہیں ہے ۔ ہر چیز شکل و صورت رکھتی ہے خواہ وہ وہم ہو ، خیال ہو یا احساس۔

 

قوم

کہ قوم نام ہے افراد کا۔ افراد جب اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن سے دور ہو جاتےہیں تو ان کے اندر احساس کمتری پیدا ہو جاتا ہے اور احساس کمتری صلاحیتوں کو نیست و نابود کر دیتا ہے۔

 

مدد

ایک دوسرے کی مدد کرو۔ ایک دوسرے کیلئے قربانی دو۔ اپنے سے زیادہ دوسروں کا خیال رکھو۔ اللہ تعالے فرماتے ہیں کہ اگر  تم مجھ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو پہلے میرے بندوں سے محبت کرو۔ انسان کا فرض ہے کہ ہر وہ کام کرے جس میں بنی نوع آدم کی بھلائی ہو۔ اگر اس میں کسی قسم کی قربانی بھی دینی پڑے تو اس سے دریغ نہ کرے۔

 

اعمال حسنہ

اعمال حسنہ میں جو انسان زندگی بسر کرتا ہے۔ اگر انسان کے پاس موت کو حاصل کرنے کی یہ قیمت نہیں تو کچھ بھی نہیں۔برے انسان کے لیے موت ایک بھیانک دیو سے کم نہیں ہے۔

 

وظیفہ

ذہن کا اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہونا روح کا وظیفہ ہے اور اعضا ء کا حرکت میں رہنا جسم کا وظیفہ ہے۔

 

کائنات

اس کائنات میں کوئی راز راز نہیں ہے لیکن اس کائنات سے انسان اس ہی وقت فائدہ اٹھا سکتا ہے جب وہ ان اصولوں کو صدقِ دل سے اپنالے جو اس کائنات کے خالق نے بنائے ہیں۔

 

حقیقت

انسان کسی بھی  حقیقت کو اس وقت تسلیم کرتا ہے جب حواسِ خمسہ کی تمام قوتیں اس پر گواہ ہو جائیں۔

 

حواس خمسہ

حواس خمسہ کی دو قسمیں ہیں ایک طاہری اور دوسری باطنی ، ظاہری قوت مادے کے باہر دیکھتی ہے جب کہ باطنی قوت مادے کے اندر جھانکتی ہے اور اس کی حقیقت کو پہچانتی ہے اور جب یہی قوت اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو پھر کوئی راز راز نہیں رہتا۔ یہ کائنات انسان کےلئے مسخر ہو جاتی ہے۔ ایسا انسان روحانی دنیا کا باسی ہوتا ہے۔ اس کائنات کی حقیقت جاننے کے بعد وہ صحیح معنوں میں اشرف المخلوقات کہلانے کا حق دار ہوتا ہے۔

 

حقیقت

اس کائنات کی حقیقت جاننے کے خاطر انسان کو سخت محنت کرنی پڑتی ہے۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔