Topics

عارضی

 

ہر عارضی چیز حقیقت نہیں ہوتی ۔اور جو چیز حقیقی ہے وہ حق سے قریب  ہے۔

 

دوستوں کی صحبت

دوستوں کی صحبت میں بیٹھ کر وہی رجحانات اور خیالات پیدا ہوتے ہیں جو دوستوں میں کام کر رہے ہیں قلبی لگاوَ اسی سے بڑھانا چاہیے جس کا ذوق افکار و خیا لات اور دوڑ دھوپ اسوہَ حسنہ کے مطابق ہوں۔

 

دوستی کی بنیاد

دوستی کی بنیاد ،خلوص محبت اور رضاےَ الٰہی پر ہونی چاہیے نہ کہ ذاتی اغراض پر ایسا رویہ اپنائیے کہ دوست آپ کے پاس بیٹھ کر مسرت اور کشش محسوس کریں۔

 

طمانیت قلب کا ذریعہ

اگر انسان کے اندر خود سکون ہے وہ دوسروں کے لئے بھی طمانیت قلب کا ذریعہ ہے اس کا عکس عطر بیز ہے تو وہ بھی پورے ماحول کی خوشبو ہے۔

 

فطرت میں مقام

فطرت میں ہم اپنا مقام رکھتے ہیں ۔ یہ مقام ہمیں ایک ہستی نے جو تمام نوعوں سے ماوراء ہے اور تمام افرادِ کائنات پر فضیلت رکھتی ہے۔عطاء کیا ہے اور یہ عطاایک فاضل عقل اور تفکر کرنے کی صلاحیت ہے۔

 

مسلمانوں کے عمل

قرآن کی حقیقی تعلیم اور مسلمانوں کے عمل میں بہت بڑا تضاد واقع ہوچکا ہے قرآن جس راہ کا تعین کرتا ہے اور مسلمان جس راہ پر چل رہا ہے یہ دونوں دو ایسی لکیریں ہیں جو آپس میں کبھی نہیں ملتیں۔

 

 

توقع

اللہ کے علاوہ کسی سے توقع نہ رکھی جائے اس لئے کہ جو بندہ کسی سے توقع نہیں رکھتا وہ نا امید بھی نہیں ہوتا ۔امیدیں توازن کے ساتھ کم سے کم رکھنی چاہئیں اور ایسی ہونی چاہئیں جو آسانی کے ساتھ پوری ہوتی رہیں۔

 

قدرت کا چلن

قدرت کا چلن یہ ہے کہ غیر معمولی طاقت اسے ملتی ہے جو اس کا موزوں استعمال جانتا ہے۔

 

زندگی 

زندگی  خواہشات تمناوَ   اور آرزو کے تانے بانے پر قائم ہے۔اور خوشی دونوں تصورات خیالات سے وابستہ اور تصورات سے جنم لیتے ہیں ۔

 

نا خوش اور غیر مطمئن

ہم نا خوش اور غیر مطمئن اس لئے  ہوتے ہیں کہ ہمارے اندر جو خواہش پیدا ہوتی ہے وہ غیر شعوری ہے اور ہم خواہش کے پس پردہ ضروریات سے نا واقف ہیں۔

 

یقین و فریب

کسی چیز پر انسان کا یقین کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا فریب کو جٹھلانا ۔

 

مفروضہ خوبیاں

انسان جو کچھ ہے خود کو اس کے خلاف پیش کرتا ہے وہ ہمیشہ اپنی کمزوریوں کو چھپاتا ہے اور ان کی جگہ مفروضہ خوبیاں بیان کرتا ہے جو اس کے اندر موجود نہیں ہیں ۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔