Topics

زمانیت و مکانیت

 

مادی مظاہر میں انسان زمان و مکان میں قید ہے اور غیب کی دنیا میں زمانیت اور مکانیت انسان کے ارادے کے تحت عمل کرتی ہے۔

 

نفرادیت محدودیت ہے

انسان کے پاس ادراک کے دو زاویے ہیں ایک زاویہ انفرادیت تک محدود ہے دوسرا زاویہ انفرادیت کی حدود سے باہر ہے۔

 

کائنات میں تفکر

جو قومیں نظام کائنات میں تفکر کرتی ہیں،ان کے اوپر ترقی کی راہیں کھل جاتی ہیں

 

انبیاء کی طرزِ فکر

زمان و مکان کی پابندیوں سے آزاد ہونے کیلئے من حیث القوم ترقی پزیر اقوام کو انبیاء کی طرز فکر کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔

 

غیر جانبداری

کسی بات کو صحیح طریقے پر سمجھنے کے لیئے غیر جانب دار ہونا ضروری ہےاگر انسان غیر جانب دار نہیں ہوتا تو معنی پہنانے میں مصلحتیں شامل ہو جاتیں ہیں۔

 

انفرادی ادراک

دنیا میں ہر فرد اپنا ادراک رکھتا ہے یہ انفرادی ادراک ہی ایک دوسرے کی شناخت اور پہچان کا ذریعہ ہے۔

 

ظاہری و باطنی رُخ

ہر ظاہری رخ باطن کا عکس ہے جب تک کوئی شے باطنی رخ کیساتھ موجود نہیں ہوتی شکل و صورت میں نظر نہیں آتی۔

وحدت الوجود اور وحدت الشھود

وحدت الوجود اور وحدت الشہود یا وحدت کی اصطلاحات انسانی ذہن کی اپنی اختراع ہے،یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی لفظ کے ذریعے اللہ کی صفات کا مکمل اظہار ہو سکے۔

 

ادراک

اللہ کا علم جب نزول کرتا ہے تو اس نزول کی پہلی حالت کا نام ادراک ہے،ادراک میں جب تک گہرائی پیدا نہیں ہوتی،خیال کی کیفیت متشکل نہیں ہوتی۔

 

ورائے لاشعور کا دروازہ

جب کوئی روحانی مسافر،علم ِالٰہی کے راستے پر سفر کرتا رہتا ہےاور شعور کی گہرائی سے گزر کر لاشعور کی گہرائی میں داخل ہو جاتا ہے،تو اس کے اوپر ورائے لاشعور کا دروازہ کھل جاتا ہے.

 

اختیارات

اختیارات کا استعمال اس وقت ممکن ہے جب اختیارات سے متعلق قوانین سے واقفیت حاصل ہو۔

 

فکشن حواس

عالم ناسوت میں رہتے ہوئے ہمارا علم اور ہمارے جاننے پہچاننے اور شناخت کرنے کی طرزیں مفروضہ اور فکشن حواس پر قائم ہیں۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔