Topics

پیدائش

 

 پیدائش کے بعد زندگی کا دوسرا مرحلہ ہمارے سامنے آتا ہے کہ ہمارا ہر ہر لمحہ مرتا ہے اور ہر لمحے کی موت دوسرے لمحےکے کی پیدائش کازریعہ  بن  رہی ہے۔

 

مادی جسم

آدمی صرف مادی جسم نہیں ہے۔ بلکہ ایک شعور ہے جو ایک طر ف  گھٹتا رہتا ہے اور دوسری طرف بڑھتا ہے ہے جیسے شعور گھٹتا ہے آدمی ماضی  میں جاتا  رہتا ہے اور  جیسے جیسے  شعور بڑھتا ہے آدمی مستقبل میں قدم رکھتارہتا ہے۔

 

ہماری کائنات

 ہماری کائنات اللہ کی آواز ہے اللہ نے جب اپنی آواز میں کن کیا تو ساری کائنات وجودمیں آگئی اللہ جب اپنا تعارف کراتا ہے تو کہتا ہے کہ میں مخلوق کا دوست ہوں۔

 

ہمارا رب

 وہ خداجو ہمارارب ہے جو ہمارے لئے ہر طرح کے وسائل پیدا کرتا ہے اور ہمیں زندگی کے نئے نئے مراحل اور نئے نئے تجربات سے گزار تار ہتا ہے بلا شک و شبہ ہمارادوست ہے۔

 

مخلوق کا ساتھ

خدا اپنی مخلوق کا ساتھ بھی نہیں چھوڑتا چاہے ہمارے جسمانی خدو خال  کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں۔

 


 

تلاش

 انسان کو وہ چیز مل جاتی ہے جس کی اسے تلاش ہوتی ہے اللہ کے یہاں اس بات کی خصوصیت نہیں کہ وہ الله کو مانتا ہے یا نہیں۔

 

تلاش مقصد

 انسان اپنی صلاحیتوں کے ساتھ تن من دھن سے کسی چیز کی تلاش میں لگ جائے اور تلاش کو زندگی کا مقصد قرار دے لے تو وہ چیز اسے حاصل ہو جاتی ہے۔

 

کتا ب کا علم

کتاب  کا علم سیکھ کر بندہ ایسی مسند پر قیام فرما ہو جاتا ہے جہاں اسے کائنات میں تصرف کرنے کی صلاحیت ودیعت کر دی جاتی ہے۔

 

سوچ

 انسان کے اندر سوچ اور تفکر کا شعور متحرک ہو جاتا ہے تو اس کی نظر اس کی فہم اس کا ادراک اور اس کی بصیرت اسے اس طرف متوجه کرتی ہے کہ با اختیار انسان مجبور محض ہے اور یہ مجبور ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ہماری تمام زندگی کا کنٹرول کسی ایسی ہستی کے ہاتھ میں ہے جس کا اختیار کائنات کے اوپر محیط ہے۔

 

راسخ

 راسخ  فی العلم لوگوں کے ذہن میں یقین کا ایسا پیٹرن بن جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا ہر عمل اور زندگی کی ہر حرکت ہر ضرورت اللہ کے ساتھ وابست  کر دیتےہیں۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔