Topics
خدا تعالی اس شخص کو دوست رکھتا ہے جس میں دریا جیسی سخاوت
آفتاب جیسی شفقت اور زمین جیسی تواضع ہو۔
نظام
کوئی نظام اسی وقت نظام کادر جہ پاتا ہے جب اس کی بنیادیں مستحکم
ہوں اور اس نظام کو چلانے والے اس کی حفاظت میں کمر بستہ رہیں۔
درخت
درخت ایک ہے پتے اور شاخیں لا تعداد میں اگر کوئی شاخ
خوداپنے درخت کی جڑ پر ضرب لگائے تو وہ خود کس طرح محفوظ رہ سکتی ہے۔
خوش و خرم
خوش و خرم رہنا، خوش اخلاقی، مسکراہٹ بھری زندگی، پر کشش پر وقار گفتگو، زندہ دلی، شگفتہ
زہن اور محبت و ایثار آدم زاد کو صحت مند رکھتا
ہے۔
اجزائے ترکیبی
زندگی کے تمام اجزائے ترکیبی ایک طاقت کے پابند ہیں وہ طاقت
جس طرح چاہے روک دیتا ہے اور جس طرح چاہے انھیں چلادیتی ہے۔
ماضی
ماضی کو پروقار، حال کو مسرور اور مستقبل کو روشن اور تابنا
ک بنانے کے لئے ہر کڑی کادوسری کڑی کے
ساتھ اتحاد و اتصال ضروری ہے۔
کوئی طاقت ہے کوئی ہستی ہے جس کے حکم پر ازل تابد نظام حیات
قائم ہے زندگی سے مردانہ وار لڑ کر فتح یاب ہونے کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ ہے
کہ انسان جدوجہد اور کوشش کی حقیقت سے واقف ہو جائے۔
نمود و نمائش
نمود و نمائش ایک ایسا زہر ہے جو انسانی کردار کو ہلاک کر
دیتا ہے۔
خوشی
خوشی انسان کے لئے ایک طبی تقاضہ اور فطری ضرورت ہے اسلام
یہ نہیں چاہتا کہ مسلمان مصنوعی وقار ، غیر فطری سنجیدگی ، مردہ دلی اور افسردگی سے قوم کے کردار کی کشش کو ختم کر دیں اسلام
چاہتا ہے کہ مسلمان بلند حوصلوں ، نت نئے ولولوں اور نئی نئی امنگوں کے ساتھ تاز
دوم رہ کر اپنا وقار بلند رکھیں۔
خوش
خوش رہنا اور دوسروں کو خوش رکھنا مسلمان کا اخلاقی کردار
ہے مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ خوشی میں
بھی اسلامی وروحانی قوت اور حفظ مراتب کا خیال
رکھتا ہے۔
قرآن
قرآن آئینے کی طرح آپ کے اندر ہر ہر داغ اور ہردهبہ نمایاں
کر کے پیش کرتا ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔