Topics
ذات کو صفات سے الگ
نہیں کیا جاسکتا صفات ذات کے اندر موجود ہوتی ہیں اور صفات سے ہی ذات کا تعارف
ہوتا ہے۔
کائنات کے رموز پہلے
اللہ کو پہچاننے کے لئے خود کو پہچاننا ضروری ہے خود کو
پہچاننا دراصل کائنات کے رموز کو جاننا اور پہچاننا ہے کائنات کے رموز سے واقفیت کائنات کے اوپر حکمرانی ہے کائنات پر حکمران
بندہ ہی اللہ کا نائب اور خلیفہ ہے۔
علم کا سمندر
اللہ کیونکہ لا متناہی ہے اس لئے اللہ کی صفات کا علم بھی
لا متناہی ہے یعنی آدم کو اللہ نے جو علم عطا کیا ہے وہ لا متناہی ہے یہ علم ایک
ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔
تقاضے
زندگی کے سارے تقاضے روح سے منتقل ہوتے ہیں
ترک
ترک آدمی کی زندگی کا جزو اعظم ہے
باطنی نگاہ
اگر
کسی بندے کے اندر باطنی نگاہ متحرّک نہیں تو ایمان کے دائرے میں داخل نہیں ہوتا۔
جب کوئی بندہ ایمان کے دائرے میں داخل ہو جاتا ہے تو اس کی طرزِ فکر میں سے تخریب
اور شیطنیت نکل جاتی ہے ۔
غیر مرئی صلاحیتیں
ہم کائناتی تخلیقی فارمولوں کے تحت اپنے اندر
ہر قسم کی غیر مرئی صلاحیتوں کو اپنے ارادے اور اختیار سے متحرک کرسکتے ہیں ۔
خیالات
خیالات
اور عمل کی پا کیزگی یہ ہے کہ کسی کو برا نہ سمجھیں کسی کی طر ف سے بغض و عناد نہ
رکھیں اگر کسی سے تکلیف پہنچی ہے تو انتقام نہ لیں معاف کر دیں ۔ ضروریات زندگی
اور معاش کے حصول میں اعضا کا وظیفہ پو را کر یں ۔جدو جہد میں کو تا ہی نہ کر یں
لیکن نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں ۔ کسی عمل سے یہ محسوس ہو جا ئے کہ مجھ سے کسی کی دل آزاری ہو گئی یا کسی کے
ساتھ زیادتی ہو گئی ہے تو بلا تخصیص وہ کمزور ہے ، نا تواں ہو ، غر یب ہو ، چھو ٹا
ہو یا بڑا ہو اس سے معافی مانگ لی جائے ۔ آدمی جو کچھ اپنے لئے پسند کر تا ہے وہ
دو سروں کے لئے بھی پسند کر ے ۔ ذہن کے اندر مال و متا ع اور اسباب کی اہمیت نہ ہو
۔ اللہ کے پھیلا ئے ہو ئے اور دئیے ہو ئے وسائل کو خوش ہوکر استعمال کر ے لیکن
دنیا وی وسائل کو مقصد زندگی نہ بنا ئے ۔ جس طر ح ممکن ہو دامے درمے ، قدمے ، سخنے
، اللہ کی مخلوق کی خدمت کی جا ئے ۔
اللہ کی مخلوق
للہ کی مخلوق کی خدمت کا سچااور مخلصانہ جذبہ انسان کے اندر
محبت ، اخوت ، مساوات اور مامتا کو جنم
دیتا ہے۔
اللہ کا حق
بندے کے اوپر اللہ
کا یہ حق ہے کہ بندے کو اللہ کی ذات اور صفات کی معرفت حاصل ہو ، اس کا دل اللہ کی
محبت سے سرشار ہو اس کے اندر عبادتوں کاذوق اور اللہ کے عرفان کا تجسس کروٹیں لیتا
ہو۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔