Topics

تقاضے

 

زندگی کے تقاضے شعوری ہوں یا لا شعوری اطلاعات (INFORMATION) تابع ہیں۔

 

وسائل

انسان اللہ کے بنائے ہوئے وسائل سے استفادہ کرتاہے مگر یہ نہیں سوچتا کہ زندگی کو برقرار رکھنے والے وسائل اللہ نے مہیا کئے ہیں۔

 

سکون

جب بندہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے تو اس کے اوپر سکون ، استغراق اور سرور کا غلبہ ہو جاتا ہے۔

 

روحانی نظام

جب انسان اپنے مادی وجود یعنی شعوری نظام کو روحانی نظام میں فنا کر دیتا ہے تو وہ شجر سایہ دار بن جاتا ہے۔

 

کن

کہ یہ ساری کائنات ایک ہستی جس نے ’’کن‘‘ کہا کی معمول ہے۔ اور اس ہستی کے بنائے ہوئے قوانین سیکھنے والے خواتین وحضرات عامل ہیں اور باقی سب معمول ہیں۔

 

کھونا پانا

جو کھوتا ہے وہ پاتا ہے اور جو پا لیتا ہے وہ خود کھو جاتا ہے۔

 

نور

ہر چھوٹی سے چھوٹی شئے اور بڑی شئے روشنی کے غلاف میں بند ہے۔روشنی نور کے غلاف میں بند ہے۔

 

بیس ہزار فرشتے

انسان کٹھ پتلی کی طرح ہے۔ ہر ایک انسان میں بیس ہزار ڈوریاں بندھی ہوئی ہیں۔ ان ڈوریوں کو ہلانے اور حرکت کے لئے بیس ہزار فرشتے مقرر ہیں۔

 

ارتقاء

زمین دراصل آدم و حوا کا وہ شعور ہے جو ارتقا کی طرف گامزن ہے۔ دراصل ارتقاء ہی زندگی ہے۔

 

سترہ مقامات

ازل سے زمین تک آنے میں اور زمین سے ازل تک پہنچنے میں ہر انسان کو تقریباً سترہ مقامات سے گزرنا پڑتا ہے۔

 

زمین

ہماری اصلی ماں زمین ہے ۔ جب تک آدمی زندہ رہتا ہے ۔ زمین ہماری کفالت کرتی ہے اور جب آدمی مر جاتا ہے تو زمین ہماری ماں مادی جسم کے تعفن کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے۔

 

اللہٰ کی طرز فکر

کسی کو بنانے کیلئے اپنا سب کچھ کھونا پڑتا ہے۔ سچا استاد وہ ہے جو شاگرد کی طرز فکرمیں  اللہٰ کی طرز فکرشامل کردے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب استاد کی طرز فکر اللہ کی طرز فکر  کے مطابق ہو۔

 

دولت

مال و زر دولت و دنیا انسان کے لئے بنائی گئی ہیں ۔ جب کہ انسان یہ باور کرانے میں مصروف ہے کہ اسے دنیا کے لئے بنایا گیا ہے۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔