Topics
قومیں
گناہوں سے نیست و نابود نہیں ہوتیں گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔شرک ایک ایسا گناہ
ہے جو کسی صورت معاف نہیں کیا جاتا اور دولت پرستی سب سے بڑا شرک ہے۔
عقل
عقل
صرف آدم زاد کی میراث نہیں۔
حاکمیت
حاکمیت
صرف اللہ کی ذات کے لیئے مخصوص ہے اور ہم فکروآلام اور عدم تحفظ کی چکی میں اس
لیئے پس رہے ہیں کہ ہم نے زرپرست اور معتصب لوگوں کو اپنا ان داتا سمجھ لیا ہے۔
فطری
عقل
قیامت
گزر جانے سے پہلے ہم نے اگر فطری عقل سے کام نہیں لیا تو صفحہ ہستی سے ہمارا وجود
حرف غلط کی طرح مٹ جائے گا۔
عمل
کے بغیر دعا
عمل
کے بغیر دعا ایک ایسا جسم ہے،جس میں روح نہیں ہے۔
بےعملی
بے
عملی قوم کا شیرازہ بکھیر دیتی ہے اور ہر فرد اپنی ذات میں بند ہو جاتا ہے۔بے عمل
بندہ اللہ کی نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے۔
ترک
عمل
جب
سے ہم نے عمل کو ترک کیا ہے اور صرف دعاوں کا سہارا بنا لیا ہے۔ہمارے اندر سے نور
نکل گیا ہے اور نار نے ہمیں اپنا لقمہ تر سمجھ لیا ہے۔
کفرانِ
نعمت
اللہ
کی امانت قبول کر کے اس کی حفاظت نہ کرنا اور اس سے فائدہ نہ اٹھانا کفران نعمت
ہے۔جبکہ کفران نعمت ناشکری ہے،اور ایسی قومیں جو شکر گزار نہیں ہوتیں،زمین پر بوجھ
بن جاتی ہیں۔آسمانی بلائیں انکی زندگی کو زہریلا کر دیتی ہیں۔ایسی قوموں خی عزت داغ
دار ہو جاتی ہے۔ایسی قومیں ذلت و رسوائی اور شکست کی علامت بن جاتی ہیں۔
کاش
کاش
میں درخت کا ایک پتہ ہوتا،جس پر شبنم موتی بن کر استراحت کرتی اور پرندے شاخوں پر
بیٹھ کر اللہ کی حمد و ثناء بیان کرتے،صبح دم پرندوں کے یہ ترانے میری روح میں
ایسی سرشاری پیدا کر دیتے کہ میں آسمان کی وسعتوں میں گم ہو کر اشرف المخلوقات
ہونے کا اعزاز واپس لے آتا۔
اللہ
رگ جان
اللہ
رگ جاں سے زیادہ قریب ہے۔اللہ ابتداء ہے اللہ انتہا ہے،اللہ ظاہر ہے،اللہ باطن
ہے،اللہ ہر چیز پر محیط ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔