Topics
خاتم
النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حرف راز بتایا ہے کہ بندہ خالق کو اسی وقت پہچان
سکتا ہے۔جب اس کا ہر عمل صرف اور صرف اللہ کے لیئے ہو۔اس میں کوئی غرض شامل نہ ہو۔
خود
فریبی
ہمیں
اپنے اندر باہر،ظاہر،باطن ہر طرف نظر دوڑا کر یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ہم کس حد تک
خود فریبی میں مبتلا ہو چکے ہیں۔نفس نے ہمیں ہمارے رب سے دور تو نہیں کر دیا؟ایسا
تو نہیں کہ دوسروں کو نصیحت کے عمل نے ہمیں خود اپنے آپ سے بے خبر کر دیا ہے۔
سیرت
النبی
حضور
صلی اللہ علیہ وسلم دونوں جہاں کے خزانوں کے مالک ہیں۔ہمیں سیرت طیبہ پڑھ کر
دیکھنا ہو گا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح زندگی گزارتے تھے۔اپنے مفید مطلب
زندگی کے کسی ایک شعبہ پر عمل کر لینے سے ہر گز تعمیل ارشاد کا منشاء پورا نہیں
ہوتا۔
مخلوق
کی خدمت
بندہ
اگرچہ خالق کی سطح پر مخلوق کی خدمت نہیں کر سکتا لیکن اپنی سکت،صلاحیت اور بساط
کے مطابق کسی صلے یا بدلے کے بغیر وہ اللہ کی مخلوق کی خدمت کر سکتا ہے۔
حیوانات
سے ممتاز
جو
کردار آدمی کو حیوانات سے ممتاز کرتا ہے۔وہ فکر و شعور کے دائرے میں رہتے ہوئے
خالق حقیقی سے رابطہ ہے۔
اللہ
سے تعلق
جب
کسی بندے کا تعلق اللہ تعالی سے قائم ہو جاتا ہے تو وہ جانوروں کے گروہ سے نکل کر
انسان بن جاتا ہے اور انسانوں کی فکر و فہم یہ ہوتی ہے کہ وہ برملا پکار اٹھتے ہیں
کہ ہمارا جینا،ہمارا مرنا سب اللہ کی طرف سے ہے۔
روح
کی آنکھ
روح
کی آنکھ وا ہوتی ہے تو فاصلے معدوم ہو جاتے ہیں۔
انسان
انسان
نے اگر اپنی حالت نہ بدلی تو عنقریب زمین اسکی نوع کو جلا کر خاکستر کر دے گی۔
قرآن
قران
ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھ سمجھ کر پڑھیے۔اس عمل سے خدا کساتھ بندے کا تعلق مظبوط ہوتا
ہے۔
ارتقاء
نوع
آدم کا پہلا ارتقاء یہ ہوا کہ اس نے زمین میں بیج بونا سیکھا۔زمین کی کوکھ سے
کانٹوں نے جنم لیا تو آدم نے شعوری طور چھبن محسوس کی،پھول کھلے تو ذہن وارفتگی کے
عالم میں آسمانوں کی رفعتوں کو چھونے لگا۔
محسوساتی
ردعمل
شگوفے
اور خار پھول اور کانٹے اپنی ذات میں ایک محسوساتی ردعمل ہیں ردعمل طرز فکر کی
نشاندہی کرتا ہے۔طرز فکر میں ایمان،یقین،مشاہدہ موجود ہے تو آدم کی اولاد سکون
آشنا ہے۔طرز فکریں بے یقینی،شک اور کور چشمی ہے تو زندگی کانٹوں بھری سیج ہے ہر
کروٹ لہو لہو اور ہر سانس فنا ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔