Topics
بغیر
عمل کے دعا قبول نہیں ہوتی۔ عمل کے ساتھ ساتھ گداز ہونا چاہئے۔ یقین ہونا چاہئے تو
ایسی دعائیں قبولیت کے درجہ پر فائز ہوتی ہیں۔
رشتہ
جب
بندہ اور اللہ کا رشتہ استوار ہو جاتا ہے تو بندہ اپنے ہر عمل کو اللہ کی طرف موڑ
دیتا ہے۔
عرفان
شریعت قانون ہے اس راستہ پر چلنے کا جو راستہ آدمی کو عرفان
تک لے جاتا ہے۔
راست
بازی
سچائی
اور راست بازی سے کیا جاتاہے۔ جس طرح انکاراوراقرار کے وجود سے انکار نہیں کیا جا
سکتا، اسی طرح سچائی اورراست بازی کا تذکرہ بھی ہمیشہ سے ہوتا چلاآیاہے۔
پاکیزہ
پاکیزہ حضرات اعلیٰ ترین انسانی صلاحیتوں سے متصف ہوتے ہیں۔
نمازیں
ایسی
نمازیں جن میں حضور قلب نہ ہو بندہ کے لئے انفرادی طور پر محرومی اور اجتماعی طور
پر ادبار بن جاتی ہے۔
پاسبان
نماز
انسان کے باطنی حواس کے لئے ایک پاسبان کی حیثیت رکھتی ہے اور لوگوں میں اجتماعی
نظم و ضبط کی تشکیل کرتی ہے۔
یقینی
عمل
انسان
خواہ کسی بھی کام میں مصروف ہو یا کوئی بھی حرکت کرے اس کا ذہن اللہ تعالیٰ کے
ساتھ قائم رہے اور یہ عمل عادت بن کر اس کی زندگی پر محیط ہو جائے حتیٰ کہ ہر آن،
ہر لمحہ اور ہر سانس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی وابستگی یقینی عمل بن جائے۔
وصف
کسی
چیز کے اندر اس کا وصف اور اس وصف میں معنویت سے ہی کوئی نتیجہ مرتب ہوتا ہے ۔ جب
تک ہمارے ذہن میں فی الواقع کسی چیز کا وصف اور معنویت موجود نہیں ہوتی ہم اس چیز
سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔
معنویت
کسی
چیز کے قریب ہونا اور کسی چیز کو پہچاننا اس وقت ممکن ہے جب آدمی اس شئے کی طرف
ہمہ تن متوجہ ہو جائے۔ جب تک آدمی کسی چیز کی معنویت میں خود کو گم نہ کر دے، اس
وقت تک وہ اس کی کنہ سے واقف نہیں ہوتا اور معنویت میں گم ہو جانا اس وقت ممکن ہے
جب عقل و فہم اور سوچ کا ہر زاویہ کسی ایک نقطہ پر مرکوز ہو جائے۔
ایثار
ہم
جب کوئی چیز حاصل کرتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں ایثار کرنا پڑتا ہے۔۔۔وقت کا ایثار،
صلاحیت کا ایثار، دماغ اور جسمانی صحت کا ایثار۔ ایثار جتنا بڑھتا چلا جاتا ہے اسی
مناسبت سے ہم حصول مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔