Topics

شئے

 

جب تک کوئی شئے دوسری شے کے کام آرہی ہے اس کا وجود ہے ورنہ پھر وہ شے مٹ جاتی ہے۔

 

عجز و انکساری

عجز و انکساری خطاکار انسان کادہ سرمایہ ہے جو صرف خدا کے حضور پیش کیا جاسکتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس قیمتی اور انمول سرمائے کو اپنے ہی جیسے مجبورو بے کس انسانوں کے سامنے پیش کرتا ہے تو وہ دیوالیہ ہو جاتا ہے اور ذلیل ور سوا ہو کر ہمیشہ کے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے عزت کی روشن کرنیں ذلت کی کثافت میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

 

ایثار

دنیا میں ہر چیز ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہے ہر چیز دوسری چیز کے لئے ایثار کر رہی ہے ہر چیز دوسری چیز کی خدمت میں مصروف ہے۔

 

امر

امر کو سمجھنے کے لئے انسان کو اپنی کنہ سے وقوف حاصل کرنا ہوگا جو دراصل انسان کی صورت میں خودامر ہے۔

 

مہمان

لوگ مہمانوں کے کھانے پینے پر مسرت محسوس کرتے ہیں۔ا ن کو زحمت نہیں رحمت اور خیر وبرکت کاذریعہ سمجھتے ہیں گھر میں میں  مہمان آنے سے عزت و توقیر میں اضافہ ہو تا ہے۔

 


 

عمل

عمل کی پہچان یہ ہے کہ ایک عمل کرنے سے ضمیر خوش ہو تا ہے اور اس کے اندر سکون اور اطمینان کی لہر یں موجزن ہوتی ہیں اور عمل کی دوسری پہنچان یہ ہے کہ ضمیر ناخوش ہوتا ہے اور انسان یہ عمل کر کے ندامت محسوس کرتا ہے۔

 

قلبی لگاؤ

خدمت اور قلبی لگاؤ ایک ایسا عمل ہے کہ آدی نہ چاہتے ہوئے بھی دوست بن جاتا ہے۔

 

بندگان

بندگان خدا کو فائدہ پہنچانے والا اللہ کو سب سے زیادہ عزیز ہے۔

 

قفل

جس شخص کو خداپسند کرتا ہے اس کے دل کا قفل کھول دیتا ہے اس کو  صدق و یقین کا محل بنا دیتا ہے اس کی عقل کو سلامتی ، زبان کو راستی، اخلاق میں استقامت، کان کو سماعت اور آنکھ کو صحیح بصارت عطا کر دیتا ہے۔

 

عدم تحفظ

عدم تحفظ کا احساس انسان کود یمک بن کر چاٹ جاتا ہے اور آدمی خود کو تنہا  محسوس کرتے کرتے، خود سے بیزار ہو جاتا ہے۔

 

اعتدال

 زندگی میں توازن، اعتدال اور مستقل مزاجی  کامیابی کی علامتیں ہیں۔


 

محبت


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔