Topics
قیام کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی قربت پر قائم ہو کر
اس سے ایسا ربط پیداکرے کہ اس کی زندگی کا ہر عمل اللہ کی ذات سے وابستہ ہو جائے۔
خیر اور شر
خیر اور شر دونوں طرز کے لوگ فنا کی منزل میں داخل ہو کر خود فراموشی کا جامہ پہن لیتے
ہیں مگر جو اطمینان جدو جہد ، تزکیہ نفس، خیر کے انتخاب اور پاکیزہ ذہنی انقلاب کے
بعد ہوتا ہے وہ ایسا سرمایہ ہے جس کا شروع آخر ، ابتداء اور انتہا سلامت روی اور
سکون قلب ہے۔
شر
انسان جب شر پر فتح
حاصل کرلیتا ہے تواس کے اندر بصیرت پیدا ہو جاتی ہے اور عالمین کی روشنی اس کے لئے
نگاه بن جاتی ہے۔
وسائل
انسان اس لئے پریشان نہیں کہ وہ مادی وسائل استعمال کرتا ہے
بلکہ اس کی پریشانی کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس نے ان وسائل کو مقصد حیات بنا لیا ہے۔
سہاروں
سہاروں سے آس رہتی ہے ، سارے فریب دیئے ہیں۔
محبت
محبت عشق اور عقیدت تین رخ ہیں جو ہر انسان کے اندر رواں
دواں رہتے ہیں ، کبھی یہ رخ تالاب کی صورت
میں ہوتے ہیں ، کبھی ندی نالوں آبشاروں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور کبھی سمندر
بن جاتے ہیں اور جب یہ رخ سمند ربنتے ہیں تو بندہ عشق سے گزر کر عقیدت کے دائرے
میں داخل ہو جاتا ہے۔
مسافر خانہ
جو بندہ دنیا کو اللہ کے کہنے کے مطابق مسافر خانہ سمجھ لیتا ہے اس کی حکومت ہواؤں پانیوں اور زمینوں پر قائم
ہو جاتی ہے۔
تخلیق
تخلیق کے مقصد کو پانےکے لئے ہمارے پاس صرف یہی ایک
صورت ہے کہ ہم خود کواس شعور سے آراستہ کر لیں جو انبیاء کا شعور ہے جو
انبیا ء کے وارث اولیاء کرام کا شعور ہے۔
وجدان
پیار بڑھ کر محبت میں ڈھلتا ہے محبت عشق بنتی ہے اور پھر
عشق عقیدت میں بن جاتا ہے عقیدت کے بعد کی منزل وجدان ہے۔
پاکیزہ
کردار
پاکیزہ
کردار، ذہنی سکون اور روحانی قدروں سے اچھا سماج تشکیل پاتا ہے۔ متوازن قدروں نے
تشکیل شدہ نظام کی بنیاد عدل و انصاف پر ہوتی ہے تو ایسی تہذیب وجود میں آ جاتی ہے
جس تہذیب پر قائم لوگ فرشتوں کے مسجود ہوتے ہیں اور وہ فی الارض خلیفۃ کی حیثیت سے
کائناتی سلطنتوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔