Topics

نا قابل ادراک

 

نا قابل ادراک ہونے کے باوجو د اللہ انسان کے ساتھ اپنی معیت اور قر بت کاباربار اعلان کرتا ہے۔

 

خدا سے محبت

خدائے تعالیٰ سے جو لوگ محبت کرتے ہیں ان سے اللہ تعالیٰ بھی محبت کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو اس کے دل میں محبت بھر دیتے ہیں۔ محبت کی یہ خوشبو جب آسمان کی رفعتوں کو چھو جاتی ہے تو آسمان والے بھی اس بندے سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب محبت کی یہ خوشبو زمین کی چاروں سمت کو محیط ہو جاتی ہے تو زمین پر بسنے والا ہر فرد خواہ وہ انسان ہو، پرندہ ہو، چرندہ ہو، درندہ ہو اس شخص سے والہانہ محبت کرتا ہے۔

 

اللہ سے محبت

اللہ جب کسی سے محبت کرتا ہے تو اللہ یہ چاہتا ہے کہ اللہ سے محبت کی جائے۔

 

خدا سے محبت

خدا سے محبت کے دعوے کی تکمیل اسی وقت ہوتی ہے اور یہ دعویٰ خدا کی نظر میں اسی وقت قابل قبول ہے جب ہم خدا کے رسولﷺ کی پیروی کریں۔

 

کائنات کا علم

کائنات کا علم جب حاصل ہو جاتا ہے تو انسان کے اندر ایمان و یقین کی ایک دنیا روشن ہو جاتی ہے اور نور سے دل منور ہو جاتے ہیں۔

 


 

دولت

دنیا میں دولت سے زیادہ بے وفا کوئی چیز نہیں ہے۔ دولت نے کبھی کسی کے ساتھ وفا نہیں کی۔ دولت ہر جائی ہے۔ دولت ایک ایسا بزدلانہ تشخص ہے کہ جو دولت کو پوجتا ہے دولت اس کو تباہ و برباد کر دیتی ہے۔

 

خوف

ڈر اور خوف دوری اور جدائی کا نسخہ ہے۔ یہ کون نہیں تسلیم کرے گا کہ ڈر گھٹن ہے، ڈر اضطراب ہے، ڈر بے چینی ہے، ڈر اور خوفناکی دو دلوں میں جدائی کی ایک دیوار ہے۔

 

شکر

 شکر کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو استعمال کیا جائے اور صبر یہ ہے کہ بندہ راضی بہ رضا رہے

 

سعادت مند

اگر تم سعادت مند ہو تو شر سے بچتے رہو کہ اللہ بچنے والوں پر ہمیشہ رحم کرتا ہے۔ رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرو۔ اور بے جا خرچ نہ کرو کہ دولت اڑانے والے شیطان کے بھائی ہوتے ہیں اور تم جانتے ہو کہ شیطان اللہ کا باغی ہے۔

 

خدا کی رحمت

اگر تم تہی دست ہو اور کچھ نہیں دے سکتے لیکن خدا کی رحمت کی امید ضرور رکھتے ہو تو ان لوگوں کو نرمی سے ٹال دو۔ تم نہ کنجوس بنو اور نہ اتنے فضول خرچ کہ کل نادم ہونا پڑے۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔