Topics
قدرت قائم بالذات ہے۔ ایک ایسا مرکزی نقطہ ہے جس نقطے کے
ساتھ پوری کائنات کے افراد بندھے ہوئے ہیں۔ وجود اور عدم وجود دونوں اس میں گم
ہیں۔
ماورائی شعور
جب تک مذہب اور خدا کے بارے میں ہمارے اندر فلسفی انداز اور
منطقی استدلال موجود رہتا ہے۔ ہم کسی نتیجہ پر نہیں پہنچتے۔ اس لئے کہ ماورائی
ہستی کو سمجھنے کے لئے ماورائی شعور کا ہونا بھی ضروری ہے۔ مذہب کی اساس ہمارا
عقیدہ اور وجدان ہے۔
واجدان کی دنیا
جن لوگوں کے اوپر وجدان کی دنیا روشن ہو گئ ان لوگوں کے
اندر خدا کے عدم وجود کے بارے میں شکوک و شبہات ختم ہو جاتے ہیں۔
عالم واجدان
وجدان ایک ایسا عالم ہے جس عالم میں ہر لمحہ،ہر آن حقیقتیں
عکس ریز ہوتی رہتی ہیں عالم وجدان میں سفر کرنے والا مسافر وہ سب کچھ دیکھ لیتا ہے
جو عقل کی پہنائیوں میں گم رہنے والا بندہ نہیں دیکھتا۔
عبادت وریاضیت
عبادت و ریاضت کے ہر عمل کی بنیاد یہ ہے کہ اس عمل سے ڈر
اور خوف سے نجات ملے گی اس کے بارے میں یقینی شہادت موجود نہیں ہوتی اور یقینی
شہادت نہ ہونے کی بناء پر انسان مایوس ہو جاتا ہے۔
خوف زدہ زندگی
جو لوگ خوفزدہ زندگی سے آزاد نہیں ہیں،وہ خود غرضی اور ہر
قسم کی نفسانی اور شہوانی جذبات کی یلغار میں گھرے رہتے ہیں۔سفلی جذبات انکو اپنا
معمول بنا لیتے ہیں۔
ذریت ابلیس
جذبات کی نادرستگی سے انسان سختی،ناہمواری،منافقت،کور چشمی
کبرونخوت حرص و طمع اور احساس برتری یا احساس کمتری کا ایک فعال کردار بن جاتا ہے
ایسا کردار جس کو شیطان ذریت ابلیس میں شامل کر کے اس سے اپنے مشن کا کام لیتا ہے۔
خالق کی پہچان
خالق کائنات کو پہچاننے اور خالق کہ صفات سے وقوف حاصل کرنے
کے لیے تخلیق فارمولوں سے واقفیت حاصل کرنا ضروری ہے۔
ازل تا ابد حرکت
ازل تا ابد حرکت کے علاوہ کچھ نہیں ہے حرکت کسی وقت ساقط
نہیں ہوتی۔
شعور لاشعور
لاشعور سو جاتا ہے۔تو شعور بیدار ہو جاتا ہے اور جب شعور سو
جاتا ہے تو لاشعور بیدار ہو جاتا ہے انسان وہی کچھ دیکھتا ہے جسکا مظاہرہ کن کے
بعد ہو چکا ہے۔
حواس
اصل انسان حواس کا پابند کھبی نہیں ہوتا حواس ہمیشہ انسان
کے پابند رہے ہیں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔