Topics

روحانی طرز فکر

 

روحانی طرزفکر مسلسل ایک عمل ہے جو سالک کے اندر خون کی طرح دور کرتا ہے۔

 

مشاہدات

انسان اگر قرآن اور آسمانی کتابوں پر غور و فکر کرے تو خود اسے اپنے اندر فطرت کے تمام نظام موجود نظر آئیں گے اور وہ جان لے گا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا مظاہرہ دو رخوں میں ہو رہا ہے۔ ایک رخ میں مادی اور ظاہری کائنات ہے اور دوسرے رخ میں باطنی کائنات ہے جو انسان کے قلب میں جاری ہے، ظاہر اور باطن  دونوں میں دیکھنے والی آنکھ انسان کی آنکھ ہے اور اس آنکھ کی بینائی اللہ کا نور ہے۔ یہ نور ہی انسان کے ظاہر اور باطن دونوں میں مشاہدات کا واسطہ بنتا ہے۔

 

حقیقت

حقیقت پسندانہ طرزِ فکر ہر آدمی کے اندر موجود ہے لیکن ہر آدمی اسے استعمال نہیں کرتا۔ آدمی دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی غیر حقیقی باتوں کو اصل اور حقیقی سمجھتا ہے۔

 

طرزفکر

انسان کا کردار اس کی طرزفکر سے تعمیر ہوتا ہے ۔ طرز فکر میں اگرپیچ ہے تو آدمی کا کردار بھی پرپیچ بن جاتا ہے ۔ طرز فکر الہٰی قانون کے مطابق راست ہے تو بندے کی زندگی میں سادگی اور راست بازی کا رفرماہوتی ہے ۔ طرز فکر اگر سطحی ہے تو بندہ سطحی طریقہ پر سوچتا ہے۔ طرزفکر میں گہرائی ہے تو بندہ شے کی حقیقت جاننے کے لئے تفکر کرتا ہے ۔

 


 

مشن

مشن کی پیش رفت کے سلسلے میں جب تک انسان ہر قسم کے دنیاوی مفاد حرص و آس، حسد، طمع، کبر و نخوت، برائی، احساس برتری اور احساس کمتری سے نجات حاصل نہیں کر لیتا اس کے اندر مشن کے لئے دیوانگی نہیں پیدا ہوتی۔

 

پاک باطن

پاک باطن نفوس کے لئے سیدنا حضورﷺ کی ذات اقدس معجزہ ہے، انہیں ایمان سے سرفراز ہونے کے لئے کسی مافوق الفطرت واقعہ کی تلاش نہی ہوتی۔

 

حمد و ثناء

تمام چیزیں جو سات آسمانوں اور زمینوں میں ہیں سب اللہ کی حمد و ثناء بیان کرتی ہیں، یہ تمام چیزیں اور مخلوقات اس بات کا علم رکھتی ہیں کہ ہمارا خالق اللہ ہے اور اس علم پر یقین رکھتے ہوئے اللہ کی حمد و ثناء بیان کرتی ہیں اور شکر ادا کرتی ہیں۔

 

حرکت

حرکت صلاحیت کا مظہر ہے اور ہر شئے کی صلاحیت الگ الگ بھی ہے اور اجتماعی بھی۔

 

کائنات

کائنات اللہ کے ذہن کا عکس ہے اللہ کے ذہن کا عکس اس کی صفات ہیں۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔