Topics

معراج

 

معراج دراصل غیبی دنیا کے انکشاف کا متبادل نام ہے۔

 

مومن

وہ مومن جو نماز میں معراج حاصل کر لیتا ہے اس کے اوپر اللہ تعالیٰ کی صفات کا نور بارش بن کر برستا ہے۔

 

نماز

نماز کی صفات سے آشنا  ہونے کے لئے اپنی روح کا عرفان حاصل کرنا ضروری ہے۔

 

نماز

نماز میں ارتکاز توجہ روح کا عرفان دل کا گداز اور اللہ سے دوستی نہ ہو تو ایسی نماز ایسے جسم کی طرح ہے جس میں روح نہیں ہے۔

 

صبر اور صلٰوۃ

صبر اور صلٰوۃ یہی دو قوتیں ہیں جن کے ذریعے ہم اپنی تمام مشکلات، آزمائشوں، تکلیفوں، ذلت و رسوائی سے نجات پا سکتے ہیں۔ اگر مسلمانوں میں یہ دو قوتیں جمع ہو جائیں تو دنیاوی بادشاہت کا سہرا ان کے سر پر سجے گا۔ دین و دنیا میں کبھی ناکام نہ ہوں گے۔

 

سرچشمہ

صلوٰۃ روحانیت کا سر چشمہ ہے۔ صلوٰۃ ایک ایسا قلعہ ہے جو برائیوں کے لشکر سے ہماری حفاظت کرتاہے۔ صلوٰۃ انسان کو تمام برائیوں سے روکتی ہے۔

تعفن

کوتاہیوں اور خطاؤں سے آدمی کثافتوں، اندھیروں اور تعفن سے قریب ہو جاتاہے اور اللہ کے نور سے دور ہو جاتاہے۔

 

مرض

 کوتاہیوں اور خطاؤں کے مرض میں جو پرہیز ضروری ہے وہ یہ ہے:

حلال روزی کا حصول، جھوٹ سے نفرت، سچ سے محبت، اللہ کی مخلوق سے ہمدردی، ظاہر اور باطن میں یکسانیت، منافقت سے دل بیزاری، فساد اور شر سے احتراز، غرور اور تکبر سے اجتناب۔ کوئی منافق، سخت دل، اللہ کی مخلوق کو کمتر جاننے والا اور خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے والا بندہ اسمائے الٰہیہ کے خواص سے فائدہ نہیں حاصل کر سکتا۔

 

حلیم الطبع

اچھے اور برگزیدہ لوگ حلیم الطبع ہوتے ہیں۔ بڑوں کا ادب کرتے ہیں اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں۔ سخت سے سخت مصیبت میں صبر سے کام لیتے ہیں۔ حالات کتنے ہی اچھے ہوں غرور اور تکبر کو اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیتے۔ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے غریبوں کی مدد کرتے ہیں اور اپنی زندگی کے ہر لمحے میں نیکی کی طرف مائل رہتے ہیں۔

 

آسمانی آفات

جب آسمان سے آفات نازل ہوتی ہیں تو پوری قوم کےذہن اور اعصاب کو متاثر کرتی ہیں ان سے بچنے کی ترکیب  یہ ہے کہ قوم کے یقین کی راہ ایک ہو۔

 


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔