Topics
اللہ
تعالیٰ کا منشاء اور مقصد یہ ہے کہ نوع انسانی کو فائدہ پہنچے ایسا فائدہ کہ جس کے
پیچھے کوئی غرض، کوئی صلہ، کوئی مقصد، کوئی لین دین اور کوئی کاروبار نہیں ہے۔
اعمال
جتنا
قرب اللہ تعالیٰ سے بندے کو ہوتا ہے اسی مناسبت سے بندے میں اللہ تعالیٰ کی طرز
فکر منتقل ہوتی رہتی ہے اور اس سے ایسے اعمال سرزد ہوتے رہتے ہیں جن سے مخلوق کو
فائدہ پہنچتا ہے۔
سکون
سکون
کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر استغناء ہو۔ استغناء کے لئے ضروری ہے کہ اللہ
تعالیٰ پر توکل ہو۔ توکل کو مستحکم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر ایمان ہو
اور ایمان کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر وہ نظر کام کرتی ہو جو نظر غیب میں
دیکھتی ہے۔ بصورت دیگر کسی بندے کو کبھی سکون میسر نہیں آ سکتا۔
سکون
ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جو یقینی ہے اور جس کے اوپر کبھی موت واقع نہیں ہوتی۔
ایسی چیزوں سے جو چیزیں عارضی ہیں، فانی ہیں اور جن پر موت وارد ہوتی رہتی ہے ان
سے ہ سکون نہیں ملتا۔
نقش
جو چیز لوحِ محفوظ پر نقش ہوگئی اس کا مظاہرہ لازم بن جاتا
ہے۔
علم
علم
کے اندررمعانی اورمفہوم اگر مثبت ہوں گے تو آدمی پرسکون زندگی گزارے گا۔ اورعلم کے
اندر معانی اور مفہوم اگر منفی ہونگے تو آدمی ایسی زندگی گزارے گا۔ جو کتے، بلیوں،
بھینس، گائے، درخت سے بھی بدتر ہو گی۔
خوشی
خوشنما
چیزیں دوسروں کو متاثر کرتی ہیں اور خوشنمائی خود انسان کے لئے ایک بہترین خوشی کا
ذریعہ ہے۔
دوستی
جس
آدمی سے آپ قریب ہونا چاہتے ہیں تو اگر اس کے عادات و اطوار اختیار کر لیں تو
دوستی زیادہ ہو گی اور اس کی عادتیں اس طرح اختیار کر لی جائیں کہ اس دوست میں اور
خود میں کوئی فرق نہیں رہے تو وہ دونوں دوست ایک جان دو قالب ہو جائیں گے۔
شعور
ہر وہ چیز جو متحرک ہے گردش کر رہی ہے اور ارتقائی منازل سے
گزر رہی ہے شعور رکھتی ہے۔
مشیت
کسی چیز کے عمل درآمد ہونے میں براہ راست اللہ تعالیٰ کی
مشیت کا عمل دخل ہے۔
خدمت
اللہ سے دوستی کرنے ہے تو مخلوق سے محبت کرو، مخلوق کی خدمت
کرو۔
شریعت
شریعت
کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے لئے وہ لائحہ عمل منتخب کرے جس لائحہ عمل سے اللہ
تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ انسان کو متعارف کرایا ہے۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
روحانیت
تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے
لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔