Topics

بنیادی کردار

 

یقین ہر کام میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

 

ہماری زندگی

ہماری زندگی عقل اور وجدان کے تابع ہے۔

 

کلیے

روحانی علوم اس کلیے  پر قائم ہیں کہ آدمی روحانی دماغ کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا سیکھ لے ۔

 

انسانی نگاہ

انسانی نگاہ اپنے عمل میں مادی عوامل کی احتیاج سے آزاد ہے۔

 

موجودات کی حرکت

موجودات کی ہر حرکت ایک دوسرے سے مربوط ہے اور ہر لمحے کی تعمیر پہلے لمحے پر قائم ہے پہلے لمحے سے دوسرا لمحہ جنم لیتا ہے اور دوسرے لمحے سے تیسرا لمحہ وجود میں آجاتا ہے۔

 

نور باطن

ضمیر  نور باطن ہے نور باطن سے استفا دہ کرنے کے لئے اللہ نے انبیاء کے ذریعے شریعتیں نافذ کی ہیں ۔

 

علم

علم اس وقت تک علم نہیں ہوتا جب تک کوئی ذات ان علوم کو انسانی دماغ پر انسپائر نہ کرے۔

 

تفرقہ

قرآن پاک کی بیان کردہ توحید داخل  میں ہونے اور اس توحید کو اپنے اوپر جاری و ساری کرنے کے لئے تعصبات کو بالائے طاق رکھنا ہوگا ۔ تفرقوں سے آزاد ہونا ہوگا۔

 

بقا کے ذرائع

بقا کے ذرائع توحید کے سوا کسی نظام  حکمت میں نہیں ملتے۔

 

ارکان

مذہب کے باطنی وصف (تفکر) کے ذریعے کوئی شخص بالآخر " صفت احسان " کو حاصل کر لیتا ہے یعنی اسے ذات باری تعالیٰ کا عرفان نصیب ہو جاتا ہے۔

 

فکر

فکر میں ذوق و شوق ، تجسس اور گہرائی کی قوتیں پیدا نہ ہوں تو ہم کوئِی بھِ علم نہیں سیکھ سکتے۔

 

تخلیق کے راز

کوئی شخص اپنی روح کی صلاحیتوں اور صفات کو تلاش کرتا ہے تو اس پر تخلیق کے راز منکشف ہوجاتے ہیں۔

عرفان نفس بالآخر ذہن میں ایسی روشنی پیدا کردیتا ہے جو خالق کی پہچان کا باعث بن جاتی ہے۔


Bare Bachon Ke Liye

خواجہ شمس الدین عظیمی


روحانیت تفکر، فہم اور ارتکاز کے فارمولوں کی دستاویز ہے۔اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے لیئے بہترین ذریعہ مراقبہ ہے۔